Tuesday, May 24, 2016

KHAWAJA UMER FAROOQ

قاتل سے دبنے والے اے آسماں نہیں ہم

انسانی حقوق کی سرکردہ عالمی تنظیم ایمنٹسی انٹر نیشنل نے سال دو ہزار پندرہ میں سزائے موت دینے والے ممالک کی جو فہرست مرتب کی ہے اس میں چین اور ایران کے بعد پاکستان تیسرے اور سعودی عرب چوتھے نمبر پر ہے۔ چلیے پاکستان کسی شعبے میں تو ٹاپ تھری کی ورلڈ رینکنگ میں آیا۔ مچھر ضرور مارنے چاہئیں کیونکہ ان سے ملیریا اور گندگی پھیلتی ہے لیکن جن جوہڑوں اور نالیوں میں مچھر پیدا ہوتے ہیں وہ چند ہی دنوں میں مچھروں کی ایک نئی کھیپ تیار کردیتے ہیں اور ہم پھر انھیں مارنے پر لگ جاتے ہیں۔ جوہڑ اور نالیاں جوں کی توں رہتی ہیں۔ بالکل ایسے جیسے کنوئیں کو پاک کرنے کے لیے چالیس ڈول پانی نکال لیا جائے مگر کتا نہ نکالا جائے تو فائدہ ؟

ہم میں سے ہر شخص زندگی میں کم ازکم کسی ایک آدمی یا عورت کو کسی بھی سبب قتل کرنے کے بارے میں کبھی نہ کبھی سوچتا ضرور ہے۔ وہ الگ بات کہ کر نہیں پاتا یا اس خیال کو چند ہی لمحوں یا دنوں میں جھٹک دیتا ہے۔ نفسیات دان اور سماجی ماہرین کسی بھی قتل کی کوئی بھی ماہرانہ تاویل لاسکتے ہیں۔ مثلاً بچپن کی محرومیاں ، والدین کی بے توجہی ، بری صحبت ، اکیلا پن ، انتقامی جذبہ ، غصہ ،  اکساہٹ، ذاتی لالچ، پاگل پن وغیرہ وغیرہ۔ اگر ان اسباب و محرکات کو مان لیا جائے تو پھر بچپن کے سب ہی محروموں ، والدین کی عدم توجہی اور بری صحبت کے شکار ، آدم بیزار ، غصیلے اور کسی کی باتوں میں آجانے والے کچے کانوں اور لالچیوں وغیرہ کو بھی قاتل ہونا چاہیے۔ ایسا کیوں ہے کہ ان میں سے چند ہی قاتل بن پاتے ہیں اور باقی قتل کے بارے میں سوچتے رہ جاتے ہیں۔
چلیں مانے لیتے ہیں کہ زیادہ تر قاتل ان ہی وجوہات کے سبب پیدا ہوتے ہیں۔ تو پھر جو قاتل سیریل کلرز بن جاتے ہیں یا پھر وہ جو ان اجنبیوں یا شناساؤں کو اذیت دے دے کر مارتے ہیں جنھوں نے ان کا کبھی کچھ بھی نہیں بگاڑا۔ مثلاً انیسویں صدی کے آخر میں لندن پر ایک سیریل کلر کا خوف تین برس تک طاری رہا۔ وہ راہ چلتی طوائفوں کو گھیر گھار کر کسی تاریک گوشے میں لے جا کر گلا کاٹ دیتا تھا۔ ہوسکتا ہے کہ کسی ایک یا دو طوائفوں نے اسے کبھی رنج دیا ہو مگر باقی نو کس چکر میں اس کے خنجر کا نشانہ بن گئیں۔ پولیس سمیت کسی کو بھی اس کا اصل نام  معلوم نہیں۔ تاریخ میں یہ قاتل جیک دی رپر کے فرضی نام سے جانا جاتا ہے۔آج سوا سو سال گذرنے کے بعد بھی  بحث جاری ہے کہ جیک دی رپر کون تھا ؟ ایک ہی قاتل تھا یا طوائف دشمن سیریل کلرز کا گروہ تھا۔ پھر جیک دی رپر کا کیا انجام ہوا ؟ تائب ہوا کہ مرگیا ؟

جولائی انیس سو پچانوے میں دو امریکیوں ٹموتھی میک وے اور ٹیری نکولس کو اگر مقامی حکومت سے کوئی پرخاش تھی تو انھوں نے اس کا بدلہ اس عمارت میں موجود سات سو سے زائد لوگوں سے ٹرک بم ٹکرا کر کیوں لیا ؟ چھ سال قبل نیو نازی نظریات سے متاثر آندرے بریوک نے ناروے کے ساحل کے قریب چھوٹے سے جزیرے اوٹویا میں جاری ایک سمر کیمپ میں فائرنگ کرکے ستتر لوگوں کو کیوں قتل کر دیا؟ کیا قاتل کی اس ظاہری منطق پر یقین کرنا کافی ہوگا کہ وہ یورپ میں آباد مسلمان تارکینِ وطن اور ان کی دہشت گردانہ سوچ کے خلاف ہے۔ مگر مرنے والوں میں تو ایک بھی مسلمان نہیں تھا۔

