Header Ads

Breaking News
recent

عالمی غربت کا باعث جنگیں ۔۔۔ اور جنگوں کا باعث۔۔۔؟

پاکستان میں کبھی کبھی میڈیا غربت کی ایسی بھیانک تصویر کشی کرتا ہے کہ حب وطن کی کمی کے شکار لوگ مایوس ہو کر پاکستان کو کوسنے لگتے ہیں۔ بے شک پاکستان میں غربت ہے، لیکن پاکستان کوئی دنیاسے الگ تھلگ خطہ نہیں ہے۔ اللہ ہمارے حکمرانوں کو توفیق دے کہ وہ اس مسئلے پر سنجیدگی سے توجہ دے سکیں۔ احتجاجی سیاست ہمیں غیر منقسم ہندوستان سے ورثے میں ملی ہے اور اب تک بعض سیاسی گروہوں کے نزدیک سب سے بڑا کام ہی یہ ہے کہ نہ خود چین سے بیٹھنا ہے، نہ دوسروں کو بیٹھنے دینا ہے کہ یہی سیاست ہے۔غربت صرف پاکستان کا مسئلہ نہیں ہے، یہ عالمی مسئلہ ہے یورپی یونین کے ممالک بھی اس سے دو چار ہیں۔ دنیا کی آدھی آبادی، یعنی تین ارب انسان صرف اڑھائی ڈالر یومیہ پر گزارہ کرتے ہیں۔ امریکہ جیسے ممالک میں اس اڑھائی ڈالر کا ایک برگر بھی نہیں آتا، لیکن پاکستان میں یہ رقم دو سو پچیس روپے کے برابر ہے،جبکہ کولمبیا میں کئی لاکھ پیسو ہیں۔ ایک پاکستانی اس رقم سے دو وقت کی معمولی روٹی کھا سکتا ہے،جبکہ امریکہ میں کچرے سے پس خوردہ تلاش کر کے کھانے والے بے گھر بھی ہیں، جو اس اڑھائی ڈالر سے ایک وقت کے لئے پیٹ بھرنے کی کوئی نہایت معمولی چیز بمشکل حاصل کرسکتے ہیں۔ اگرچہ اس اڑھائی ڈالر والے طبقے میں امریکی غربا کا شمار نہیں ہے۔
انسانوں کی اسی فیصد آبادی دس ڈالر یومیہ سے کسی قدر کم پر گزر بسر کررہی ہے۔ دنیا کی چالیس فیصد آبادی کل عالمی آمدنی کے پانچ فیصد کی مالک ہے اور دنیا کے امراء کی بیس فیصد تعداد وہ ہے جس کو عالمی آمدنی کے چوتھائی پر قبضہ حاصل ہے۔ ہمارے ہاں صوبہ سندھ میں بچے بھوک سے مرتے ہیں تو وزیر اعلیٰ سید قائم علی شاہ(اب سابق) فرماتے ہیں کہ یہ بھوک سے نہیں، بیماری سے مرتے ہیں۔ اقوام متحدہ کے ادارے یونیسفکی ایک رپورٹ ہے کہ دنیا بھر میں بائیس ہزار بچے روزانہ بھوک سے مررہے ہیں اور جہاں جہاں یہ بچے مرتے ہیں وہاں کے سید سائیں ان کی موت کو بہت کم اہمیت دیتے ہیں۔ ترقی پذیر ممالک میں ستائیس اٹھائیس فیصد بچے معیاری وزن سے کم وزن رکھتے ہیں۔ ایسے بچے یا تو جنوبی ایشیا میں ہیں یا پھر افریقہ کے صحرائی علاقے میں۔ 2005ء میں بھی72 ملین بچے سکول جانے کی عمر کو پہنچنے کے باوجود سکول جانے نہیں پائے، ان بچوں میں 57فیصد بچیاں تھیں، جن کی تعلیم پر آئندہ نسل کی تعلیم وتربیت کا انحصار ہوتا ہے۔ ایک بچہ پڑھ جائے تو معاشرے کا ایک فرد تعلیم یافتہ ہو جاتا ہے، ایک بچی پڑھ جائے تو آئندہ نسل کے تعلیم یافتہ ہونے کے امکانات روشن ہو جاتے ہیں۔

