Saturday, January 2, 2016

KHAWAJA UMER FAROOQ

تصورِ آخرت سے عاری معاشرے

جرم و سزا کی دنیا وقت کے ساتھ پیچیدہ اور گھنجلک ہوتی چلی جا رہی ہے۔ جہاں انسان نے جرم کا سراغ لگانے کے لیے نت نئی ایجادات کیں، بیشمار طریقے اختیار کیے ، وہیں مجرموں نے جرائم کرنے اور انھیں چھپانے کے سو طریقے ڈھونڈ نکالے۔ شہر بڑے ہوئے تو جرم بھی تکنیکی اعتبار سے مضبوط ہوتا چلا گیا اور انسانی معاشرہ سے جرائم کے خاتمے کے لیے بھی اداروں کا جال بچھتا چلا گیا۔لیکن جرم و سزا کی اس داستان کا مرکزی خیال وہی ہے کہ قانون جس کام کوجرم قرار دے دے ،وہی جرم ہے، وہی قابلِ تعزیر ہے، قابلِ دست اندازئی پولیس ہے اور اسی کا مجرم سزا کا مستحق ہے۔

خاوند یا بیوی کو دھوکا دینا چونکہ اسقدر بڑا جرم نہیں کہ اس کے مجرم کو سزا دی جائے تو ایسا کرنے والے کے خلاف دوسرا فریق صرف طلاق کا مقدمہ درج کر کے علیحدگی اختیار کر سکتا ہے۔ لیکن اس علیحدگی کے نتیجے میں جو اولاد پر بیتتی ہے، جو ان کی نفسیاتی نشونما اور اخلاقی تربیت متاثر ہوتی ہے۔

وہ عمر بھر کے لیے نفسیاتی الجھنوں کو ساتھ لیے پھرتے ہیں لیکن اس جرم کا مقدمہ دنیا کے کسی بھی ترقی یافتہ ملک بھی دائر نہیں ہو سکتا۔ لاکھوں کے حساب سے جنس کا کاروبار کرنے والی خواتین جنھیں آج کے انسانی حقوق کی دنیا میں سیکس ورکر کے ’’باعزت لقب ‘‘سے یاد کیا جاتا ہے ، اگر وہ اپنے اس پیشہ یا پروفیشن  کے مخصوص حالات کی وجہ سے بد ترین بیماریوں کا شکار ہو کر بسترِمرگ سے لگ جاتی ہیں تو کیا آج کے  دور کاکوئی مہذب معاشرہ دنیا میں وجود رکھتا ہے کہ ان لوگوں کو انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کر کے جن کی ہوس نے ان عورتوں کو موت کے دروازے پر جا پہنچایا ہے۔
یہ الگ بات ہے کہ ایسی خواتین کی مدد کے لیے عالمی سطح پر این جی اوز متحرک ہو جاتی ہیں لیکن چونکہ قانون ایسا کرنے والوں کو مجرم نہیں گردانتا ، حکومت انھیں صرف بد احتیاط کہہ کر چپ ہو جاتی ہے ، اس لیے چاہے ہزاروں عورتیں جان سے چلی جائیں ان مجرموں پر مقدمہ نہیں چل سکتا۔ایسے ہزاروں معاملات ہیں جہاں انسانوں نے اپنے مفادات کے تابع قانون سازی کی اور آج اس کا خمیازہ بھگت رہے ہیں ۔ آپ ہر ایسے قانون کا مطالعہ کر کے دیکھ لیں جہاں انسان کے وضع کردہ ضابطئہ اخلاق کے تحت بہت سے جرائم کو قانون کی فہرست سے خارج کر دیا گیا تو وہاں آپ کو اس کے پسِ پردہ اربوں ڈالر کا مفاد نظر ضرورآئے گا ۔

