Saturday, January 14, 2017

KHAWAJA UMER FAROOQ

تمباکو نوشی سالانہ ایک کھرب ڈالر اخراجات

عالمی ادارہء صحت نے اپنی تازہ مطالعاتی رپورٹ میں کہا ہے کہ تمباکو نوشی عالمی اقتصادیات پر سالانہ ایک کھرب ڈالر سے زائد کے بوجھ کا باعث بن رہی ہے اور اس سے ہونے والی بیماروں سے اموات کی شرح میں 2030ء تک ایک تہائی اضافہ ہو جائے گا۔ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے اندازوں کے مطابق عالمی سطح پر سال 2013، 2014 میں تمباکو پر عائد ٹیکسز کی مد میں 296 ارب ڈالر حاصل ہوئے تھے لیکن اس کے منفی اثرات کا تخمینہ اس سے کہیں زیادہ ہے۔رپورٹ میں کہا گیا کہ ’’تمباکو سے ہونے والی بیماریوں سے اموات 60 لاکھ سالانہ سے 2030ء تک 80 لاکھ سالانہ ہونے کا اندازہ ہے اور ان میں سے 80 فیصد کا تعلق کم اور متوسط آمدن والے ممالک سے ہے‘‘مطالعے کے مطابق دنیا بھر میں تمباکو نوشی کرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ تمباکو نوشی عالمی سطح پر قابل علاج بیماریوں سے ہونے والی اموات کی سب سے بڑی وجہ ہے۔ اس مطالعے میں 70 سے زائد سائنسی ماہرین سے بھی مشورہ کیا گیا اور اس کے مندرجات کا ان سے تبادلہ کیا گیا۔ اس میں مزید بتایا گیا کہ’’ہر سال تمباکو نوشی کے باعث ہونے والی بیماریوں کے علاج پر تقریباً ایک کھرب ڈالر کے اخراجات آتے ہیں‘‘ رپورٹ میں ان اخراجات کے بڑھنے کی توقع ظاہر کرتے ہوئے کہا گیا کہ گو کہ حکومتوں کے پاس تمباکو نوشی اور اس سے ہونے والی اموات میں کمی کے لیے ذرائع موجود ہیں لیکن ان میں سے بہت ہی کم پر عملدرآمد کیا جا رہا ہے۔

’’حکومتوں کو خدشہ ہے کہ تمباکو نوشی کو ضابطے میں لانے سے اقتصادیات پر منفی اثرات مرتب ہوں گے لیکن یہ وضاحت کسی طور بھی درست نہیں۔ سائنس بالکل واضح ہے، یہ عمل کرنے کا وقت ہے‘‘تمباکو نوشی پر قابو پانے کے لیے اس صنعت پر بھاری ٹیکسز اور اس کی قیمتوں میں اضافے کے علاوہ اس کی ممانعت سے متعلق مہم چلانے پر زور دیا گیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ تمباکو پر عائد ٹیکسز سے حاصل ہونے والی رقم کو انسداد تمباکو نوشی کی بھرپور مہم پر خرچ کرنے کے ساتھ ساتھ طبی سہولتوں میں تعاون کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ ڈبلیو ایچ اور کے اندازوں کے مطابق سال 2013، 2014 میں حکومتوں نے انسداد تمباکو نوشی پر ایک ارب ڈالر رقم خرچ کی -  

KHAWAJA UMER FAROOQ

About KHAWAJA UMER FAROOQ -

Stand Up for What is Right Even If You Stand Alone.

Subscribe to this Blog via Email :