اکیسویں صدی گویا انسانیت کے لئے ترقی کے ایک نئے باب کا افتتاح تھا لیکن ایک ارب لوگ اس اکیسویں صدی میں اس طرح داخل ہوئے کہ وہ نہ ایک حرف پڑھ سکتے تھے، نہ اپنا نام تک لکھ سکتے تھے۔ ساری دنیا ہر سال جنگی ہتھیاروں پر جتنی دولت خرچ کرتی ہے، اگر اس کا ایک فیصد سے بھی کچھ کم خرچ کردیا جائے تو اس سے ساری دنیا کے سکول جانے سے محروم بچے سکول جاسکتے ہیں۔ امریکہ میں ایک اور طرح سے بھی یہ غربت اپنا رنگ دکھاتی ہے، مثلاً بیرون امریکہ پیدا ہونے والے غیر شہری (Non-citizens) بچوں میں سے چوبیس فیصد غربت کا شکار ہیں۔ امریکی غربت میں بچوں کی تعداد کہیں زیادہ ہے کل آبادی کے 23.1 فیصد بچے غریب ہیں جبکہ غریب آبادی میں غریب بچوں کیشرح33.3 فیصد ہے۔ امریکی غربت پر آراء میں اختلاف بھی ہے ۔ مثلاً فوربس میگزین کہتا ہے کہ غربت 14.5 فیصد نہیں4.5 فیصد ہے، جبکہ غُربأ کی حمائت کے لئے کام کرنے والی تنظیموں کا دعویٰ ہے کہ حقیقت میں غربت 14.5 فیصد سے بھی کہیں زیادہ ہے۔

اس غربت کا سبب کیا ہے؟ تیسری دنیا کا تو ذکر ہی جانے دیجئے کہ وہاں وسائل ہیں، نہ ان سے استفادہ کیا جارہا ہے ۔ یورپی ممالک پانچ سال سے ایک عظیم مالی اور معاشی بحران کا شکار ہیں ، گزشتہ دنوں اس صورت حال پر یورپی ممالک کے معاشی ماہرین برسلز میں سر جوڑ کر بیٹھے رہے، لیکن کوئی ٹھوس لائحہ عمل طے نہ کر پائے، یورپ کے اس معاشی بحران کا سبب فوجی اور جنگی اخراجات ہیں۔ ان یورپی ممالک ، حتیٰ کہ امریکہ میں اس بحران سے نمٹنے کے لئے جنگی اخراجات میں کمی کی بجائے معاشرے کے پس ماندہ افراد، غریب اور لاچار شہریوں، کم آمدنی والے مزدورں، سابق فوجیوں، بالخصوص معذور سابق فوجیوں کی مراعات اور سرکاری امداد میں کٹوتیاں کی جارہی ہیں،ملازموں کی اجرت اور پنشن میں کمی کی جارہی ہے۔ دوسری طرف اسلحہ ساز کمپنیوں کے منافع میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ اسلحہ ساز کمپنیوں کو ان کے مال کے آرڈر دھڑا دھڑ مل رہے ہیں۔ اسلحہ خریدنے والی حکومتیں اور ریاستیں ان کی قرض دار ہیں۔ یہ ایک لرزہ خیز حقیقت ہے کہ 2010ء میں یورپی یونین کے جنگی یا فوجی اخراجات 194 بلین یورو تھے جو یونان، اٹلی اور سپین کے سالانہ مجموعی خسارے کے برابر ہیں۔

برسلز میں ہونے والے اجلاس میں کسی نے غربت کے خاتمے کے لئے کوئی تجویز نہیں دی، بلکہ جنگی اور فوجی اخراجات کی حامی اور اسلحہ ساز اداروں کی لابی نے فوجی اور جنگی اخراجات میں کمی کے خیال پر شدید احتجاج کیا۔ انہوں نے وارننگدی کہ اگر فوجی اخراجات میں کمی کی گئی تو یہ نہایت تباہ کن ہوگا،حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ تباہ کن صورتِ حال اب بھی ہے اور اس کا ایک سبب اسلحہ اور جنگی ہتھیار خریدنا اور ان کے سودوں میں ناقابل یقین کرپشن ہے۔ اسی تباہ کن صورتِ حال کے سبب یونان معاشی طور پر دیوالیہ ہو چکا ہے۔ پرتگال بھی اسی صورتِ حال سے دو چار ہے۔ دُنیا بھر میں اسلحہ ساز کمپنیاں طاقتور لابی کی حامل ہیں، یہ اپنا مال بیچنے کے لئے جنگوں کا ماحول پیدا کئے رکھنے کے لئے ہر حربہ استعمال کرتی ہیں۔ دنیا کے بہت سے طاقتور ملک ان سے بلیک میل ہوتے ہیں اور یہ ملک اپنے ملک میں جنگی جنون کو ہوا دینے کے لئے خوف کا ہتھیار استعمال کرتے ہیں۔ دیدہ نا دیدہ دشمن کا خوف پیدا کر کے اور عدم تحفظ کا احساس بڑھا کر یہ ملک جنگوں کو اپنے عوام کے تحفظ اور دشمن سے نجات کے لئے ان کوملنے والی سہولتوں کی قیمت پر دھڑا دھڑ اسلحہ خریدتی ہیں اور خوف زدہ عوام اس عوام دشمن رویے پر خوش ہوتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ اسلحہ کے ان انباروں کے ذریعے ان کا اوران کے بچوں کا مستقبل محفوظ ہو رہاہے۔

