Monday, March 27, 2017

KHAWAJA UMER FAROOQ

پاکستان میں کم سِن گھریلوں ملازمین تشدد کا شکار کیوں بنتے ہیں؟

ماں باپ کا سہارا بننے کے لیے گھر سے نکلنے والی رضیہ تین مہینے بعد گھر
لوٹی تو لہولہان تھی۔ فیصل آباد میں گھریلو ملازمہ کے طور پر کام کرنے والی رضیہ کا ایک ہی قصور تھا: روٹی جلنا۔ رضیہ ان ہزاروں پاکستانی بچوں میں شامل ہے جو غربت کے باعث لوگوں کے گھروں میں کام کرنے پر مجبور ہیں، کبھی قرضہ اتارنے کے لیے تو کبھی گھر کے معاشی حالات سدھارنے کے لیے۔ رضیہ کا تعلق فیصل آباد کے گاؤں بچیانہ سے ہے اور وہ فیصل آباد کے ایک متمول گھرانے میں ملازم تھیں۔ رضیہ نے خود پر ہونے والے تشدد کے بارے میں بتایا۔

'میں روٹی بنانے گئی تو روٹی جل گئی۔ مالکن نے بہت مارا۔ میں ڈر کر چھت پر چھپنے کے لیے بھاگی۔ لیکن وہ مجھے چھت سے کھینچتے ہوئے نیچے لے آئی۔ پھر شیشے کی بوتل میرے سر پر دے ماری۔ دوسری بار مارنے لگی تو میں نے ہاتھ آگے کر دیا۔ میرے ہاتھ پر لگی اور میں بری طرح زخمی ہو گئی۔ لیکن وہ نہیں رکی، اس کے بعد اس نے مجھے چھری ماری۔' پاکستان میں نابالغ بچوں کو گھروں میں ملازم رکھنا عام ہے۔ مگر ان کم عمر بچوں کے بنیادی حقوق اور تحفظ کے لیے کوئی قانون موجود ہی نہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں گھریلو ملازمین بالخصوص بچوں پر تشدد کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے۔
گذشتہ برس پاکستان 167 ممالک کے گلوبل سلیوری انڈیکس یعنی غلامی کے عالمی اشاریے میں چھٹے سے تیسرے نمبر پر آ گیا تھا۔ ڈومیسٹک ورکرز یونین کے سیکریٹری مختار اعوان نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ معاشرتی بے حسی اور معاشی مجبوری کے باعث پاکستان میں کم عمر بچوں سے مشقت کروانا ایک ایسا جرم ہے میں خود والدین اعانت جرم کے مرتکب ہیں۔
'یہ لوگ دیہی علاقوں سے آتے ہیں اور انتہائی غریب لوگ ہوتے ہیں۔ کچھ پیسوں کے عوض اپنے بچوں کو دوسروں کے گھروں میں کام کرنے کے لیے چھوڑ آتے ہیں۔ گھریلو ملازمین میں زیادہ ترچھوٹی عمر کی بچیاں رکھی جاتی ہیں کیونکہ نہ اس نے بولنا ہے اور نہ ہی کسی چیز سے انکار کرنا ہے۔ گھریلو ملازمین پر تشدد کے تقریباً 80 سے 90 فیصد کیس رپورٹ ہی نہیں ہوتے۔'

مبینہ تشدد کے بعد رضیہ کے گھر والوں نے اس کے خلاف آواز بلند کرنے کی بہت کوششیں کیں۔ رضیہ کے والد نے تھانے کے متعدد چکر لگائے لیکن ایف آئی آر تک نہ کٹی۔ محمد اسلم کا کہنا تھا کہ انصاف صرف امیروں کو ہی ملتا ہے۔ 'غریب ہیں، جس تھانے میں بھی جاتے ہیں وہ آگے کہیں اور بھیج دیتے ہیں۔ وہ امیر لوگ ہیں انہوں نے پیسے دیے ہوئے ہیں، ہمارے پاس کوئی پیسہ نہیں، اسی لیے ہماری نہیں سنی گئی۔' گلوبل سلیوری انڈیکس ترتیب دینے والے ادارے واک فری فاؤنڈیشن کے مطابق اس وقت پاکستان میں اکیس لاکھ سے زیادہ بچے جبری مشقت پر مجبور ہیں۔

اس کی بنیادی وجہ متعلقہ قانون کی عدم موجودگی ہے۔ اسی لیےاگر رضیہ جیسے متاثرین تھانے تک پہنچ بھی جائیں تو معاملہ لمبی کاغذی کارروائی کی نظر ہو جاتا ہے۔ رضیہ کا کیس فیصل آباد کے تھانے مدینہ ٹاون میں زیر تفتیش رہا۔ تاہم کئی ہفتے گزرنے کے بعد بھی ایف آئی آر تک درج نہ ہوئی۔ جب بی بی سی نے مدینہ ٹاون تھانے کے انویسٹی گیشن انچارج محمد اشرف سے اس بارے میں پوچھا تو ان کا کہنا تھا کہ کیس کی تحقیقات زخمیوں کی نوعیت کا تعین نہ ہونے کی وجہ سے رکی ہوئی ہے۔ جس کے لیے میڈیکل رپورٹ ڈیکلیئر ہونا ضروری ہے۔
رضیہ کے والدین کا کہنا ہے کہ وہ شہر سے دور رہتے ہیں مگر کرایہ نہ ہونے کے باوجود وہ تھانے کے کئی چکر لگا چکے ہیں۔ تاہم کیس میں خاطرخواہ پیش رفت نہیں ہوئی۔ شاید یہی وجہ ہے کہ طویل قانونی چارہ جوئی سے بچنے کے لیے عام طور پر اس طرح کے معاملات میں کچھ رقم لے دے کر معاملہ رفع دفع کر دیا جاتا ہے۔ مختار اعوان کا کہنا ہے اس کیس میں بھی رضیہ کے والدین کو بالآخر صلح کرنی پڑی۔

حنا سعید
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہو

KHAWAJA UMER FAROOQ

About KHAWAJA UMER FAROOQ -

Stand Up for What is Right Even If You Stand Alone.

Subscribe to this Blog via Email :