شراب پینا جرم نہیں ہے ، لیکن شراب پی کر گاڑی چلانا، جہاز اُڑانا جرم ہے۔ اس لیے کہ اس کے پیچھے اربوں ڈالر کا شراب کا کاروبار ہے۔ میڈیسن کے علم کے مطابق شراب کے استعمال سے جو بیماریاں پیدا ہوتی ہیں انھیں  سے جڑی  بیماریوں اور پاگل پن کا کہا جاتاہے۔ اسی طرح عورتوں کے کاروبار کو دنیا کے کسی ’’مہذب‘‘ ملک میں بذات خود منع نہیں کیا گیا ہے۔ یعنی اگر ایک عورت خود اپنا جسم بیچتی ہے تو وہ جرم نہیں ہے، البتہ اس عورت کو ایسا کرنے پر مجبور کرنے یا پھر اس کے ایسا کرنے کی دلالی یا موجودہ دورمیں مارکیٹنگ جرم ہے ۔ 

فحش فلموں کا کاروبار بذاتِ خود جرم نہیں ہے، البتہ ان فلموں میں کام کرنے والوں کے لیے بالغ یعنی 18سال کا ہونا ضروری ہے۔اس لیے کہ اس کے پیچھے اربوں ڈالر کی انڈسٹری ہے۔ عورت کو کاروبار کے لیے استعمال کرنا جرم ہے لیکن کاروبار کی مارکیٹنگ کے لیے اسے نیم برہنہ تک کر کے اور پھر ہر چوک و چوراہے پر اس کی تصاویر لگانا کوئی جرم نہیں ہے۔ انسان نے جب بھی قانون سازی کی اسے اپنے ذاتی سیاسی اور کاروباری مفاد کے تا بع رکھ کر کیا۔

 بے راہ روی کو رواج دینے کے لیے شادی کی ایک حد مقرر کر دی گئی اور اس کے لیے سو طرح کی دلیلیں گھڑی گئیں ، پوری دنیا میں ممالک سے قانون مرتب کروائے گئے ۔ اٹھارہ سال سے کم عمر کی شادی پر پابندی لگا دی گئی ، نتیجہ یہ نکلا کہ صرف امریکا میں ہر سال دس لاکھ اٹھارہ سال سے کم عمر لڑکیاں مائیں بنتی ہیں۔ یعنی قانون کے مطابق اٹھارہ سال سے کم عمر کی شادی جرم ہے اور قابلِ دست اندازی پولیس ہے۔لیکن اٹھارہ سال سے کم عمر ماں بننا جرم نہیں بلکہ ایک معاشرتی مسئلہ ہے اوراس کے لیے این جی اوز کو آگے آنا چاہیے اور ان لڑکیوں کی مدد کرنا چاہیے۔

انسانوں نے اپنے لیے قانون بنائے ،معاشرے تخلیق کیے ،لیکن یہ تمام قوانین موجودہ سیکولر نظام ِ زندگی کا تحفہ ہیں ۔سیکولر نظامِ زندگی کی کوکھ سے سرمایہ دارانہ جمہوریت نے جنم لیا جس نے انسانوں کو یہ پٹی پڑھائی کہ مذہبی اخلاقیات اور قوانین کا تعلق نہ حکومت سے ہے اور نہ ہی اجتماعی زندگی سے ۔انسانوں کی اکثریت جیسا قانون چاہے بنا سکتی ہے اور اسے نافذ کر سکتی ہے اور یہی بہترین طرزِ زندگی اور انصاف کا موجودہ خوبصورت تصور ہے ۔

