Friday, March 4, 2016

KHAWAJA UMER FAROOQ

کامیاب لیڈر بننے کی 30 خصوصیات

جب ہم جہاز، ریل گاڑی یا بس میں اپنی نشست پر بیٹھ جاتے ہیں تو ہم اپنے حصے کے فرائض کو پورا کرچکے ہوتے ہیں، یعنی ٹکٹ خریدنے سے لے کر ڈسپلن کے ساتھ اپنی مخصوص کردہ نشست پر بیٹھنے تک ۔ اب اس کے بعد ہم نے کچھ بھی نہیں کرنا ہوتا ہے، اب جو کچھ بھی کرنا ہوتا ہے وہ یا تو پائلٹ نے کرنا ہوتا ہے یا پھر ڈرائیور نے ۔ اب یہ ان کے تجربے، عقل و دانش، سمجھ بوجھ، ناگہانی صورت میں بروقت فیصلوں پر منحصر ہے کہ آیا ہم اپنی اپنی منزل پر پہنچتے ہیں یا پھر دائمی منزل پر یا پھر اسپتال یعنی اب آپ کی منزل پر پہنچنے کی ساری ذمے داری پائلٹ یا ڈرائیور کی ہوتی ہے، آپ کی نہیں ۔ بالکل اسی طرح کا منظر، رشتہ ، تعلق نظام جمہوریت میں آپ کے اور آپ کے چنے ہوئے لیڈر کے درمیان ہوتا ہے ۔

یعنی آپ کا کام اپنی مرضی کے مطابق بہت ساروں میں سے کسی ایک کو منتخب کرنا ہوتا ہے اور جب آپ اسے منتخب کر لیتے ہیں توآپ کا کام ختم ہوجاتا ہے، اس کے بعد آپ کے منتخب کردہ لیڈرکا کام شروع ہوجاتا ہے۔ اب اس کے تجربے ،عقل و دانش، سمجھ بوجھ اور اس کی ترجیحات پر منحصر ہے کہ آیا وہ آپ کو اور ملک کو درپیش مسائل کو حل کرتا ہے یا ان میں اور اضافہ کر دیتا ہے آیا وہ ملکی وسائل کا رخ آپ کو اور ملک کو فائدہ پہنچانے کی طرف کردیتا ہے یا اپنے اور اپنے ساتھیوں کی طرف کردیتا ہے یا تو آپ اسے دعائیں دے رہے ہوتے ہیں یا اپنے فیصلے پر ماتم کر رہے ہوتے ہیں ۔

ایک بہت ہی دلچسپ مشاہدہ ہماری 68 سالہ تاریخ میں بار بار دیکھنے کو نصیب ہوتا آیا ہے۔ ہم سب اپنی زندگی کے تمام چھوٹے بڑے معاملات میں بڑی سمجھ بوجھ سے کام لیتے ہیں اور تو اور ہم اگر روزمرہ کی کوئی چیز بھی خریدتے ہیں تو اس کی اچھی طرح سے چھان بین کرتے ہیں۔
اس کا بغور معائنہ کیا جاتا ہے، اسے اچھی طرح ٹٹولا جاتا ہے اور اپنے اطمینان کے بعد اس کی خریداری کرتے ہیں ۔ اگردوائی بھی خریدتے ہیں تو اس کی میعاد ضرور دیکھتے ہیں ، کسی سے رشتہ قائم کرتے ہیں تو اس کی مکمل معلومات حاصل کرتے ہیں ، اپنوں سے مشورہ کرتے ہیں اور تو اور استخارہ بھی نکلواتے ہیں ، لیکن معاف کیجیے گا ہم اپنی زندگی کا سب سے اہم فیصلہ یعنی اپنے لیڈر کو منتخب کرنے کرتے وقت کوئی چھان بین نہیں کرتے ہیں، یعنی اس کے کردار، ذہانت ، سمجھ بوجھ ، عقل و دانش فیصلے کرنے کی صلاحیت ، ایمانداری، دیانت داری، تجربے کو ذرا برابر اہمیت نہیں دیتے اور نہ ہی اس کے ماضی کو خاطر میں لاتے ہیں، کبھی یہ بھی معلوم کرنے کی کوشش نہیں کرتے ہیں کہ اس کا ویژن کیا ہے۔

داخلی اور خارجی معاملات میں اسے کتنی مہارت حاصل ہے، آیا اس کی سوچ اور ویژن سطحی ہے یا چیزوں پر اس کی گہری نظر ہے، آیا وہ تاریخ معاشیات ،قانون، اقتصادیات ، سیاسیات ، سائنس، فلسفے ، نفسیات کا طالب علم ہے بھی یا نہیں ۔ اس میں کتنا تحمل ، صبر برداشت، حوصلہ موجود ہے آیا اسے اپنے ملک اور اپنے لوگوں سے محبت ہے بھی یا نہیں۔ جب کہ ہمارے برخلاف دوسری طرف دنیا بھر کے تمام جمہوری ممالک میں لوگ اپنے لیڈر کو منتخب کرتے وقت ان میں تمام صلاحیتوں کی موجودگی کا بغور مطالعہ کرتے ہیں اور پھر اپنی زندگی کا سب سے اہم فیصلہ کرتے ہیں ۔

