Saturday, June 25, 2016

KHAWAJA UMER FAROOQ

امریکہ : گن کنڑول بل ناکام ہوگیا

میرے لئے ہی نہیں کسی کے لئے بھی خوش فہمی کی کوئی وجہ نہیں ہوسکتی تھی کہ گن کنٹرول بل واقعی امریکی سینٹ سے پاس ہوسکتا ہے۔ گن کنڑول کے حامیوں اور مخالفین میں ایک عرصے سے کش مکش جاری ہے۔ جب کہیں کوئی حادثہ ہوتا ہے، جس میں کوئی شخص گن لے کر کسی مجمع میں گھس جاتا ہے اور آن کی آن میں کئی لوگوں کو ہلاک اور کئی کو زخمی کردیتا ہے تو آتشیں اسلحہ کی دستیابی کو مشکل بنانے کے لئے گن کنڑول کے قانون کے اجرا کے لئے کوششیں تازہ دم ہو جاتی ہیں۔ دوسری طرف اسلحہ کی خریدو فروخت پر کسی طرح کی پابندی کے مخالفین ہمہ وقت اپنے موقف کے حق میں سرگرم رہتے ہیں۔ 

’’گن کنڑول‘‘ کے قانون یا اس کی حمایت کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ امریکہ کی طول وعرض میں اسلحہ کی خریدوفروخت ناممکن ہوسکتی ہے، تاہم گن کنڑول کے حامی اسلحہ کے آزادانہ حصول پر بعض پابندیاں چاہتے ہیں، لیکن مخالفین کو اسلحہ کی آزادانہ خریدو فروخت پر کسی بھی طرح کی پابندیاں منظور نہیں ہیں۔ گن کنڑول مخالف لابی کا استدلال ہے کہ آئین کی دوسری ترمیم تمام امریکیوں کو وقت ضرورت ہتھیار اُٹھانے کا حق دیتی ہے۔ اس حق پر کسی قسم کی قدغن کسی بھی حوالے سے آئین کی منشا کے خلاف ہوگی۔ یہ ایک مضبوط استدلال ہے، لیکن اس استدلال کے پیچھے اس استدلال سے بھی کہیں بڑھ کر تجارتی مفادات ہیں۔ اسلحے کی خریدوفروخت سے اسلحہ ساز فیکٹریوں سے لے کر ڈیلرز تک ایک بڑی تعداد اس تجارت سے وابستہ ہے۔
 اسلحے کی خریدوفروخت پر کسی بھی طرح کی پابندیاں ان کے کاروبار کے لئے نقصان کا باعث ہیں، اس لئے انہیں اسلحے کی خریدوفروخت پر کسی بھی طرح کا کنٹرول منظور نہیں ہے۔ اسلحے کی تجارت سے وابستہ لابی بے حد موثر اور بہت مضبوط ہے۔ امریکہ بھر میں پھیلی ہوئی نیشنل رائفل ایسوسی ایشن(این آر اے) بہت مضبوط اور موثر تنظیم ہے۔ اسلحہ رکھنے والے یا اسلحہ رکھنے کے حق کو فائق سمجھنے والے لاکھوں امریکی اس تنظیم کے ممبر ہیں۔ گن کنڑول کے مخالفین کا یہ بھی کہنا ہے کہ اسلحے کی خریدوفروخت پر پابندیوں سے مجرم ذہنیت کے لوگوں کے لئے اسلحے کے حصول میں کوئی رکاوٹ نہیں آتی، البتہ اس سے ان لوگوں کے لئے اسلحہ حاصل کرنا مشکل ہو جاتا ہے جو حفاظت خود اختیاری کے لئے اسلحہ رکھنا چاہتے ہیں۔ ان کی دلیل ہے کہ اگر شرفا کے پاس بھی آتشیں اسلحہ موجود ہو تو مجرموں کو ان کے خلاف اسلحہ استعمال کرنے سے پہلے سوبار سوچنا پڑے گا۔ آئینی حق کی طرح یہ دلیل بہت مضبوط ہے۔ اس دلیل کی حقانیت کو سمجھنے کے لئے پاکستان کی مثال دی جاسکتی ہے۔ کراچی اورسندھ میں اسلحہ کا حصول اتنا آسان نہیں ہے، جتنا خیبر پختون خوا میں ہے، لیکن اسلحے کے زور پر زیادہ وارداتیں کراچی میں ہوتی ہیں، خیبر پختون خوا میں اتنی وارداتیں نہیں ہوتیں۔ شاید اس لئے کہ مجرموں کویہ علم ہوتا ہے کہ اس کے شکار کے پاس بھی ویسا ہی اسلحہ موجود ہے۔

