Monday, October 3, 2016

KHAWAJA UMER FAROOQ

پاک چین دوستی زندہ باد : چین کا پاکستان کے حق میں اقدام

چین نے ایک بار پھر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں مولانا مسعود اظہر کو
دہشت گرد قرار دلوانے کی بھارتی کوشش کو ناکام بناتے ہوئے تکنیکی رکاوٹ میں توسیع کر دی۔ بھارت نے مارچ میں سلامتی کونسل کی 1267 کمیٹی میں مولانا مسعود اظہر کو دہشت گرد قرار دینے کی قرار داد پیش کی تھی جس کی سلامتی کونسل کے 14 ارکان نے حمایت کی تھی جب کہ صرف چین نے تکنیکی رکاوٹ ڈالی تھی جس کی مدت آج (پیر) کو ختم ہورہی ہے‘ اس دوران چین کی جانب سے مزید اعتراضات نہیں اٹھائے گئے‘ اس صورتحال میں ڈیڈ لائن ختم ہونے پر بھارتی قرارداد خود بخود منظور ہو جاتی مگر چین نے ایک روز قبل تکنیکی رکاوٹ میں مزید 6 ماہ کی توسیع کر دی۔ چینی وزارت خارجہ کے ترجمان کے مطابق چین کا ہمیشہ سے ہی یہی موقف رہا ہے کہ 1267 کمیٹی کو اپنے اصولوں پر قائم رہنا چاہیے اور ٹھوس شواہد کی بنیاد پر سلامتی کونسل کے تمام ارکان سے مشاورت کے بعد اپنا فیصلہ دینا چاہیے‘ اپنے تحریری جواب میں چین کا کہنا تھا کہ مسعود اظہر کے خلاف قرارداد کے حوالے سے اعتراضات موجود ہیں‘ قرار داد کو مزید چھ ماہ کے لیے تکنیکی بنیادوں پر روکنے کا مقصد کمیٹی کو وقت دینا ہے تاکہ متعلقہ فریقین کے ساتھ سنجیدگی سے بات چیت کی جا سکے۔
بھارت پاکستان کے خلاف روز نت نئے شوشے چھوڑتا رہتا ہے‘ کبھی وہ سلامتی کونسل میں مولانا مسعود اظہر کو دہشت گرد قرار دلانے کے لیے قرارداد پیش کرتا ہے تو کبھی اوڑی سیکٹر پر حملے کی آڑ میں سرحدوں پر فائرنگ اور گولہ باری شروع کر کے سرجیکل اسٹرائیکس کا دعویٰ کر ڈالتا ہے تو کبھی سندھ طاس معاہدہ توڑ کر پاکستان کا پانی بند کرنے کی دھمکیاں دینا شروع کر دیتا ہے۔ جب سے مودی برسراقتدار آئے ہیں انھوں نے پاکستان کی جانب سے مذاکرات کی دعوت کا کبھی مثبت جواب نہیں  دیا۔ پہلے انھوں نے یہ شوشہ چھوڑا کہ اگر مذاکرات کرنے ہیں تو کشمیر کو اس میں سے مائنس کر دیا جائے پھر انھوں نے مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے الیکشن جیتنے کی ہر ممکن کوشش کی‘ اس دوران ایسی خبریں سامنے آئیں کہ مودی مقبوضہ کشمیر کو آئینی طور پر بھارت کا مستقل حصہ بنانے کے لیے سرگرم ہیں مگر مقبوضہ کشمیر کے ہونے والے الیکشن میں شکست نے ان کے ان ارادوں پر پانی پھیر دیا۔ پاکستان کا پانی روکنے کی دھمکیاں منظرعام پر آنے کے بعد چین نے بھارت پر واضح کر دیا کہ اگر اس نے ایسا کیا تو وہ بھی دریائے برہما پترا کا پانی روک لے گا‘ اب ایسی خبریں سامنے آ رہی ہیں کہ چین نے دریائے برہما پترا کے معاون دریا کا پانی بند کر دیا جس سے بھارت اور بنگلہ دیش متاثر ہونگے‘ چین ایک منصوبے کے تحت اس دریا کا پانی آبپاشی کے لیے استعمال کرنے کے علاوہ یہاں بجلی پیدا کرے گا‘ یہ زیر تعمیر ہائیڈرو پروجیکٹ 2019 میں مکمل ہو گا۔

بھارتی میڈیا کے مطابق اس منصوبے کی تعمیر سے دریائے برہما پترا کے پانی میں 36 فیصد کمی واقع ہو گی جس کے نتیجے میں بھارت کی ارونچل پردیش سمیت پانچ بڑی ریاستوں میں پانی کی شدید قلت پیدا ہو جائے گی۔ ادھر بھارت کنٹرول لائن پر اپنی جارحیت سے باز نہیں آیا اور اس نے ہفتے کی صبح بھمبر سیکٹر میں شہری آبادی پر بلااشتعال فائرنگ کا سلسلہ شروع کر دیا جو چار گھنٹے جاری رہا‘ پاک فوج کی جانب سے بھرپور جوابی کارروائی کے باعث بھارتی توپیں خاموش ہو گئیں۔ پاک فوج کی جانب سے پاکستانی میڈیا کے نمایندوں کو ہفتے کو کنٹرول لائن کا دورہ کرایا گیا‘ اس موقع پر ڈی جی آئی ایس پی آر نے سرجیکل اسٹرائیکس کے بھارتی دعوے کو بے نقاب کرتے ہوئے کہا کہ سیز فائر کی خلاف ورزی پر بھارتیوں کو جو جواب ملا اس میں ان کی ہلاکتیں بھی ہوئیں لیکن بھارت اسے چھپا رہا ہے۔

اقوام متحدہ مبصرین صورت حال کا جائزہ لے رہے ہیں اگر بھارت نے نقصان پہنچایا تو دکھائے وہ کہاں ہے۔ چین نے ہر مشکل موقع پر پاکستان کا ساتھ دیا ہے بھارت کی طرف سے پاکستان کو جنگ اور پانی بند کرنے کی دھمکیوں کے جواب میں چین نے واضح کر دیا کہ وہ ایسا ہونے کی صورت میں پاکستان کا ساتھ دے گا۔  بھارت کے جارحانہ اور جنگی عزائم کے باعث پورے خطے کی سلامتی خطرے میں پڑ چکی ہے‘ تناؤ اور کشیدگی کی اس صورت حال کو ختم کرنے کے لیے عالمی قوتیں بھی کوئی موثر کردار ادا نہیں کر رہیں۔ بھارت کو اس کے جارحانہ عزائم سے روکنے کے بجائے پاکستان پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے کہ وہ دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کرے جب کہ یہ حقیقت سب پر عیاں ہے کہ پاکستان دہشت گردوں کے خلاف بڑے پیمانے پر پہلے ہی سے جنگ لڑ رہا ہے۔ رہی سہی دہشت گردی کے خاتمے کے لیے افغانستان اور خطے کے دیگر ممالک کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہو گا‘ صرف پاکستان پر الزامات لگانے سے مسائل حل نہیں ہوں گے۔

ایڈیٹوریل ایکسپریس نیوز

KHAWAJA UMER FAROOQ

About KHAWAJA UMER FAROOQ -

Stand Up for What is Right Even If You Stand Alone.

Subscribe to this Blog via Email :