Header Ads

Breaking News
recent

بھارت میں دلتوں کی زندگی اجیرن

غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق بھارت میں ظلم،غربت اور سماجی تفریق کے شکار نچلی ذات کے ہندو تیزی سے دیگر مذاہب میں داخل ہورہے ہیں جن میں سب سے زیادہ افراد اسلام کی طرف راغب ہورہے ہیں۔ 1950ء میں بھارت نے ہندو ذات پات کو ختم کر دیا تھا، لیکن اس کے باوجود صدیوں پرانی تفریق اور تعصب بھارتی معاشرے میں موجود ہے۔ بھارت کی ایک ارب 20 کروڑ کی آبادی میں 84 فیصد ہندو ہیں اور اب بھی برہمن، کیشتریا، ویشیا اور شودر جیسے طبقات میں تقسیم ہیں جب کہ دلت (نچلی ذات) یا شودر بھارتی کچرا اْٹھانے اور صفائی وغیرہ کے کام کررہے ہیں اور اسی بنا پر ان کی بڑی تعداد اسلام کی جانب مائل ہورہی ہے اور اس کے علاوہ ان کی تعداد سکھ اور عیسائیت کی جانب بھی راغب ہو رہی ہے۔

دلت افراد کی عام شکایت یہ ہے کہ ملازمتوں میں ان کا کوئی حصہ نہیں ہوتا اور وہ صرف غلاظت اٹھانے اور لاشوں کو ٹھکانے لگانے کا کام کرتے ہیں۔ بھارت کے دیگر علاقوں کے دلت افراد بدھ ازم سمیت دیگر مذاہب اختیار کر رہے ہیں، جبکہ مدھیا پردیش میں دلت افراد کی سب سے زیادہ تعداد اسلام قبول کر رہی ہے۔رپورٹ کے مطابق اسلام قبول کرنے والے ایک شخص عبدالرحمان کا کہنا تھا کہ دلت سے مسلمان ہونے کے بعد ان کے پرانے مذہب کے افراد نے ان پر قاتلانہ حملہ کیا،جس میں ان کے پیر اور سینے پر گولیاں ماری گئیں۔
انڈیا کی ریاست گجرات میں حال ہی میں گؤ رکشک کی جانب سے بھرے بازار میں تشدد کرنے کے خلاف احتجاج کے طور پر 30 سے زیادہ دلت افراد نے خودکشی کی کوشش کی ہے۔ بھارت میں ہندو نوجوانوں نے’گؤ رکشک‘ کمیٹیاں بنالی ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو گائے کو مقدس مانتے ہیں اور اکثر گائے کی حفاظت کے نام پر قانون کو اپنے ہاتھوں میں لینے سے پرہیز نہیں کرتے۔ گزشتہ چند مہینوں میں کہیں گؤ کشی تو کہیں گائے کی سمگلنگ کے الزام میں کئی مرتبہ مسلمانوں کو نشانہ بنایا گیا ہے،لیکن اس مرتبہ نشانے پر دلت نوجوان تھے۔ نچلی ذات کی دلت برادری کا کہنا ہے کہ گؤ رکشک نے چار دلت افراد کو تشدد کا نشانہ بنایا اور اس کے خلاف وہ احتجاج کے طور پر خود کشی کر رہے ہیں۔ ایک تازہ ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ چار دلت افراد جن کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ چمڑے کے کارخانے میں کام کرتے تھے، گؤرکشک کے کارکنان نے ننگا کر کے لاٹھیوں سے مارا۔ اس واقعے کے بعد دلت برادری نے مظاہرے کئے۔ ایک دلت شخص مہیش راجہ راٹھور جنھوں نے خودکشی کی کوشش کی، ان کے والد کا کہنا ہے کہ ہاں یہ درست ہے کہ ہمیں تعصب کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ آج تک ہم گاؤں میں اونچی ذات کے لوگوں کے ساتھ بیٹھ کر کھانا نہیں کھا سکتے۔ آپ نے شاید اخباروں میں پڑھا ہو گا کہ گجرات میں دلتوں کے ساتھ کتنا خراب سلوک کیا جاتا ہے۔ یہ واقعات رک نہیں رہے۔