یعنی سب جرم ،سزا،عدل و انصاف اسی دنیا میں ہی ہو گا چونکہ اس کائنات کا کوئی خالق نہیں ہے جو قانون عطا کرنے کا اختیار رکھتا ہو،اس لیے کہ آخرت بھی وجود نہیں رکھتی ۔ہمیں اسمبلیوں کے ذریعے ہی انصاف کو قوانین کے ذریعے نافذ کرنا ہے۔آپ دنیا کے دو سو کے قریب ممالک کے قوانین کامطالعہ کر لیں، آپ سوچتے سوچتے بے بس ہو جائیں گے، لیکن آپ حتمی اور آخری انصاف کی ایک جھلک بھی وہاںنظر نہیں آئے گی۔ یہ سب کے سب قوانین انسانوں کو مکمل انصاف فراہم کرنے سے قاصر ہیں ۔ وہ قانون جس سے بچ نکلنے کے ہزار راستے موجود ہوں ،وہاں مکمل انصاف کا تصور ہی نہیں ہو سکتا۔جہاں شہادت تلف کر کے گواہ خاموش کروا کر انصاف کو روکا جا سکے وہاں کیسے مکمل انصاف کیا جا سکتا ہے ۔

اﷲ اورآخرت کے تصور کے بغیر نہ معاشرے تخلیق پا سکتے ہیں اور نہ ہی مکمل انصاف کا تصور وجود میں آتا ہے۔تصور کیجیے دنیا کے مہذب ترین ممالک کا اور پھر سوچیئے کہ ایک شخص اپنے وسیع و عریض گھر میں رات کو انواع و اقسام کے کھانے کھا رہا ہے اور اس کا پڑوسی بھوک کی شدت سے مر جاتا ہے۔کیا دنیا کا کوئی قانون اس امیر شخص پر فردِ جرم عائد کر سکتا ہے۔ کسی تیز رفتار گاڑی کو حادثہ پیش آتا ہے۔ سنسان سڑک پر ایک شخص زخمی کو چھوڑ کر گزر جاتا ہے، زخمی مر جاتا ہے، کیا کوئی قانون اس شخص کو حراست میں لے سکتا ہے۔

آپ دولت جمع کریں، ڈھیر لگا دیں ،ذاتی عیاشیوں پر خرچ کریں ۔اس دنیا میں کوئی قانون آپ کو گرفت میں نہیں لے سکتا۔یہی نا مکمل نظام انصاف ہے کہ اس وقت دنیا میں 430کے قریب ایسے افراد ہیں جن کی دولت اگر دنیا میں تقسیم کر دی جائے تو کوئی بھوکا ،ننگا،بے روز گار نہ رہے۔50 لوگوں کے پاس دنیا کی 65%دولت ہے۔ لیکن کوئی قانون انھیں اس دولت کو غریبوں پر تقسیم کرنے کے لیے جزا اور تقسیم نہ کرنے پر سزا نہیں دیتا۔

دنیا کا کوئی قانون اس دنیا میں ہونے والے جرائم پر مکمل انصاف فراہم کرنے کی اہلیت ہی نہیں رکھتا۔ہزاروں لوگوں کے قتل کے بدلے صرف ایک انسان کی موت اور وہ بھی اب کئی ممالک میں ختم ہو چکی۔یہ نا مکمل نظامِ انصاف کیوں ہے۔اس لیے کہ اﷲ تعالیٰ نے اس دنیا کو انصاف و عدل کے لیے نہیں امتحان کے لیے تخلیق کیا۔البتہ اس دنیا کو امن و آشتی اور سکون و اطمینان کا گہوارہ بنانے کے لیے اس نے کچھ قوانین بتا دیے تاکہ انسانی زندگی اچھی طرح رواں دواں ہو سکے۔

جیسے کہا گیا کہ قصاص میں تمھارے لیے زندگی رکھ دی گئی ۔چوری اور زنا کو سخت ترین سزاؤں سے روکا گیاتاکہ معاشرہ صالح ہو مکمل انصاف کے لیے اﷲ نے یوم آخرت مقرر کر رکھا ہے۔ اسی لیے اﷲ نے ایمان والوں سے تقاضا کیا ہے کہ وہ اﷲ ،اُس کے رسول،فرشتوں اور کتابوں پر ایمان لائیں لیکن آخرت کے دن پر یقین پیدا کریں ۔آخرت کا دن دنیا میں دو طرح کے تصور کو جنم دیتا ہے، ایک مکمل انصاف اور دوسرا مکمل جزا اوراجر،روز حشر ۔انصاف کے مکمل ہونے کے لیے اﷲ نے تمام لوازمات بنائے ہیں گواہی کے لیے ہاتھ اور پاؤں کو خود بولنے کی اجازت دی جائے گی۔آخرت کا یہی خوف کسی بھی معاشرے کو پُر امن رکھتا ہے ۔دوسرا اجر کا تصورہے۔ یہ لوگوں میں نیکی اور انسانوں سے ہمدردی کو جنم دیتا ہے۔

