Tuesday, November 3, 2015

KHAWAJA UMER FAROOQ

بھارت میں فاشزم آنے کو ہے

میرے خیال سے بھارت میں کسی نہ کسی قسم کی فاشزم ناگزیر طور پر آنے والی ہے جس کے نتیجے میں جمہوریت، اظہار رائے اور پریس کی آزادی اور شہری آزادی کو کچل دیا جائے گا۔

ان حقائق پر نظر ڈالیں 

موجودہ حکومت وکاس یا ترقی کے نعرے کے ساتھ برسراقتدار آئی۔ جس کا مطلب یہ ہے یا کم از کم یہ سمجھا گيا اب لاکھوں نوجوان کے لیے روزگار فراہم کیے جائیں گے، تاجروں اور دوسروں کے فائدے کے لیے صنعتی ترقی ہوگي اور عمومی طور پر خوش حالی آئے گي۔

بھارت میں غربت اور بے روزگاری کے خلاف مظاہرے ہوتے رہے ہیں
حکومت کو آئے ہوئے تقریباً ڈیڑھ سال ہو چکے ہیں لیکن ترقی کا کوئی نام نشان نظر نہیں آتا بلکہ اس کی جگہ صفائی مہم، گھر واپسی، گڈ گورنینس ڈے، یوگا ڈے جیسے کرتب نظر آتے ہیں۔

لیکن ہم یہ دیکھ رہے ہیں کہ حکومت کی موجودہ معاشی پالیسیوں کے نتیجے میں مزید، کساد بازاری، بے روزگاری، غذائیت کی کمی، ہیلتھ کیئر کی کمی، کسانوں کی خودکشی اور عام غربت میں اضافہ ہوگا۔ البتہ چند تاجروں کو ضرور فائدہ پہنچے گا۔ دال اور پیاز جیسی ضروری اشیا کی قیمتیں آسمان چھو رہی ہیں اور ان میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔
اس کے نتیجے میں یہ حکومت دن بدن غیر مقبول ہوتی جائے گی۔ اور لوگ بطور خاص نوجوان یہ محسوس کریں گے کہ انھیں ٹھگ لیا گیا ہے۔

وزیراعظم نریندر مودی کی حکومت ترقی کے نعرے پر برسر اقتدار آئی ہے
ٹھگے جانے کے احساس، شدید معاشی مشکلات، روز افزوں مہنگائي، بے روزگاری، غذائیت کی کمی، کسانوں کی خودکشی اور عام پریشانیوں کے نتیجے میں ملک بھر میں وسیع پیمانے پر احتجاج، پریشانیا اور شورش پیدا ہوں گی۔
ان سے نمٹنے کے لیے وہی کوششیں کی جائیں گی جو پہلے بھی کی جاتی رہی ہیں۔ جیسے عوام کو مذہبی خطوط پر تقسیم کرنا اوراقلیتوں کو پریشانیوں کا سبب قرار دینا جس طرح یہودیوں کو نازی پریشانیوں کا سبب قرار دیا کرتے تھے۔
آپ کو یاد ہو کہ جرمنی اور اٹلی میں روز افزوں مہنگائی اور شدید بے روزگاری کے خلاف زبردست احتجاج کے نتیجے میں فاشزم سنہ 1920 اور 1930 کی دہائیوں میں آیا تھا۔

بھارت کی موجودہ معاشی پالیسی سے چند لوگوں کو فائدہ ضرور پہنچے گا
یہ اقدامات زیادہ دنوں تک موثر ثابت نہیں ہوں گے کیونکہ تھوڑے ہی وقت کے بعد خوراک اور نوکریاں لوگوں کو مذہب سے زیادہ عزیز ہوں گی۔ ایسے میں حکومت کی جانب سے سخت اقدام کیے جائیں گے دوسرے لفظوں میں ایک قسم کی ایمرجنسی لگائی جائے گی جسے ہم سنہ 1975 سے 1977 کے درمیان دیکھ چکے ہیں جس میں تمام شہری حقوق، اظہار رائے اور پریس کی آزادی اور تمام جمہوری اقدار کو کچل دیا جائے گا۔

یہ فاشزم کون سی شکل لے گا ابھی یہ بتانا مشکل ہے لیکن میرے خیال سے ایک سال یا اس سے کچھ زیادہ عرصے کے اندر بھارت میں فاشزم کی آمد ناگزیر ہے۔

مارکنڈے کاٹجو
سابق جج، سپریم کورٹ آف انڈیا

KHAWAJA UMER FAROOQ

About KHAWAJA UMER FAROOQ -

Stand Up for What is Right Even If You Stand Alone.

Subscribe to this Blog via Email :