این آر اے کے علاوہ بھی کئی تنظیمیں اسلحہ کے حصول کو آسان بنانے اور لوگوں کو اسلحہ حاصل کرنے پر مائل کرنے کے لئے کام کرتی رہتی ہیں۔ حال ہی میں ایک ایسی ہی تنظیم کی طرف سے مجھے ایک ای میل موصول ہوئی، جس میں کہا گیا تھا کہ ایک صاحب جب پارکنگ لاٹ سے اپنی گاڑی نکال رہے تھے تو دو لونڈوں نے ان سے درخواست کی کہ انہیں’’لفٹ‘‘دے دیں۔ ان صاحب نے لونڈوں کو مشکوک سمجھتے ہوئے انکار کردیا تو ایک لونڈے نے آگے بڑھ کر پستول کی نالی ان کی کنپٹی پر رکھ کر سب کچھ نکال دینے کا حکم دیا۔ ان صاحب نے اپنا پستول نکالا اور لونڈے پر گولی چلا دی۔ پولیس آئی اور کار کے مالک کو لونڈے کو مارنے کے جرم میں گرفتار کرلیا۔ کار کا مالک ہمارا( ای میل بھیجنے والی تنظیم) ممبر تھا ،اس نے ہمیں کال کردی اور ہم نے فوراً اسے قانونی امداد فراہم کر کے تھانے سے رہا کرالیا۔

کانگرس میں این آر اے کی لابی ارکان کا نگریس کو باقاعدہ مال لگاتی ہے، تاکہ اسلحہ پر پابندی کا کوئی قانون پاس نہ ہونے پائے۔ حال ہی میں ایک اخبار نے ان بیس ارکان کے نام شائع کئے ہیں جنہیں این آر اے تیس سے ساٹھ ہزار ڈالر تک دیتی ہے۔ معلوم نہیں یہ رقم انہیں سالانہ کی بنیاد پر دی جاتی ہے یا ان کی انتخابی مہم میں لگائی جاتی ہے، تاہم اس فہرست میں زیادہ تر سینٹرز اور چند ایک نمائندگان بھی شامل ہیں۔ ساری فہرست میں صرف ایک نمائندہ ڈیموکریٹ بھی ہے دیگر تمام کا تعلقری پبلکن سے ہے۔ میں اپنے کئی کالموں میں لکھ چکا ہوں کہ ڈیموکریٹس اور ری پبلکن میں ایک بنیادی اختلاف گن کنڑول کے سلسلے میں بھی ہے۔ ڈیموکریٹس اسلحہ کی خریدو فروخت پر پابندی کے حق میں ہیں۔ مکمل پابندی نہ سہی اس قدر پابندی عائد ہو جائے کہ جب کوئی شخص اسلحہ خریدنے جائے تو اس کے ماضی کی چھان بین کی جاسکے، تا کہ اگر وہ کسی جرم میں ملوث رہا ہو تو اسے اسلحہ فروخت نہ کیا جائے۔ اب بھی بعض ریاستوں میں کسی حد تک اسلحہ کے خریدار کی بیک گراؤنڈ چیک کرنے کا قانون موجودہے، لیکن اس کی زیادہ پروا نہیں کی جاتی۔

ری پبلکن کا کہنا ہیکہ محض کسی غلط فہمی کی بنا پر بعض لوگوں کے نام پر کوئی ایسی چیز نکل آتی ہے، جس سے انہیں اسلحہ حاصل کرنے میں مشکل پیش آتی ہے۔ ان کا خیال ہے کہ کوئی شخص کسی وقت کسی حادثے کی وجہ سے کسی جرم میں ملوث ہو جاتا ہے۔ بعد میں وہ اپنا کاروبار کرتا ہے یا کوئی دوسرا ایسا کام کرتا ہے، جہاں اسے اپنی حفاظت کے لئے اسلحہ رکھنے کی ضرورت پیش آتی ہے تو اس کی بیک گراؤنڈ چیکنگ اس کے لئے اسلحہ کے حصول میں رکاوٹ بن جائے گی۔ اورلینڈو فائرنگ کے بعد ڈیمو کریٹس اور اسلحہ پر پابندی کے حامیوں نے اسے ایک اور نعرے کے ذریعے نئی جہت دینے کی کوشش کی ہے، اس موقع پر نعرہ ایجاد ہوا: ’’نفرت کو غیر مسلح کردو‘‘۔ لیکن امریکی سینٹ نے نفرت کو غیر مسلح کرنے کے خلاف ووٹ دے دیا۔

