Friday, December 25, 2015

KHAWAJA UMER FAROOQ

سڑکیں بنانے سے کوئی شیر شاہ سوری نہیں بنتا

شیر شاہ سوری پرجب نزع کا عالم تھا تو اس نے کئی بار حسرت بھرے کلمات کہے، قریب موجود معتمد خاص غازی محلی اور دیگر مقربین نے کہا، بادشاہ سلامت! آپ نے پانچ سال کی مختصر مدت میں اس قدر کارنامے سرانجام دیئے، ریاست کے نظم ونسق کے حوالے سے انقلابی اقدامات کئے، رعایا کی فلاح وبہبود کے لئے کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی تو دنیا سے رخصت ہوتے وقت دل چھوٹا کیوں کرتے ہیں؟ شیر شاہ سوری نے کہا، تم ٹھیک کہتے ہو مگر میں چار حسرتیں سینے میں لئے جا رہا ہوں۔

 میری پہلی آرزو تو یہ تھی کہ ولایت روہ کو وہاں سے ویران کرکے دریا ئے اٹک سے لاہور تک اور پھر کوہ نندنہ سے کوہ شوالک تک آباد کر دوں تاکہ جب بھی کوئی مغل حملہ آور آئے تو فوراً خبر ہو جائے اور کابل سے کسی حملہ آور کو ہندوستان میں داخل نہ ہونے دیا جائے۔

میری دوسری آرزو یہ تھی کہ لاہور شہر کو ویران کر دوں کیونکہ یہ عظیم شہر غنیم کے لئے باعث کشش اور پناہ گاہ بنتا ہے۔ ایسی صورت میں کوئی حملہ آور لاہور شہر فتح کر کے پورے علاقے پر قابض نہیں ہوسکے گا۔ میری تیسری خواہش یہ تھی کہ مکہ معظمہ جانے والوں کے لئے سمندری راستوں میں مختلف مقامات پر پچاس پچاس جہازوں کے بیڑے کی سرائے بنائوں اور یہ بیڑے اس قدر مضبوط ہوں کہ طوفان باد و باراں کا اثر نہ ہو۔ تاکہ حجاج کرام بے خطر سفر کر سکیں۔ میری آخری خواہش یہ تھی کہ پانی پت میں سلطان ابراہیم لودھی کی قبر پر شاندار مقبرہ بنائوں اور اس کے سامنے ان بادشاہوں کے بھی مقبرے بنائوں جنہیں میں نے خود قتل کیا۔ افسوس ان میں سے کوئی بھی آرزو پوری نہ ہو سکی اور میں یہ حسرتیں دل میں لئے جا رہا ہوں ۔
شیر شاہ سوری نے پانچ سال تک ہندوستان پر بادشاہت کی، اس کی سلطنت دہلی سے سندھ تک پھیلی ہوئی تھی۔ وہ مسلسل حالت جنگ میں رہا مگر اس کے باوجود اس نے ایسے ناقابل یقین کارنامے سرانجام دیئے کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ اس کا سب سے بڑا کارنامہ تو جی ٹی روڈ کی تعمیر ہے مگر ریاست کا ڈھانچہ تشکیل دینے میں شیر شاہ سوری کا کلیدی کردار ہے۔ 

ہمارے معاشرے میں آج یہ باتیں ہو رہی ہیں کہ مساجد ریاست کے زیر انتظام ہونی چاہئیں مگر اس کے دور میں ہر مسجد کے لئے باقاعدہ امام، موذن اور خادم مقرر کیا جاتا اور اسے سرکاری خزانے سے تنخواہ دی جاتی۔ تاریخ خان جہانی و مخزن افغانی کا مصنف بیان کرتا ہے کہ اس کے دور میں چوری ڈاکے اور دیگر جرائم ختم ہو گئے۔ کسی مسافر کے پاس جتنا چاہے مال واسباب ہوتا۔

وہ ویرانے میں پہرہ دار کے بغیر سو جاتا کیونکہ اگر اسے لوٹ لیا جاتا تو حکومت اس کا نقصان پورا کرتی۔ ڈاک کا نظام اس قدر برق رفتار اور مربوط تھا کہ ایک دن میں چٹھی ریاست کے آخری کونے تک پہنچ جاتی۔ یہ ہندوستان کا پہلا حکمراں تھا جس نے سویلین حکمرانی کی داغ بیل ڈالی۔ مغل بادشاہوں کے ہاں فوج کا سربراہ ہی وزیر دفاع ہوا کرتا تھا مگر اس نے سویلین وزیر دفاع کے ذریعے انٹیلی جنس سیکرٹریٹ اور فوج کو چلایا۔
 شیر شاہ سوری نے باغات اور عالیشان عمارتیں کھڑی کرنے کے بجائے اسپتال اور لنگر خانے تعمیر کروائے، مسافروں کے قیام وطعام کے لئے سرائے بنائی گئیں۔ اس نے ہندوستان میں مالیہ کا نظام متعارف کروایا، اس کے دور میں پہلی مرتبہ زمینوں کی پیمائش کے لئے بیگھے کی اکائی متعارف کروائی گئی، خسرہ نمبر الاٹ ہوئے تاکہ کوئی کسی کی زمین پر قابض نہ ہو سکے۔ یہ سب خدمات اور فتوحات صرف پانچ سال پر محیط ہیں۔

