Monday, May 23, 2016

KHAWAJA UMER FAROOQ

ہیکنگ کس طرح ہوتی ہے؟

جیسے جیسے کمپیوٹر ٹیکنالوجی بہتر سے بہتر ہوتی جارہی ہے ویسے ہیکرز نے
بھی مختلف اکاؤنٹس ہیک کرنے کے نئے طریقے بھی دریافت کرلیے ہیں۔ یہ ہیکرز آپ کی مرضی کے بغیر آپ کی نجی معلومات تک رسائی حاصل کرلیتے ہیں جس سے آپ پریشانی سے دوچار بھی ہوسکتے ہیں۔ان ہیکرز سے بچنے کا ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ اس بات کا پتہ لگایا جائے کہ ہیکرز کس طرح ہیکنگ کرتے ہیں۔ ہم آپ کو ان کے کچھ طریقوں کو بیان کررہے ہیں۔ ہیکرز پاسورڈ کیسے حاصل کرتے ہیں؟ ہیکرز کی جانب سے پاسورڈ حاصل کرلینا سب سے زیادہ عام تکنیک ہے۔

اسی سلسلے میں ایک تکنیک فشنگ (phishing) کہلاتی ہے جہاں ایک ہیکر آپ کو لاگ ان کرنے کے لیے ایک پیج بھیجے گا جو بالکل فیس بک یا جی میل یا کسی اور ویب سائٹ کے لاگ ان پیج جیسا ہی ہوگا۔ اگر آپ نے یہاں لاگ ان کیا تو آپ کا پاسورڈ ہیکر تک پہنچ جائے گا۔ ہیکرز ہیکنگ کیوں کرتے ہیں؟ ہیکرز لوگوں کے پاسورڈز مختلف وجوہات کی وجہ سے ہیک کرتے ہیں۔ سائبر کریمنلز ایسا پیسے کے لیے کرتے ہیں جبکہ دیگر صرف اپنے ہنر کی نمائش کے لیے بھی ایسا کرتے ہیں۔
 ہیکرز سے کیسے بچیں؟
٭ ہیکرز سے بچنے کے لیے پبلک وائی فائی استعمال کرنے سے گریز کریں اور بینکنگ اور ای میلز ہرگز ان پر استعمال نہ کریں۔
٭ کسی بھی ویب سائٹ پر جانے کے لیے HTTP کے بجائے HTTPS کا استعمال ویب سائٹ کے ایڈریس کے شروعات میں کریں۔
٭ ہمیشہ پاسورڈ درج کرنے سے قبل ایک مرتبہ اپنے پیچھے دیکھ لیں کہ کوئی آپ پر نظر تو نہیں رکھے ہوئے۔
٭ پاسورڈ مینجمٹ کے سافٹ ویئرز کا استعمال کریں۔ تاہم پریشانی کی بات اس وقت شروع ہوتی ہے جب کسی ہیکر کے ہاتھ آپ کی نجی نوعیت کی معلومات لگ جاتی ہیں۔

 ہیکرز کی کچھ تکنیکیں درج ذیل ہیں۔
 سوشل انجینئرنگ اس تکنیک کو استعمال کرتے ہوئے ہیکر آپ کو پیغام بھیجے گا کہ فلاں فلاں شخص نے آپ کی ایک خراب تصویر پوسٹ کی ہے اور ساتھ میں ایک لنک ہوگا۔ جب آپ وہاں کلک کریں گے تو وہاں لاگ ان درکار ہوگا۔ اگر آپ یہاں پاسورڈ دینگے تو یہ ہیکر تک پہنچ جائے گا۔ شولڈر سرفنگ شولڈر سرفنگ کا مطلب کسی شخص کے پیچھے کھڑے ہوکر اس کے کی بورڈ پر نظر رکھتے ہوئے اس کا پاسورڈ حاصل کرنا ہے۔ یہ ہیکنگ کی بہت پرانی تکنیک ہے۔ اس لیے ہمیشہ اے ٹی ایم، سائبر کیفے، ایئرپورٹ یا دیگر مقامات پر اپنا پاسورڈ درج کرنے سے قبل دیکھ لیں کہ کوئی آپ پر نظر تو نہیں رکھے ہوئے۔

کی لاگرز اگر کی لاگرز آپ کے کمپیوٹر میں انسٹال ہوجائیں تو ہر بار اسٹارٹ اپ کے ساتھ یہ بھی سرگرم ہوجاتے ہیں اور آپ اپنے کی بورڈ کے ذریعے جو کچھ لکھتے ہیں، اس کی رسائی ہیکر کو ہوتی ہے۔ کچھ کی لاگرز تو ونڈوز کے 'پراسیسز' میں بھی نظر نہیں آتے۔ ان سے بچنے کا بہترین طریقہ آن لائن ورچوئل کی بورڈ کا استعمال ہے۔ ان کی بورڈز کا استعمال پے پال یا بینک اکاؤنٹ کے لیے پاسورڈ ٹائپ کرنے کے لیے کرسکتے ہیں۔ ریٹ اس تکنیک کے ذریعے ایک ہیکر بغیر آپ کی اجازت کے آپ کے کمپیوٹر سے منسلک ہوجاتا ہے۔ آپ جو کچھ اپنے کمپیوٹر میں کررہے ہوتے ہیں وہ ہیکر دیکھ سکتا ہے۔ اس میں کی لاگر کا فنکشن بھی موجود ہوتا ہے۔اس تکنیک کے ذریعے ہیکر آپ کے کمپیوٹر سے کوئی بھی فائل کاپی کرسکتا ہے اور یہ سب آپ کی مرضی کے بغیر ہورہا ہوتا ہے۔ ٹروجنز یہ مختلف قسم کی ویب سائٹس بالخصوص ٹارنٹس سائٹس کے ذریعے آپ کے کمپیوٹر میں انسٹال ہوجاتے ہیں۔ ان کے ذریعے بھی ہیکر آپ کی نجی معلومات تک رسائی حاصل کرسکتے ہیں۔

ارسلان حیدر

KHAWAJA UMER FAROOQ

About KHAWAJA UMER FAROOQ -

Stand Up for What is Right Even If You Stand Alone.

Subscribe to this Blog via Email :