دلت اس طبقے کو کہا جاتا ہے جسے صدیوں سے ہندو معاشرے میں اتنا نیچ سمجھا جاتا تھا کہ وہ اس کے سماجی نظام میں بھی شامل نہیں تھے۔ ہندو معاشرہ زمانہ قدیم سے چار طبقوں میں تقسیم تھا، برہمن یا پجاری، شتریہ یا حکمراں، ویشیہ یا تاجر اور شودر یا وہ نام نہاد نیچی ذاتیں جو ان باقی تینوں طبقوں کی خدمت گزار تھیں، لیکن اس کے باوجود اچھوت مانی جاتی تھیں۔ دلت وہ لوگ ہیں جنہیں شودر کے زمرے سے بھی باہر رکھا گیا۔ (انہیں اے ورن کہا جاتا تھا، یعنی وہ لوگ جو طبقاتی یا ورن نظام میں شامل ہی نہیں تھے)، لیکن اب وقت بدل گیا ہے۔ دلتوں کو بھی ووٹ کا حق حاصل ہے اور اتر پردیش اور گجرات میں ان کے ووٹ فیصلہ کن ثابت ہوتے ہیں۔ اس لئے اب سب کو ان کی فکر ہے۔ روایتاً بی جے پی اونچی ذاتوں کی پارٹی ہے، لیکن گزشتہ برسوں میں اس نے دلتوں کو اپنی طرف مائل کرنے کی بھرپور کوشش کی ہے۔ اگر وہ بی جے پی کے ساتھ آ جائیں تو مُلک کی سیاست پوری طرح بدل سکتی ہے۔

لیکن ان کی محبتوں کے دعویدار اور بھی ہیں اور ان میں سب سے اوپر مایاوتی ہیں جو پانچ مرتبہ اتر پردیش کی وزیراعلیٰ رہ چکی ہیں۔ ان کا تعلق بھی ایک دلت خاندان سے ہے اورگزشتہ دو دہائیوں میں دلتوں کا ایک بڑا حصہ مضبوطی سے ان کے ساتھ رہا ہے۔ جب دلت ان کا ساتھ چھوڑتے ہیں تو وہ ہار جاتی ہیں، لیکن 2007ء میں جب انہوں نے اپنے سوشل انجینئرنگ کے فارمولے کے تحت برہمنوں کو بھی ٹکٹ دیے تو انہیں ریاستی اسمبلی میں اپنے ہی دم پر اکثریت حاصل ہوگئی۔ اتر پردیش میں اب جلدی ہی انتخابات ہونے والے ہیں۔ اس لئے گجرات میں دلتوں کے ساتھ پیش آنے والے اس کیس کی گونج پورے مُلک میں سُنی جا رہی ہے۔

بھارت میں دلتوں کی زندگی اتنی ارزاں ہے کہ پندرہ روپے قرض واپس نہ کرنا دلت جوڑے کا جرم بن گیا، جس پربھارتی ریاست اتر پردیش میں اشوک مشرا نامی دکاندار نے دلت میاں بیوی کو قتل کردیا۔ دلت جوڑے نے ایک دکاندار کو15 روپے دینے تھے، دونوں جب سودا لینے دکان پر گئے تو دکاندار نے انہیں رقم واپس کرنے کا مطالبہ کیا۔ اس بات پر ان کے درمیان بحث شروع ہو گئی اور دکاندار نے غصے میں آکر کلہاڑی اٹھائی اور مسلسل وار کر کے میاں بیوی کو قتل کردیا۔ دلت میاں بیوی کو قریبی ہسپتال لے جایا گیا ،جہاں ڈاکٹروں نے ان کی موت کی تصدیق کر دی۔

