Wednesday, April 27, 2016

KHAWAJA UMER FAROOQ

’’مجھ سے امیر شہر کا نہ ہو گا احترام‘‘

چھبیس دنوں میں وزیراعظم کے قوم سے تین دفعہ خطاب نے ہر پاکستانی کو سوچنے پر مجبور کر دیا کہ کچھ ہونے والا ہے ۔ کیا واقعی کچھ ہونے والا ہے؟ یا پھر یہ کہ پانامہ لیکس کا فتنہ، کچھ ہی دنوںمیں اپنی موت آپ مرنے والا ہے، پھرگو نواز گو کا خطرہ ٹل جائے گا،اور قوم حسب معمول کسی اور خبر کی جانب نکل پڑے گی۔ جتنے منہ اتنی باتیں لیکن وزیراعظم کو بار بار سرکاری ٹی وی پر نمودار ہو کر قوم کو اپنی اور خاندان کی صفائی دینے کی ضرورت کیوں پیش آ رہی ہے؟یہ بھی سمجھ نہیں آرہی کہ حکمران اتنے معصوم کیوں بن جاتے ہیں اور یہ کہتے نہیں تھکتے کہ ’’میں نے کچھ نہیں کیا‘‘۔ چلیں مان لیتے ہیں کہ کچھ نہیں کیا… اگر واقعی کچھ نہیں کیا تو ملکی اداروں کا بیڑہ غرق کیوں ہو چکا ہے۔

منٹو پارک میں چار ہاکی کے گراؤنڈز ہوا کرتے تھے۔ آج قومی کھیل تباہ ہو چکا ہے کیا یہ کرپشن نہیں ہے؟ نوجوان نسل کو کھیل سے نکال کر جرائم کی طرف دھکیلا جا رہا ہے، یہ کرپشن نہیں ہے؟ تعلیمی ادارے تباہ کر دیے گئے ، کیا یہ کرپشن نہیں ہے؟ اسپتال تباہ کر دیے گئے، یہ کرپشن نہیں ہے؟… ملک کے ادارے تباہ کر دیے گئے ،کیا یہ کرپشن نہیں ہے؟ آف شور و ان شور ذاتی ادارے تو دن دگنی رات چوگنی ترقی کر رہے ہیں مگر ملک کے ادارے ڈوب رہے ہیں۔
اربوں روپے میں بنی ہوئی ملتان روڈ کو دوبارہ سے اُکھاڑ کر منصوبے بنا نا کیا، اسے کس نام سے پکارا جائے۔ گریڈ 18کے افسرکو گریڈ 20میں لگا دینا کونسا میرٹ ہے ؟ ذاتی سیکیورٹی کے لیے پنجاب بھر کے خفیہ اداروں کے اہلکاروں کو تعینات کر دینا اور عوام کو جرائم پیشہ افراد کے رحم و کرم پر چھوڑ دینا کیا ہے؟ 
گزشتہ 7سال سے رنگ روڈ نہیں بننے دی گئی…؟ ’’ڈولفن فورس‘‘ کا کام اسٹریٹ کرائمز روکنا ہے، دن کی روشنی میں مذکورہ فورس باہر آتی ہے اور رات کے اندھیرے میں غائب ہو جاتی ہے جب کہ رات کو کرائم ریٹ 90فیصد ہوتا ہے۔
مجھے بتائیے کیا یہ کرپشن نہیں ہے؟ ایک جانب اربوں روپے کے ٹیکے لگ رہے ہیں جب کہ ہمارا ایک کانسٹیبل پچاس پچاس روپے کی کرپشن کر کے اپنا گزر بسر کرے۔ پولیس کے شہداء کو طبقاتی شہید بنا دیا گیا۔ مخصوص لوگوں سے اپنی تعریفیں کروانا اور صحافیوں کو خریدنا کیا، دہشت گردی کو فروغ دینا اور چھوٹو گینگ سمیت سیکڑوں گینگز کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا ، ملکی سیاست سے اپوزیشن کو ختم کر دینا ،کیا یہ کرپشن نہیں ہے؟ ملک میں گزشتہ کئی سالوں سے ایک بھی ڈیم نہ بنانا ، نان کرکٹرز کو کرکٹ بورڈ کا چیئرمین لگانا ، غیر ملکی سرمایا کاروں کو پاکستان میں لانے کے لیے اقدام کرنا اور اپنا پیسہ باہر رکھنا کیا یہ کرپشن نہیں ہے؟ الغرض یہ کہ پاکستان کی سیاست کو پیسے کی مداخلت نے تباہ کر کے رکھ دیا ہے، اسی کی وجہ سے سیاست میں Criminalistaion غالب ہے ۔ کالے دھن نے سیاست کو ایک منافع بخش انڈسٹری کا درجہ دے دیا ہے۔

