Header Ads

Breaking News
recent

پاکستان میں چائلڈ لیبر کی سب سے بڑی وجہ غربت ہے

پاکستان میں اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے محنت (آئی ایل او) کے نمائندے ظہیر
عارف کا کہنا ہے کہ پاکستان میں بچوں سے محنت و مشقت سے متعلق 21 سال پرانے اعدادوشمار دستیاب ہیں جن میں گھروں میں کام کرنے والے بچوں سمیت بدترین اقسام کی چائلڈ لیبر شامل نہیں ہیں۔ غیر رسمی شعبوں میں بچوں سے کروائی جانے والی محنت مشقت پر بی بی سی سے بات کرتے ہوئےانھوں نے بتایا کہ 'ہم سب جانتے ہیں کہ گھروں میں بچوں کی ایک بڑی تعداد ڈومیسٹک ورکرز کے طور پر کام کرتی ہے، اس کے علاوہ چوڑیاں بنانے کے کام سے لے کر سرجیکل آلات، کھیلوں کے سامان اور گہرے پانیوں میں ماہی گیری جیسے خطرناک پیشوں کی ایک پوری فہرست ہے جو 'ورسٹ فارم آف چائلڈ لیبر' یا بچوں سے مزدوری کی بدترین اقسام میں آتے ہیں لیکن اس کے بارے میں کوئی اعدادوشمار نہیں ہیں۔'

واضح رہے کہ پاکستان کے ادارہ برائے شماریات نے بچوں سے محنت مشقت کےاعدادوشمار آخری بار ایک سروے کے ذریعے سنہ 1996 میں جمع کیے تھے جس کے مطابق ملک میں 33 لاکھ بچہ مزدور تھے۔ آئی ایل او کے کنونشن فار ورسٹ فارم آف چائلڈ لیبر پر پاکستان نے سنہ 2001 میں دستخط کیے تاہم اب تک اس بارے میں کوئی اعداد وشمار اکھٹے نہیں کیے جا سکے ہیں۔ انھوں نے کہا: 'تعلیم و آگہی نہ ہونے کی وجہ سے لوگوں کو اندازہ نہیں ہوتا ہے کہ بچے کے ساتھ کیا کیا ہو سکتا ہے۔ وہ ٹریفکنگ میں آ سکتا ہے، دہشت گرد کاروائیوں میں استعمال ہو سکتا ہے۔ خطرناک پیشوں میں کام کرنے کی وجہ سےاس کی جان جا سکتی ہے۔'
ظہیر عارف نے تشویش ظاہر کی کہ اعدادوشمار اکھٹے نہ کرنے کی جانب حکومتوں کی عدم توجہی کی وجہ سے اس بنیادی مسئلے کو جڑ سے ختم کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔ 'شاید یہ حکومت کی ترحیجات میں شامل نہیں ہے۔ کسی مسئلےسے نمٹے کے لیے پہلے تو ہمیں یہ پتا ہو کہ ہمارے ہاں کس حد تک چائلڈ لیبر ہے۔' آئین میں 18 ویں ترمیم کے بعد صوبوں نے چائلڈ لیبر سے متعلق قانون سازی تو کی ہے لیکن اس پر سختی سے عمل درآمد کرانے کے ایک مربوط میکینزم بنانے کی ضرورت ہے۔ صوبوں کےمحکمہ لیبر کی استعداد بڑھانے پر زور دیتے ہوئے ظہیرعارف نےکہا کہ 'محکمہ لیبر کے پاس انسپکٹرز موجود ہیں لیکن انھیں اتنی آگہی نہیں ہے جتنی کہ ضرورت ہے۔ (آئی ایل او) اس سلسلے میں ان کی تربیت کرتا ہے۔'
بچہ مزدوری کی وجوہات پر بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ پاکستان سمیت تمام ترقی پذیر ممالک میں یہ بات قابل قبول ہے کہ بچوں سے کام کرایا جائِے۔ 'سب سے بڑی وجہ غربت ہے۔ یہ ایک شیطانی چکر ہوتا ہے جس سے نکلنا بہت مشکل ہے۔ بچوں کو کام پر اس لیے رکھا جاتا ہے کہ ایک بالغ آدمی کو انھیں پوری مزدوری دینا پڑے گی جبکہ بچہ سستے میں یا مفت میں کام کر دے گا۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ بچہ ایک نوجوان کی نسبت زیادہ دیر تک اور زیادہ انرجی کے ساتھ کام کرتا ہے جس سے زیادہ سے زیادہ کام لیا جا سکتا ہے۔'

بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کی صورت میں آئی ایل او کا کیا لائحہ عمل ہوتا ہے؟ اس پران کا مؤقف تھا کہ'عام طور پر حکومتیں جن کنونشنز پر دستخط کرتی ہیں ان کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ ان پر پوری طرح سےعمل کریں۔ خلاف ورزی کی صورت میں متعلقہ حکومت کو مطلع کیا جاتا ہے اور ادارہ میکینزم بنانے میں ان کی مدد کرتا ہے۔' انھوں نے سیالکوٹ میں سرجیکل آلات کی صنعت میں کسی حد تک بچہ مزدوری کنٹرول کرنے کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ' ہم نےسیالکوٹ چیمبرآف کامرس، ایمپلائیز ایسوسی ایشنز، ٹریڈ یونینزاور ورکرز فیڈریشن کےساتھ مل کرکام کیا تا کہ آجر اور مزدور دونوں کی یونین کے نمائندگان کو آگاہی دی جا سکے۔'

شمائلہ خان
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

No comments:

Powered by Blogger.