Header Ads

Breaking News
recent

چترال کا صدیوں پرانا شاہی قلعہ

چترال کا موسم کافی گرم تھا لیکن قلعے کی طرف جانے والی سڑک پر قدیم اور گھنے چنار کے پیڑوں کا سایہ فرحت بخش تھا۔ بہت سے مقامی لوگ قلعے کی طرف جا رہے تھے۔ قلعے سے پہلے میدان میں کوئی اہم فٹ بال میچ تھا۔ اور چترال کی ساری مذکر آبادی ادھر ہی رواں تھی۔ سڑک سے اترتے ہی پہلے بائیں ہاتھ شاہی مسجد آتی ہے اور اس سے آگے شاہی قلعہ۔ ہم پہلے قلعے کی اور چلے اس خطے میں قلعے ویسے نہیں ہوتے جیسا قلعہ لاہور ہے، پرہیبت اور پروقار بل کہ یہ ایک مستطیل یا چوکور احاطہ ہوتا ہے جس کی دیواریں مٹی پتھر اور چوبی شہتیروں سے اٹھائی جاتی ہیں اور بہت زیادہ بلند بھی نہیں ہوتیں۔ چاروں کونوں پر نگہبانی کے چورس برج ہوتے ہیں اور اندر عام رہائشی تعمیرات۔ 

چترال صدیوں سے یورپی اور ایشیائی حکمرانوں کی راہ گزر رہا ہے۔ کیوں کہ یہ چین اور شمالی مغربی ہندوستان کے درمیان شارٹ کٹ تھا۔ اس لیے بے حد اہم راستہ تھا۔ چنانچہ پہلے یہاں بدھ آئے پھر اسماعیلی آئے، ان کے بعد عرب آئے۔ برصغیر پر انگریز قابض ہوئے تو چترال بھی ان کے زیر نگیں رہا۔ مارکوپولو خود تو چترال نہیں آیا لیکن اپنے چین کے سفرنامے میں اس کا ذکر ضرور کرتا ہے۔ اب ایسی اہم جگہ پر قلعے تو ہوں گے ہی۔ لیکن چترال کے قلعے کا داخلی دروازہ چھوڑ کر، جواب بھی، اپنی تمام تر خستہ حالی اور بدحالی کے باوجود، خوش نما ہے۔ باقی قلعہ مضحکہ خیز حد تک ازکار رفتہ اور غیر دل چسپ ہے۔ مرے پہ سو درے اب مقامی پولیس اسے اپنے تصرف میں لیے ہوئے ہے اور سیاح کو مرکزی پھاٹک پر ’’رہائشی عمارت۔ داخلہ بند ہے۔‘‘ کی تختی ٹنگی ملتی ہے۔ اور اگر کوئی پھر بھی اندر جانے کی کوشش کرے تو اسے سختی سے روک دیا جاتا ہے۔

 یہاں چنار کے گھنے، قدیم اور کافی بلند پیڑ تھے۔ ہم قلعے سے متصل ایک مہنگے ہوٹل کے سیبوں اور اخروٹوں کے پیڑوں سے بھرے باغیچے کے گرد گھوم کر دریائے کونار پر چلے گئے۔ سرمئی دریا بڑی تیزی سے بہہ رہا تھا۔ دریا کا مشرقی کنارہ شام کی دھوپ میں چمک رہا تھا۔ پہاڑ خشک اور زرد تھے جن کی ڈھلوانوں پر آبادیاں تھیں۔ ہوا تیز تھی اور ہم کچھ دیر پتھروں پر بیٹھے کونار کے ٹھنڈے پانی میں پائوں بھگوتے اور چھوٹے چھوٹے کنکر دریا میں اچھالتے رہے۔پھر ہم ایک کھڑکی سے قلعے کے اندر داخل ہو گئے۔ یہ ایک تاریک راہ داری تھی جس کی اونچی چھت اندھیرے میں گم تھی۔ دائیں بائیں زمین سے اونچے برآمدے تھے جنہیں بھاری ستون سہارا دئیے تھے۔ برآمدوں کی بالائی منزل پر رہائشی کمرے تھے۔ جن کے آگے پردے ٹنگے تھے۔ آگے صحن تھا جس میں بڑھی ہوئی گھاس، چند پیڑ اور گندگی کے ڈھیر تھے۔ اردگرد منہدم کمرے تھے جیسے دیہاتی مکتبوں میں ہوتے ہیں۔ پیچھے کمرے آگے لکڑی کے برآمدے بلکہ ان کا ملبہ۔ 

قلعے کا عقبی دروازہ ایک شکستہ بالکنی پر کھلتا تھا جس کی ریلنگ غائب ہو چکی تھی۔ کافی نیچے گھاس کا میدان تھا جس کے پار دریائے کونار بہہ رہا تھا۔ بائیں ہاتھ شمال مشرقی برج کا خستہ دروازہ تھا۔ ہم کنڈی کھول کر اندر داخل ہوئے جہاں کافی کھلی اور پست سیڑھیاں بل کھاتی اوپر جاتی تھیں۔ ہوا میں پرانی مٹی کی بُو تھی اور دیواریں چھونے پر خنک محسوس ہوتی تھیں۔ سوکھے پتوں اور مٹی سے ڈھکی سیڑھیوں پر بے آواز چڑھتے ہم اوپر آئے۔ اوپر ایک چوکور کمرہ تھا جس کی چھت جگہ جگہ سے اور فرش کہیں کہیں سے ٹوٹا ہوا تھا۔ اس کمرے کے چاروں طرف لکڑی کا برآمدہ تھا۔ میں چاروں طرف گھوم کر تصویریں بنانے لگا۔ سامنے شاہی مسجد کے دو گنبد اور مینار نظر آتے تھے۔ میں نے وہیں بلندی سے کچھ لمحے منہدم قلعے کے آثار دیکھا. کیا دیواریں، چھتیں، تہہ خانے، کھڑکیاں، دروازے، سب شکستہ، اجاڑ اور خاموش بے جان سے تھے جن سے یہ قلعہ آباد تھا وہ کہاں گئے۔

(کتاب’’بستی بستی پربت پربت ‘‘سے منقبس)  

No comments:

Powered by Blogger.