Saturday, May 28, 2016

KHAWAJA UMER FAROOQ

اڑے او امریکہ انکل : وسعت اللہ خان

اڑے او امریکہ انکل ۔۔۔ تو کسی گھمنڈ میں نہ رہنا۔ ہم اپنا اچھا برا خوب جاننے
لگے ہیں۔ وہ دن گئے انکل جب تم ہماری کم سنی و بھول پن کا ناجائز فائدہ اٹھا کے ’چجی‘ دلانے کے بہانے کبھی سیٹو اور کبھی سینٹو میں ورغلا کے لے جاتے تھے اور ہمیں بتایا تک نہیں کہ یہ دونوں تنظیمیں چین اور روس کے ہانکے میں استعمال ہوں گی۔ جانِ جگر انکل! اب ہم اتنے بے وقوف نہیں رہے کہ تمھیں پہلے کی طرح بڈابیر، شمسی، جیکب آباد کے اڈے فضائی حدود سمیت دے دیں۔ خوب سمجھتے ہیں کہ دوستی اور خودمختاری میں کیا فرق ہوتا ہے۔

ہم کل کی طرح اس ڈراوے میں نہیں آئیں گے کہ بچو تم نے ہمارا ساتھ نہ دیا تو سوویت انکل افغانستان کے بعد تمھیں بھی بغیر ڈکارے چٹ کر جائے گا ۔ ہم بڑے ہوگئے ہیں می لارڈ۔ کسی دھونس یا لالچ میں آن کر کسی ایمل کانسی، ملا بدالسلام ضعیف، عافیہ صدیقی یا ریمنڈ ڈیوس کو آئندہ تمھارے حوالے نہیں کریں گے۔ تپڑ ہے تو شکیل آفریدی چھڑا کے لے جاؤ۔ انکل دھیان سے۔ ایک بھی ایبٹ آباد دوبارہ ہوا نا تو ایسا جوابی ردِ عمل دیں گے کہ تمہارے ہوش ٹھکانے آجائیں گے۔ کیا سمجھے؟

پچھلے 12 سال کے دوران پرانی راہ و رسم کی مروت میں رفعِ شر کی خاطر 423 ڈرون حملوں پر 423 بار تم سے پرزور احتجاج کیا۔ مگر تم شاید ہمارے صبر کو ہمارے عزم و ایمان کی کمزوری سمجھتے رہے ہو۔ اب اگر ایک ڈرون بھی ہماری حدود میں بھنبناتا نظر آیا تو پھر تم دیکھنا کہ ہم اس کے ساتھ کیا کیا نہیں کرتے۔
یہ انیس سو پچاس، ساٹھ، اسی، نوے نہیں حضور کہ ہم پیسے کی دمک اور نوٹ کی خوشبو پر لہلوٹ ہوجاتے تھے۔ یہ دو ہزار سولہ ہے انکل، اب ہمیں کسی اچھے خان کی ضرورت نہیں، اپنے پاؤں پر انکل چین کی مدد سے کھڑے ہونا خوب جانتے ہیں۔
اور تو بھی سن ابے او پڑوسی ملک۔ کیا نان سٹیٹ ایکٹر ویکٹر کی ٹر ٹر لگا رکھی ہے۔ خود انھیں گھسنے سے کنٹرول نہیں کرسکتا اور تڑیاں ہمیں دیتا ہے۔ ابے چل  بہت بکواس سن لی۔ باسٹھ میں انکل چین سے پٹنے کے بعد پینسٹھ، اکہتر، ننانوے میں ہمارے ہاتھوں اپنی ٹھکائی بھول گیا کیا؟ کیا کہا؟ بکواس کر رہا ہوں؟ کبھی درسی کتابیں پڑھی ہیں ہماری؟ بچہ بچہ جانتا ہے کہ تیرے ساتھ ہم نے کیا کیا کیا اور سن ہم اس دھونس میں نہیں آنے کے کہ انکل امریکہ نے اب تیرے کندھے پر ہاتھ رکھ دیا ہے۔ واہ میرے سورما! کیا ایران اور افغانستان کو ساتھ ملا کر ہمیں گھیرے گا زنخے؟ مرد کا بچہ ہے تو اکیلا آ نا ۔ 

اوئے افغانی؟ ہماری بلی ہمیں کو میاؤں ۔۔۔ چل تو بھی ارمان پورا کر لے۔ امریکہ کے کندھے پر بیٹھ کر ایران اور انڈیا کے ساتھ امن کے گیت گا بجا لے۔ کل کو آنا تو ہمارے پاس ہی ہوگا نا۔ تب کر لیں گے تجھ سے حساب کتاب۔ یہ جو تیرے لاکھوں ہوتے سوتے ہمارے ہاں بس گئے ہیں ان کا حساب کتاب ہی تیرے حواس ٹھیک کرنے کو کافی ہوگا۔ اوئے ایرانی ۔۔۔ سوری ۔۔۔ محترمِ برادرِ من ۔۔۔ آپ سے ایسی توقع نہ تھی آغا کہ آپ بھی ازقسمِ ممالکِ ہائے ٹچگان کے بہکاوے میں آجائیں گے۔ وہ شعر تو آپ نے سنا ہی ہوگا آغا کہ دیکھا جو تیر کھا کے کمیں گاہ کی طرف وغیرہ وغیرہ ۔ ٹھیک ہے برادر ۔۔۔ سب ہماری طرف انگلیاں اٹھا رہے ہیں تم بھی اٹھالو ۔۔۔ تم بھی ایک ہاتھ مار لو ۔۔۔ کبھی کے دن بڑے کبھی کی راتیں ۔۔۔

لیکن لیکن اگر تم میں سے کسی نے بھی ہماری سالمیت، خودمختاری اور آزادی اور خوداری کی جانب میلی آنکھ سے دیکھنے کی کوشش بھی کی تو ہم ۔۔۔تو ہم ۔۔۔ ارے ۔۔۔ یہ بھی اتنی جلدی خالی ہوگئی ۔۔۔ کیا ٹائم ہوا ہے دوست؟ یارو ایک سگریٹ ہی پلا دو ذرا۔۔۔

وسعت اللہ خان
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

KHAWAJA UMER FAROOQ

About KHAWAJA UMER FAROOQ -

Stand Up for What is Right Even If You Stand Alone.

Subscribe to this Blog via Email :