انفرادی قاتل ہو کہ اجتماعی ، دنیا کا کوئی سماج  دعویٰ نہیں کرسکتا کہ وہاں کوئی  قاتل پیدا نہیں ہوگا۔ سن اسی کے عشرے میں کراچی میں ایک شخص یا گروہ نمودار ہوا جس کی دلچسپی بس اتنی تھی کہ فٹ پاتھ پر سوئے  لوگوں کا سر کچل دیا جائے۔ایک درجن سے زائد ایسی وارداتیں کرنے کے بعد یہ فرد یا گروہ اچانک رک گیا۔حکومت سے لے کر عام شہری تک کوئی بھی بتیس برس گذرنے کے باوجود نہیں جانتا کہ ہتھوڑا گروپ کون تھا ،کہاں سے آیا،کدھرگیا وہ۔
دسمبر ننانوے میں لاہور کے ایک سیریل قاتل جاوید اقبال نے خود ہی ایک اخبار کو اعترافی خط بھیجا کہ وہ  سو سے زائد لاوارث بچوں سے جنسی زیادتی کے بعد قتل کرکے ان کے باقیات اپنے ہی گھر میں رکھے گئے تیزاب کے ڈرم میں گھلا چکا ہے۔اس اعترافی خط سے پہلے نہ تو کبھی جاوید اقبال کے اہل ِ محلہ کو شک ہوا ، نہ ہی پولیس کو۔ اور گمشدہ بچوں کے وارث بھی پریشان نہیں ہوئے کہ یہ بچے کہاں غائب ہوگئے۔

لیکن اعترافی خط کے بعد پولیس نے بھی ’ ایفی شنسیاں ’ دکھائیں اور مفرور سیریل قاتل کے فلیٹ سے تین لوگوں کو پکڑا۔ ان میں سے ایک تو دورانِ تفتیش ہی ہلاک ہوگیا مگر دوسرے نے جاوید اقبال کا ٹھکانہ بتا دیا۔عدالت نے دونوں کو سزائے موت سنائی لیکن اس سے پہلے کہ سرکار اس سزا پر عمل کرتی دونوں مجرموں نے بڑے اطمینان سے ہائی سیکیورٹی جیل میں چھت سے لٹک کر خود کشی کرلی۔ اپریل دو ہزار چودہ میں مری کے ایک رہائشی ندیم نے اپنے پیر صاحب کے مشورے پر زندگی خوشگوار بنانے کے لیے اپنے ہی دو بھتیجوں کو اغوا کرکے ذبح کردیا۔ قاتل کی زندگی تو خیر کیا خوشگوار ہوتی خود پیر صاحب بھی پولیس کے ہتھے چڑھ گئے۔

بات پھر وہیں آجاتی ہے کہ انفرادی و اجتماعی قتل کو بھلے آپ اسباب و محرکات کے کتنے اور کیسے ہی لبادے پہنا دیں۔ مگر اس سوال کا کیا جواب ہے کہ اگر کوئی دماغی کمی یا محرومی ہی انسان کو قاتل بناتی ہے تو پھر دنیا کی آٹھ ارب آبادی میں سے آدھے یا ایک چوتھائی یا دس فیصد  لوگ قاتل کیوں نہیں ؟
آبادی کے اعتبار سے دنیا کے چھٹے بڑے ملک پاکستان میں اس وقت کوالیفائیڈ ماہرینِ نفسیات کی تعداد ایک ہزار سے بھی کم ہے۔ جب کہ ایک دوسرے سے بیگانہ ہمسائیوں کی تعداد کروڑوں میں ہے۔ ایسے میں کون کون قاتل آپ کے پڑوس میں رہ رہا ہے، کیا آپ جانتے ہیں؟جب آپ جانتے ہی نہیں تو اسباب پر خاک غور ہوگا۔ بس سزا دیتے چلے جائیں اور اگلے برس پھر اتنی ہی قاتل کھیپ کی مزید فصل کاٹتے جائیں۔

قاتل سے دبنے والے اے آسماں نہیں ہم
سو بار کر چکا ہے تو امتحاں ہمارا

وسعت اللہ خان

KHAWAJA UMER FAROOQ

About KHAWAJA UMER FAROOQ -

Stand Up for What is Right Even If You Stand Alone.

Subscribe to this Blog via Email :