آج دنیا کے مخیر حضرات کی فہرست اُٹھا لیں اور ان کی زندگیوں کے حالات پڑھیں ۔مسلمان،ہندو،سکھ،عیسائی ،یہیودی سب کے سب آپ کو انسانوں کی مدد کرتے اس لیے نظر آئیں گے کہ انھیں آخرت میں مکمل اجر کی اُمید اور توقع ہوتی ہے۔گذشتہ صدی میں آدھی دنیا پر ایک نظام رائج رہا جسے کیمونزم کہتے ہیں ۔اس نظام میں اﷲ کے تصور کو انسانی زندگی سے خارج کر دیا گیا۔پورے کے پورے معاشرے دہریے ہو گئے اور آج جب کہ وہاں سرمایہ داری کا نظام لوٹ آیا ہے ،معاشرے میں سرمایہ دار بھی آ گئے ہیں لیکن روس ،چین اور شمالی کوریا وغیرہ میں آپ کو انسانوں پر خرچ کرنے والے مخیر حضرات کا نشان نہیں ملے گا۔اس لیے کہ خیرات اور انسانی بھلائی کے پیچھے سب سے بڑا جذبہ آخرت میں اﷲ کی خوشنودی ہے۔ کیا یہ دنیا ،حکومتیں ،انسان اور معاشرے مذہب کے بغیر زندہ رہ سکتے ہیںہر گز نہیں ۔

یہ تمام معاشرے جو آج زندہ ہیں انھوں نے تمام قوانین مذہب سے ادھار لیے ہیں ،سچ بولنا،غیبت نہ کرنا،جھوٹی گواہی نہ دینا،دھوکا اور فریب سے اجتناب وغیرہ یہ سب اصول مذہب نے متعین کیے اور دنیا میں کسی جمہوریت میںیہ دم نہیںکہ انھیں تبدیل کر سکے۔

کیا کوئی پارلمینٹ 100%ووٹ سے جھوٹ بولنا، دھوکا دینا یا چوری کرنا جائز قرار دے سکتی ہے۔ مذہب تمام عالمی اخلاقیات کا باپ ہے۔ سیکولر طرزِ زندگی کا کمال یہ ہے کہ، اپنی زندگی میں باپ کے تمام اصولوں کو نافذ کر تاہے لیکن باپ کی اولاد ہونے سے انکار کر دیتا ہے۔ سیکولر ازم الحاد اور دہریت کی پہلی سیڑھی ہے ۔اﷲ اور آخرت کا تصور انسانی معاشرے سے خارج کر کے دیکھو ،دنیا کی ہر حکومت ایسے ہو گی جیسے وہ ایک منہ زور گھوڑے کو قابو کر رہی ہے اور گھوڑا اُسے گرا کر دور نکل جاتا ہے

اور یہ گھوڑاحرص ،ہوس،خود غرضی ،لالچ ،جنس اور خواہشات کا گھوڑا ہے جسے صرف قوانین ِ الٰہی قابو کر سکتے ہیں۔ورنہ سب خسارہ ،جنگیں ،کروڑوں کی موت،بے سکون،بے مہر اور بے اطمینان معاشرے۔

اوریا مقبول جان

KHAWAJA UMER FAROOQ

About KHAWAJA UMER FAROOQ -

Stand Up for What is Right Even If You Stand Alone.

Subscribe to this Blog via Email :