جس ملک میں منافقت اور جھوٹ عام ہو جائے وہاں ویلیوز یا سماجی اقدار کا انحطاط معاشرے کو لے ڈوبتا ہے، اسی لیے دوسرے جمہوری ممالک میں عوامی نمایندے جھوٹ بولتے ہوئے پکڑے جائیں تو نہ صرف انھیں اپنے عہدے سے مستعفی ہونا پڑتا ہے بلکہ ان کا سیاسی کیریئر ختم ہو جاتا ہے۔ برازیل میں خاتون وزیراعظم کے خلاف میگا کرپشن اور اقرباء پروری کے الزامات میں عوامی احتجاج کی ہمہ گیر لہر کے بعد پارلیمنٹ نے ان کے خلاف مواخذے کی کارروائی شروع کر رکھی ہے۔ جہاں امید ہے انھیں شکست ہو جائے گی۔

برازیل کے ارکان پارلیمنٹ نے ثابت کردیا ہے کہ وہ وزیراعظم کے بجائے اپنے ملک اور اپنے عوام کے مفاد کو زیادہ مقدس سمجھتے ہیں۔ امریکی صدر نکسن کے خلاف مواخذہ کی تحریک پیش ہوئی تھی اس کی وجہ واٹر گیٹ اسکینڈل نہیں تھا جس میں ان پر الزام تھا کہ وہ اپنے مخالفین کے ٹیلی فون ٹیپ کراتے تھے بلکہ مواخذہ اس بات پر تھا کہ انھوں نے کانگریس کے سامنے جھوٹ بولا تھا ۔ اسی طرح جب بِل کلنٹن صدر تھے اور ان پر وائٹ ہاؤس کی ایک ملازم کے ساتھ جنسی تعلقات کا معاملہ سنگین ہو گیا تو مواخذہ اس بات پر نہیں تھا کہ وہ بداخلاقی کے مرتکب ہوئے ہیں بلکہ الزام یہ تھا کہ انھوں نے عدالت کے سامنے جھوٹ بولا تھا۔

انگلینڈ میں اگر کوئی وکیل اپنے مؤکل کے دفاع میں ایسی بات کرتا ہے جو جھوٹ ثابت ہو جاتی ہے تو اس صورت میں اگر عدالت کے نوٹس میں آجائے کہ مذکورہ وکیل نے اپنے مؤکل کو بچانے کے لیے دانستہ جھوٹ بولا ہے تو اس وکیل کا عدالتی کیریئر ختم ہو جاتا ہے لیکن پاکستان کی معاشرتی اور اخلاقی روایات اس درجے پر نہیں پہنچ سکیں کہ یہا ں جھوٹ بولنے پر کوئی گرفت ہو یا ضمیر پر کوئی بوجھ ہو یا عوامی سطح پر ٹھکرائے جانے کا خطرہ ہو۔

غلام رسول چھوٹو نہایت بے وقوف تھا جس نے ڈاکا زنی کے ذریعے کروڑوں روپے کمائے مگر جب وہ گرفتار ہوا تو سکندراعظم کی طرح اس کے دونوں ہاتھ خالی تھے۔ راجن پور کے ڈاکوؤں کی فیملیوں خواتین اور بچوں پر نظر دوڑایں تو ایک قابلِ رحم تصویر سامنے آتی ہے تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اربوں روپے کے جرائم میں ملوث چھوٹو گینگ کا پیسہ کہاں گیا جب اس کا سراغ لگائیں گے تو اس پیسے کا کھُرا سندھ اور پنجاب کے بہت سے ارکانِ پارلیمنٹ کے گھروں تک جائے گا جو چھوٹو کو تحفظ دینے کے بدلے میں اُسے اپنا آلۂ کار بنا کر استعمال کرتے رہے۔ چھوٹو کو چاہیے تھا کہ لوٹ کے مال سے آف شور کمپنی بناتا اور چوری کا مال پانامہ منتقل کردیتا۔ یہ کوئی زیادہ مشکل کام نہ تھا۔

میرا مشورہ ہے کہ اگر عوام کے لیے کچھ کرنا مقصود ہے تو نیت کو صاف رکھ کرکریں ، سب آپ کا ساتھ دیں گے اور اگر ٹی وی پر آکر قوم سے معصومیت سے کہیں گے کہ ’’مجھے اس مٹی سے عشق ہے‘‘۔ مجھے یقین ہے، یہ سن کر یہ مٹی بھی کہے گی ، میں نہیں مانتی، خیر کالم کی وسعت کم ہے ورنہ بقول شاعر

لفظوں کوبیچتا ہوں پیالے خرید لو
شب کا سفر ہے کچھ تو اجالے خرید لو
مجھ سے امیر شہر کا نہ ہو گا احترام
میری زباں کے واسطے تالے خرید لو

علی احمد ڈھلوں

KHAWAJA UMER FAROOQ

About KHAWAJA UMER FAROOQ -

Stand Up for What is Right Even If You Stand Alone.

Subscribe to this Blog via Email :