Wednesday, June 22, 2016

KHAWAJA UMER FAROOQ

ملک کی 39 فیصد آبادی تاحال غربت کی زندگی گزارنے پر مجبور

ملک کے طول و عرض میں آج بھی آبادی کا 39 فیصد حصہ غربت کی زندگی
گزارنے پر مجبور ہے، جس میں سب سے زیادہ شرح فاٹا اور بلوچستان کی ہے۔
لیکن 2004 میں ملک میں غربت کی شرح 55 فیصد تھی، جو اب کم ہو کر 39 فیصد پر آچکی ہے۔ پاکستان کی تاریخ کی پہلی کثیر الجہتی غربت انڈیکس (ایم پی آئی) رپورٹ کے مطابق، ملک کے مختلف خطوں میں غربت کے حوالے سے پیشرفت ناہموار ہے اور شہری علاقوں میں 9 اعشاریہ 3 فیصد شرح غربت کے مقابلے میں دیہی علاقوں میں غربت کی شرح 54 اعشاریہ 6 فیصد ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے غربت کے حوالے سے مختلف صوبوں میں بھی عدم مساوات پائی جاتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق فاٹا کے 73 فیصد اور بلوچستان کے 71 فیصد عوام غربت کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ خیبر پختونخوا میں شرح غربت 49 فیصد ہے، جبکہ سندھ اور گلگت بلتستان میں 43، 43 فیصد، پنجاب میں 31 فیصد اور آزاد جموں و کشمیر میں 25 فیصد ہے۔ انڈیکس مرتب کرنے میں تعلیمی میدان میں محرومی نے سب سے زیادہ 43 فیصد کردار ادا کیا، جس کے بعد معیار زندگی کا تقریباً 32 اور صحت کا 26 فیصد کردار رہا۔ ان نتائج سے اس بات کی مزید تصدیق ہوجاتی ہے کہ پاکستان میں اقتصادی اشاریے تو مثبت اور مضبوط نظر آتے ہیں، لیکن اس کے مقابلے میں سماجی اشاریے بہت کمزور ہیں۔

امین احمد
یہ خبر 21 جون 2016 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی۔


KHAWAJA UMER FAROOQ

About KHAWAJA UMER FAROOQ -

Stand Up for What is Right Even If You Stand Alone.

Subscribe to this Blog via Email :