Tuesday, September 27, 2016

KHAWAJA UMER FAROOQ

سبی میلہ

یہ تاریخی میلہ ایک طویل عرصہ سے منعقد ہو رہا ہے۔ شہر سبی درہ بولان کے
دھانے پر واقع ایک قدیم شہر ہے۔ زمانہ قدیم میں یہ شہر برصغیر پاک و ہند میں داخلے کے لیے افغانیوں اور ایرانیوں کی گزر گاہ کے طور پر استعمال ہوتا رہا۔ انگریز دور حکومت میں یہ شہر افغانستان جانے کے لیے بھی استعمال ہوا۔ کچھ تاریخ دانوں کے مطابق اس خطہ میں اسلام سے پہلے یہ شہر قلات کے ساتھ ملحق تھا اور ہندو آبادی اسے ’’سیواس‘‘ کے نام سے پکارتی تھی۔ یہاں مشہور ہندو راجا سہرا رائے کی حکومت تھی اس کا دارالحکومت اسور شہر تھا یہ شہر موجود بھکر کے نزدیک تھا بعد ازاں مسلمانوں کے ساتھ مکران کے مقام پر جنگ میں یہ راجہ مارا گیا اور یہ حکومت مشہور راجہ داھرکے باپ کے ہاتھ میں چلی گئی 
محمد بن قاسم کے زمانے میں سبی مسلمانوں کے دائرہ حکومت میں شامل تھا۔
اس کے بعد اس شہر نے کئی دور حکومت دیکھے اور پھر 1739ء میں یہ برصغیر کے مغربی صوبوں کے ساتھ منسلک ہوگیا۔ خان آف قلات میر محبت خان کے دور حکومت میں شہر قلات میں شامل ہوا ان کے والد میر عبد اللہ خان سندھ حکمران نور محمد کلہوڑہ کے ساتھ ایک طویل لڑائی کے نتیجے میں مارے گئے تھے۔ کچھ تاریخ دانوں کی تحقیق کے مطابق سبی شہر کا نام ایک ہندو شہزادی سیوا رانی کے نام پر رکھا گیا، لیکن تاریخ میں اس کا کوئی ٹھوس ثبوت نہیں ملتا۔ اس شہر کے مقامی لوگ اب تک اس شہر کو سیوا کے نام سے ہی پکارتے ہیں۔ اس علاقے کے لیے خان آف قلات اور اس کی بہن شہزادی بہنجا نے 17 حملوں کا مقابلہ کیا۔ شہزادی اس شہر کے محاصرے کے دوران ہی وفات پاگئی۔ 1834ء میں انگریزوں نے اس علاقے کی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے پہلی افغان جنگ میں اسے مرکز کے طور پر استعمال کیا۔ یہ تو ہوا اس شہر کا ایک مختصر سا تعارف، اب ذرا اس شہر کے مشہور سبی میلے کے تاریخی پس منظر کو بیان کریں اس میلے کے بارے میں بھی تاریخ دان مختلف الرائے ہیں کہ یہ کب اور کیسے شروع ہوا۔اشیاء کے بدلے اشیاء کے اصول پر اس میلے میں تجارت کی جاتی تھی۔

یہ شہر ایران، افغانستان، ترکی اور وسطی ایشیاء کے ممالک کے تاجر حضرات کے لیے ایک بہت بڑا مرکز تھا یہ تاجر اس شہر میں اپنا مال لے کر اکٹھے ہوتے اور اشیاء کا باہمی تبادلہ کر لیتے۔ کچھ کے خیال کے مطابق یہ میلہ بلوچستان کے عظیم ہیرو میر چاکر خان رند کے دور حکومت میں شروع ہوا، جو اکثر اس ماہ میں قبائل کو اکٹھا کرتے تھے تا کہ آپس کے تنازعات طے پاسکیں۔ ضلعی گزٹ کے مطابق 1885ء میں یہاں پہلا افغان گھوڑوں کی فروخت کا میلہ منعقد ہوا۔ میر چاکر خان رند نے سبی کو اپنا دارالحکومت بنایا اور یہاں ہر سال قبائلی سرداروں اور دیگر شعبوں سے تعلق رکھنے والے ماہرین اور قابل تعریف افراد کو اکٹھا کیا جانے لگا۔ ان سربراہان کے ہمراہ بہت سے ملازمین اور کاروباری افراد آتے جو اپنی وقت گزاری کے لیے کچھ نہ کچھ شغل کرتے رہتے ،ان اوقات میں مقامی لوگوں کے علاوہ پنجاب اور سندھ کے تاجر حضرات بھی اپنے مویشیوں کے ہمراہ میلے میں شرکت کرنے لگے۔ آہستہ آہستہ یہ میلہ میلہ اسپاں و مویشیاں کی صورت اختیار کر گیا۔

انگریزوں کے دور میں سبی حکومت کا سرمائی دارالحکومت بن گیا۔ انہوں نے علاقے میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کے لیے اس میلے کو استعمال کیا اور اس میلے کے شرکاء اور معززین کو نقد رقوم اور اعزازت سے بھی نوازا جانے لگا۔ علاقے کے سرداروں کے لیے لازم کر دیا گیا کہ وہ اپنی بگھی کو میلے میں خود کھینچیں ،اکثر نے بغیر کسی ہچکچاہٹ کے اس فیصلے کو قبول کیا ،لیکن چند سرداروں نے اسے بے عزتی قرار دیا اور انکار کر دیا۔ گورنر جنرل کا علاقائی ایجنٹ ایک سالانہ شاہی جرگہ بلاتا اور ان قبائلی سرداروں کو اعزازی تلوار یں اور انعامات دیئے جانے لگے جو برطانوی حکومت کے لیے خدمات انجام دیتے۔ پاکستان بننے کے بعد بھی یہ سلسلہ بدستور جاری رہا شاہی جرگے کا نام بدل کر سبی دربار رکھ دیا گیا۔

شیخ نوید اسلم

 (پاکستان کی سیر گائیں)

KHAWAJA UMER FAROOQ

About KHAWAJA UMER FAROOQ -

Stand Up for What is Right Even If You Stand Alone.

Subscribe to this Blog via Email :