گن کنٹرول کا بل ایک عرصے سے سینٹ میں زیر التوا تھا، اس پر ووٹنگ کی نوبت ہی نہیں آرہی تھی اور ری پبلکن اس پر ووٹنگ کی نوبت نہیں آنے دے رہے تھے۔ اورلینڈو واقعہ کے بعد کنکٹی کٹ کے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس مرفی نے سینٹ میں ووٹنگ کرانے کے لئے طویل تقریر (Phili buster)کا سہارا لیا، یعنی انہوں نے اس وقت تک تقریر جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا، جب تک ر ی پبلکن ووٹنگ پر آمادہ نہ ہو جائیں۔ وہ مسلسل پندرہ گھنٹے بولتے رہے، بالآخر ری پبلکن بل پر رائے شماری کے لئے تیار ہوگئے۔ پیر کے روز ووٹنگ ہوئی تو بل ناکام ہوگیا۔ اس کی حمایت میں 47 ووٹ آئے، جبکہ مخالفت میں 53ووٹ آئے۔ مخالفت میں آنے والے ووٹوں میں تین ڈیموکریٹس کے ووٹ بھی شامل ہیں، جبکہ حق میں تمام ری پبلکن نے ووٹ دیئے، ماسوائے ایک سینیٹر کے۔

میں نے گزشتہ کالم میں لکھا تھا کہ اورلینڈو کے واقعہ کو دونوں سیاسی جماعتیں اپنے اپنے حق میں استعمال کرنے کی کوشش کررہی ہیں۔ اس ناکام بل کی بدولت ڈیموکریٹس نے اپنے حامیوں کو پیغام دے دیا ہے کہ وہ اسلحہ پر پابندی کے لئے مخلص ہیں، اگرچہ وہ اپنے تین سینیٹر ز کو مخالف ووٹ دینے سے نہیں روک سکے۔ اب ان کا کہنا ہے کہ یہ بل اس وقت تک پاس نہیں ہو سکتا جب تک تک سینٹ میں ڈیمو کریٹس کی اکثریت نہ ہو اور وائٹ ہاؤس میں ڈیموکریٹ صدر نہ ہو، اس لئے ڈیموکریٹس کے سینٹ امیدواروں کو ووٹ دے کر کامیاب کرائیں اور صدارت کے لئے ہیلری کلنٹن کو کامیاب کرائیں۔ ری پبلکن گن کنٹرول کے مخالفین کو ڈرا رہے ہیں کہ اگر سینٹ میں ڈیمو کریٹس کو اکثریت حاصل ہوگئی تو اسلحہ پر پابندی لگ جائے گی۔

ری پبلکن یوں تو ہم جنس پرستوں کے بھی سخت خلاف ہیں، وفاقی قوانین کے برعکس جہاں جہاں ری پبلکن گورنر تھے،انہوں نے ہم جنس شادیوں کے خلاف سخت مزاحمت کی ، تاہم سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت کے قانون کو لاگو کردیا۔ری پبلکن امیدوار صدارت ڈونالڈٹرمپ اسے ہم جنسوں کے خلاف نفرت کا نشانہ سمجھنے کے لئے تیار نہیں، اس لئے نفرت کے ہاتھ سے ہتھیار چھینے کا روادار بھی نہیں۔ اس کے لئے عمر متین کا مسلمان ہونا اس کے موقف کی تائید ہے کہ مسلمان کی ہر وقت سخت نگرانی کی جانی چاہیے۔ ایسے ہی گن کنٹرول کا بل ایک بار پھر سیاست کا شکار ہو چکا ہے اور شاید گن کنڑول کا مسئلہ بھی صدارتی انتخابات میں ایک مسئلے کے طورپر اچھالا جائے گا۔

اشرف قریشی

KHAWAJA UMER FAROOQ

About KHAWAJA UMER FAROOQ -

Stand Up for What is Right Even If You Stand Alone.

Subscribe to this Blog via Email :