Monday, October 17, 2016

KHAWAJA UMER FAROOQ

کرم پور : ضلع وہاڑی اور تحصیل میلسی کا قصبہ

ضلع وہاڑی اور تحصیل میلسی کا یہ قصبہ میلسی سے وہاڑی جانے والی سڑک پر ۲۲ کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ یہ قصبہ شیر شاہ سوری کے زمانے میں دریائے ستلج سے صرف پانچ کلو میٹر دُور آباد ہوا۔ پرانی جرنیلی سڑک کی موجودگی اس کا بڑا ثبوت ہے۔ یہ قصبہ کرم داد خان داد پوترا کے نام سے ’’کرم پور‘‘ مشہور ہوا۔ کئی مرتبہ عروج و زوال کا شکار ہوا۔ کئی خاندان آباد ہوئے اور نقل مکانی کرتے رہے۔ بورانہ، وسیر اور راجپوت یہاں کی اہم قومیں ہیں۔ محلہ آرائیاں، سکھوں والا، مندر والی گلی، نئی آبادی، پرانا لُڈن روڈ اور ٹبہ نہر والا محلہ یہاں کی رہائشی بستیاں ہیں جبکہ مین بازار اور سکھوں والا بازار تجارتی مراکز ہیں۔ قیامِ پاکستان سے قبل ہندو اور سکھ یہاں کافی تعداد میں آباد تھے جو نقل مکانی کرکے بھارت چلے گئے اور ان کی جگہ مسلمان مہاجرین آ بسے۔ یہاں رنگین چارپائیوں کا کام عام ہوتا ہے۔ 
کئی مرتبہ ستلج دریا کے سیلاب کی وجہ سے نقصان پہنچا۔ کپاس، گندم، سورج مکھی اور چاول علاقے کی اہم فصلیں ہیں۔ ایک کاٹن ملز، متعدد جننگ فیکٹریاں اور برف کے کارخانے ہیں۔ یہاں طلباء کا ہائیر سکینڈری ، طالبات کا ہائی سکول، ہسپتال، قومی بنکوں کی شاخیں اور ٹیلیفون ایکسچینج موجود ہیں۔ یہاں کی معقول تعداد فوج میں ملازمت پیشہ ہے۔ اس کے مضافات میں پیر چشتی، پیر کوڑے شاہ، پیر ولی بہار اور پیر مخدوم ذکریا کے مزارات ہیں۔ راول کرم پوری ایک شاعر کی حیثیت سے یہاں شناخت رکھتے ہیں۔ کرم پور کی آبادی ۱۹۹۸ء کی مردم شماری کے مطابق ۹۹۵۰ نفوش پر مشتمل تھی۔ جب اس کی موجود آبادی ۱۳ ہزار کے لگ بھگ ہے۔

اسد سلیم شیخ

 (کتاب ’’نگر نگر پنجاب:شہروں اور قصبات کا جغرافیائی، تاریخی، ثقافتی اور ادبی انسائیکلوپیڈیا‘‘ سے مقتبس) 

KHAWAJA UMER FAROOQ

About KHAWAJA UMER FAROOQ -

Stand Up for What is Right Even If You Stand Alone.

Subscribe to this Blog via Email :