اس وقت دنیا بھر میں دس عظیم ترین اور مؤثر ترین اسلحہ ساز ادارے اسلحہ سازی اور اسلحے کی تجارت میں مصروف ہیں۔ ان میں سے چھ کے صدر دفاتر نیدر لینڈ میں ہیں۔ نیدر لینڈ بھی پامانا کے مین آئی لینڈ، بہاماس اور امریکی ریاست نیواڈا وغیرہ کی طرح آف شور کمپنیوں کی جنت ہے۔ یہ چھ بڑے اسلحہ سازادارے اپنے ملک میں ٹیکس سے بچتے ہیں۔ نیدر لینڈ میں ٹیکس مراعات کا فائدہ اٹھاتے ہیں اور دنیا میں جنگوں کو جاری رکھنے کے لئے دن رات کوشاں رہتے ہیں، ان میں اٹلی کی بدنام زمانہ بلیک لسٹ نن میکانیکا بھی شامل ہے۔ ان اسلحہ ساز اداروں کی تجارتی سرگرمیاں تو امریکہ، برطانیہ، فرانس اور جرمنی میں ہوتی ہیں، لیکن انہوں نے اپنے مرکزی دفاتر نیدر لینڈ میں رکھے ہوئے ہیں، جہاں بمشکل ایک یا دو ملازم موجود ہوتے ہیں، بعض اتنا تکلف بھی نہیں کرتے۔ ایک پوسٹ آفس بکس کرائے پر حاصل کرتے ہیں، اس پر اپنی ڈاک منگواتے ہیں، اس پتے کو اپنا صدر دفتر ظاہر کرتے ہیں۔ اللہ اللہ خیر سلا۔

اسلحہ سازی کی ٹاپ سو کمپنیاں سالانہ 450 بلین ڈالر کا اسلحہ تیار کرتی ہیں۔ ان کمپنیوں کا کاروبار 392 بلین ڈالر تک کا ہے۔ ان سو میں سے ایک تہائی نے اپنے دفاتر یا تو نیدر لینڈ میں بنا رکھے ہیں یا ایسا ظاہر کرتی ہیں یعنی پوسٹ آفس بکس کا پتہ استعمال کرتی ہیں نیدرلینڈ میں صدر دفاتر کا ہو نا یا ظاہر کرنا محض ٹیکس میں بچت ہی کے کام نہیں آتا،بلکہ اس سے ہر طرح کی کرپشن کرنے میں بھی سہولت ہوتی ہے۔ سٹاک ہام انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کا اندازہ ہے کہ عالمی کرپشن کا چالیس فیصد صرف ان اسلحہ ساز اداروں سے متعلق ہے۔
تنظیم برائے معاشی تعاون و ترقی اوای سی ڈی کا کہنا ہے کہ عالمی سطح کے رشوت ستانی کے جو بائیس الزامات ہیں، ان میں بارہ ان اسلحہ ساز اور اسلحہ فروش اداروں سے متعلق ہیں اور یہ بارہ وہ کمپنیاں ہیں، جن کے دفاتر نیدر لینڈ میں بھی ڈھونڈنے سے نہیں ملتے۔

ان کے صرف میل باکس پائے جاتے ہیں۔ ان کمپنیوں کی پیداوار کا بڑا حصہ حکومتیں خریدتی ہیں۔ ریسرچ وترقی (ڈیویلپمنٹ) کے نام پر ان کمپنیوں کو سب سڈی دیتی ہیں اور سرکاری، نیم سرکاری اور نجی یونیورسٹیوں کو تحقیق کے نام پر ’’مال‘‘ چڑھاتی ہیں دنیا میں جنگیں جاری رکھنے اور انہیں ہوا دینے کے لئے نت نئے حربے اختیار کرتی رہتی ہیں۔  یاد رہے کہ یہ ان کی تجارتی ضرورت ہے۔ کپڑا بنانے کی فیکٹریاں فیشن کے فروغ کے لئے کام کرتی ہیں۔ فیشن کی تعلیم دیتی ہیں۔ فیشن شو منعقد کراتی ہیں اور جانے کیا کیا کرتی ہیں ،جنگی سازو سامان بنانے والی فیکٹریاں یہ سامان اپنے گوداموں میں رکھنے کے لئے نہیں بناتیں، جنگیں ان کی تجارت کے فروغ کا باعث ہیں تو وہ جنگوں کے فروغ کے لئے کام کیوں نہ کریں؟

اشرف قریشی


No comments:

Powered by Blogger.