مودی کی سرکار نے کشمیر میں حالیہ دنوں میں جس طرح برہان وانی کو شہید کیا اور جس طرح لوگوں پر ظلم و ستم کئے اِس سارئے ظلم پر قدرت نے مودی سرکاری کے مْنہ پر طمانچہ رسید کیا ہے کہ دلت جن کو ہندو معاشرے میں انتہائی نیچ جانا جاتا ہے۔ اِن سے ہاتھ ملانا تو کْجا۔ جہاں سے دلت گزر جائے ہندووں کے نزدیک وہ جگہ ناپاک ٹھہرتی ہے۔ مسلمانوں سے بھی اْن کا سلوک ایسا ہی ہے، لیکن یہی دلت برادری تاریخ کے ایک اہم موڑ پر آکھڑی ہوئی ہے۔ اڑھائی ہزار سال سے ظلم و ستم سہنے ولی دلت برادری نے اچانک تاریخ کو بدل دیا ہے اور مودی سرکار کے خلاف اْٹھ کھڑئے ہوئے ہیں۔ سرعام گائے ذبح کرنا شروع کر دیا۔
مسلمانوں کے بعد اچانک اس مہینے کے آغاز میں دلتوں کی اس طرح باری آگئی کہ چار دلت لڑکے ایک مردہ بھینس کی کھال اُتار رہے تھے کہ پکڑے گئے اور انہیں اس قدر تشدد کا نشانہ بنایا گیا کہ ان میں سے دو ہلاک ہوگئے، جس سے یہ تحریک پھوٹی اور یہ تحریک پھر اس قدر آگے بڑھی کہ مودی تخت ڈولنے لگا،جس کے بعد کشمیریوں کے ساتھ ساتھ بھارت کے اندر بھی صورت حال میں سنگینی آگئی اور حکومت نے ہر طرح کے تشدد سے تحریک کو روکنے کی کوشش کی،مگر یہ تحریک وزیراعظم کی ریاست سے نکل کر دوسری ریاستوں میں پھیل گئی اور اب تک درجن سے زائد دلت اس تحریک میں پولیس کے ہاتھوں اپنی جان دے چکے ہیں۔ ہزاروں زخمی ہیں۔ دلتوں نے ہندوں کے باڑوں سے مقدس گائیوں کو نکالا اور سرکاری دفاتر کے سامنے لے جاکر درجنون کی تعداد میں ہلاک کر کے ان کے ٹکڑے بڑے افسران اور سیاست دانوں کے گھروں کے دروازوں پر پھینک دئیے۔

یہ خبر جنگل کی آگ کی طرح پورے بھارت میں پھیل گئی، مگر انتظامیہ کے سامنے معذرت اختیار کرنے کی بجائے دلت برادریا ور زیادہ اعتماد میں آچکی ہے۔ بھارت کے لوگوں نے تاریخ کو نئے سرے سے لکھنا شروع کر دیا ہے۔ اعلیٰ ذات کے ہندووں کی مقدس گائیوں کو، خواہ وہ زندہ ہوں یا مری ہوں، انہیں کاٹ کر درجنوں کی تعداد میں پھینکنے کی ہمت کبھی کسی نے نہیں کی تھی۔ یہ تحریک بظاہر چھوٹی سطح سے اٹھی، لیکن دنوں میں اس نے پورے بھارت کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ بھارت میں دلتوں کی آبادی 16 فیصد ہے اور یہی بھارت کے اصل باشندے ہیں۔ بھارتی معاشرے کے اندر جتنا ظلم وستم ہے اور جس طرح سے انسانوں کی درجہ بندی کی گئی ہے اْس لحاظ سے دیکھا جائے تو بھارت میں چھوت چھات کی وجہ ہی مسلمانوں کے لئے ایک الگ وطن کا باعث بنی،جو لوگ نظریہ اسلام اور نظریہ پاکستان کے خلاف زہر افشانی کرتے ہیں وہ دیکھ لیں کہ بھارت میں انسانوں کے ساتھ کیا سلوک ہوتا ہے۔

ریاض احمد چودھری

No comments:

Powered by Blogger.