ہمارے ہاں بھی ہر آنے والی حکومت کا دور اقتدار پانچ سال پر مشتمل ہوتا ہے مگر جب مدت اقتدار ختم ہوتی ہے تو یہ عذر پیش کیا جاتا ہے کہ اس قدر قلیل وقت میں کیا ہو سکتا ہے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف نہ جانے شیر شاہ سوری سے متاثر ہیں یا ان کی طبیعت ایسی ہے کہ وہ ہر کام برق رفتاری سے کرنا چاہتے ہیں۔ تمام تر اختلافات کے باوجود ایک بات بہر حال تسلیم کرنا پڑے گی کہ انہوں نے سرکاری منصوبے کئی سال تک فائلوں کی زینت بنائے رکھنے کی روایت ختم کر کے انہیں ہفتوں اور مہینوں میں مکمل کرنے کا کلچر متعارف کروایا ہے۔ لیکن انہیں شاید یہ غلط فہمی ہے کہ شیر شاہ سوری کو تاریخ میں جو مقام حاصل ہوا، وہ جی ٹی روڈ کے مرہون منت ہے یا پھر یہ کہ شیر شاہ سوری نے ماسوائے سڑکیں بنوانے کے اور کوئی کام نہیں کیا۔

لہٰذا وہ بھی دل و جان سے اس کام میں لگے ہوئے ہیں۔ شیر شاہ سوری کی طرح وہ بھی شہر کو برباد کر کے آباد کرنے کے فلسفے پر یقین رکھتے ہیں۔ آپ ان کے گزشتہ دور حکومت کی بجٹ دستاویزات اٹھا کر دیکھ لیں یا پھر موجودہ دور کے تینوں بجٹ ملاحظہ کریں، صحت و تعلیم جیسے شعبہ جات سے کئی گنا زیادہ بجٹ سڑکوں اور پلوں کی تعمیر کے لئے مختص کیا گیا۔ 2014-2015ء میں شعبہ صحت کے لئے 121 ارب روپے مختص کئے گئے جس میں سے 90 فیصد رقم آپریشنل اخراجات کے لئے تھی اور محض 10 فیصد رقم نئے منصوبوں کے لئے رکھی گئی۔

جبکہ اسی بجٹ میں سڑکیں بنانے اور میٹرو چلانے کے لئے 137 ارب روپے کی خطیر رقم مختص کی گئی۔ 2015-2016ء کے بجٹ میں صحت کے لئے مختص رقم میں معمولی سا اضافہ کیا گیا اور 166 ارب روپے رکھے گئے مگر اس میں بھی نئے منصوبوں کے لئے صرف 30 ارب روپے مختص کئے گئے جبکہ اس کے مقابلے میں شاہرائوں کی تعمیر اور ماس ٹرانسپورٹ سیکٹر کے لئے 161.5 ارب روپے رکھے گئے۔

اگر آپ میاں شہباز شریف کے دور حکومت میں بننے والی سڑکوں، فلائی اوورز، انڈر پاسز، ماس ٹرانسپورٹ کے منصوبوں کا شمار کرنے بیٹھیں تو ایک طویل فہرست ہے لیکن اس کے برعکس ان کے 8 سالہ دور اقتدار میں بننے والے اسپتالوں کا حساب کتاب لگانے بیٹھیں تو انگلیوں پر گن سکتے ہیں۔ راولپنڈی انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی، شاہدرہ کا اسپتال، بہاولپور اسپتال کے علاوہ کوئی اور نمایاں اور قابل ذکر منصوبہ دکھائی نہیں دیتا۔ مظفر گڑھ میں ترکی کے تعاون سے طیب اردوان اسپتال بنایا گیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر آبادی میں اضافہ ہو جانے کے باعث سڑکیں کم پڑ رہی ہیں، ٹریفک بڑھ رہی ہے تو کیا ان بڑھتے ہوئے انسانوں کو بنیادی طبی سہولتوں اور علاج معالجے کی ضرورت نہیں؟

آپ کے پاس لیپ ٹاپ اسکیم کے لئے اربوں روپے ہیں، میٹرو چلانے کے لئے وسائل کی کمی نہیں مگر زندگیاں بچانے کے لئے بجٹ نہیں؟ چمچماتی سڑکیں اور ان پر دوڑتی گاڑیاں بھلے خوشحالی کی علامت ہوں مگر جب تک سفر کرنے والوں کو تحفظ حاصل نہیں ہو گا، سزا اور جزا کا نظام متحرک نہیں ہو گا، لوگوں کو بنیادی سہولتیں میسر نہیں ہوں گی، یہ خوشحالی دیر پا نہیں ہو گی۔ آپ کے پاس انتہائی قابل مشیروں کی کوئی کمی نہیں، ان میں سے کسی سے استفادہ کر لیں یا پھر شیر شاہ سوری کے دور اقتدار سے متعلق کسی مستند کتاب کا مطالعہ فرمائیں تاکہ یہ حقیقت واضح ہو سکے کہ محض سڑکیں بنانے سے کوئی شیر شاہ سوری نہیں بن جاتا۔

محمد بلال غوری
 بشکریہ روزنامہ 'جنگ'

KHAWAJA UMER FAROOQ

About KHAWAJA UMER FAROOQ -

Stand Up for What is Right Even If You Stand Alone.

Subscribe to this Blog via Email :