عظیم ماہر نفسیات ڈاکٹر نپولین ہل نے ڈیل کارینگی سے جب یہ سوال کیا کہ آپ ایک اچھے اورکامیاب لیڈر کی ذات میں کن خصوصیات یا خوبیوں کا ہونا ضروری سمجھتے ہیں تو کارینگی نے جواب میں کہاایک کامیاب لیڈر میں 30 خصوصیات کا ہونا ضروری ہے وہ یہ ہیں (1)’’تعین مقصد ‘‘ اور اس کو حاصل کرنے کے لیے خاکہ تیار کرنا (2) ایک ایسے مقصد کا انتخاب جو ہم کو مسلسل جدوجہد پر اکسا سکے کیونکہ دنیا میں کوئی کامیابی اس وقت تک حاصل نہیں ہوسکتی جب تک ہم کسی خاص مقصد کے پیش نظر کام کرنا نہ سیکھیں (3) اشتراک عمل کے اصول پر عمل کرنا

(4) اپنے مقصد کی تکمیل کے سلسلے میں جس خود اعتمادی کی ضرورت ہو اس کو اپنے اندر پیدا کرنا (5) تربیت نفس جو شخص اپنے نفس کو قابو میں نہیں رکھ سکتا وہ دوسروں کو قابو میں رکھنے میں ناکام رہتا ہے(6) صبرو تحمل (7) سوچنے کی صلاحیت (8) صحیح اور بروقت فیصلہ کرنے کی عادت (9) واقعات پر رائے قائم کرنا (10) لوگوں میں جوش پیدا کرنے اور ان کو قابو میں رکھنے کی صلاحیت (11) ہر حال میں راست باز اور دیانتدار ہونا (12) رواداری (13) معاوضہ سے بے نیاز ہوکر زیادہ کام کر نے کی عادت (14) مصلحت وقت کا خیال کرنا اور موقع محل کی نزاکت کو سامنے رکھ کر کام کرنا (15) بولنے سے زیادہ سننے کی عادت ڈالنا (16)جزئیات کا مطالعہ کرنا (17) استقلال (18) بلا جوش میں آئے تنقید برداشت کرنے کی صلاحیت (19) کھانے پینے اورتمام دوسر ی چیزوں میں اعتدال (20) جن لوگوں کی وفاداری ضروری ہے ان کے ساتھ وفادار رہنا

(21) جو لوگ مستحق ہیں ان سے سچائی اور صاف بیانی سے کام لے بات کو ٹالنے یا پہلو بچانے کے لیے حیلہ و بہانہ کرنا اچھا نہیں (22) انسان کی 9 بنیادی کمزوریوں سے واقفیت ،(23) جذبہ محبت ، (25) مالی منفعت کی خواہش ، (26) حفظ نفس، (27) آزادی کی خواہش، (28) آزادی تحریر و تقریر کا جذبہ، (29) حیات بعد ممات کی خواہش ، (30) جذبہ غیض وغضب، جذبہ خوف ۔ جو شخص انسان کے ان جذبات کو پڑھنے اور سمجھنے کی صلاحیت نہیں رکھتا وہ کامیاب لیڈر نہیں بن سکتا ۔ جاذب نظر شخصیت کا مالک ہونا ، ایک وقت میں ایک کام کر نے کی عادت ڈالیے جو افراد ہر فن مولا بننے کی کوشش کرتے ہیں وہ کسی فن میں کامیاب نہیں ہوتے ، غلطیوں سے سبق حاصل کرنا خواہ وہ غلطیاں اپنی ہوں یا غیروں کی  

اپنے ماتحت کام کر نے والوں کی غلطیوں کی خود ذمے داری لے لینا کوئی چیز لیڈری کے لیے اس سے زیاد ہ مہلک نہیں کہ انسان اپنی ذمے داری کو دوسروں کے کاندھے پر دھکیل دے ، دوسرے آدمیوں کے اچھے اوربہترکاموں کا اعتراف کرنا، کامیابی کے اصولوں کو سمجھنا اور ان پر عمل پیرا ہونا ، مثبت انداز فکر پیدا کرنا دنیا میں ایسے آدمیوں کو کبھی عزت کی نگاہ سے نہیں دیکھا جاتا اور ایسا آدمی کبھی کامیاب لیڈر نہیں ہوسکتا جس میں مثبت انداز فکر نہ ہو، ہر کام میں پورے جوش ، دیانت داری اور ذمے داری کا مظاہر ہ کرنا یہ وہ عادت ہے جو انسان کو ہر ہر قدم پر کام آتی ہے۔ اب آپ ہی فیصلہ کر لیں کہ آپ کا اپنے لیڈر کو منتخب کرنے کا طریقہ کار صحیح اور درست ہے یا پھر آپ کو دنیا بھر کے دیگر لوگوں کی طرح اپنا لیڈر منتخب کرتے وقت ان میں کارنیگی کی بتائی گئی 30 خصوصیات کو سامنے رکھنا چاہیے۔

آفتاب احمد خانزادہ

KHAWAJA UMER FAROOQ

About KHAWAJA UMER FAROOQ -

Stand Up for What is Right Even If You Stand Alone.

Subscribe to this Blog via Email :