Tuesday, November 3, 2015

KHAWAJA UMER FAROOQ

ذہنی صحت پر بھی دھیان دیں

دن بھر میں آٹھ گھنٹے کی نیند لازمی لیں تاکہ دن بھر کی تھکاوٹ دور ہو سکے اور جسم و دماغ کھوئی ہوئی توانائی بحال کر لیں،کھانا آرام و سکون سے کھائیں، غصہ، حسد اور کینہ جیسی منفی عادات سے احتراز برتیں، غصے کے دوران ہمیشہ ضبط سے کام لیں، لوگوں سے ہمیشہ خوش اسلوبی سے ملیں اور چھوٹی موٹی باتوں کو درگزر کریں۔ہر بات کو اپنے ذہن پر سوار مت کریں، اگر کوئی ناموافق بات سنیں یا نظر آئے تو اسے بھلانے کی کوشش کریں، چھوٹوں سے پیار و محبت اور بڑوں کا ادب کریں۔ 

لالچ ، حرص و ہوس سے گریز کریں، ہر قسم کے نشہ سے دور رہیں ،احساسِ کمتری کو کبھی اپنے اوپر غالب نہ آنے دیں اور مراقبہ یعنی خاموشی و یکسوئی سے ارتکاز اور ورزش کی عادت ڈالیں جو ذہنی و جسمانی صحت کیلئے اکسیر کی حیثیت رکھتے ہیں۔ پاکستان میں ذہنی امراض کے ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ پاکستان میں ذہنی صحت کے حوالے سے شہریوں کی صورتحال اچھی نہیں ہے اور ملک میں ڈپریشن کے مریضوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ 

اسی وجہ سے ملک میں خود کشیوں کی شرح بھی بڑھ رہی ہے۔ ملک میں جاری دہشت گردی، بد امنی، خودکش بم دھماکے، غربت، بے روزگاری، لوڈ شیڈنگ اورخاندانی نظام کی ٹوٹ پھوٹ کے علاوہ بے یقینی اور عدم تحفط کا بڑھتا ہوا احساس لوگوں میں اضطراب، بے چینی، چڑچڑاپن، غصہ اور ذہنی دباؤ پیدا کرنے کا باعث بنتا جا رہا ہے جو کہ ان کی جسمانی ، ذہنی و نفسیاتی صحت کے لیے زہرِ قاتل ہے۔ یاد رکھیں کہ زندگی گزارنے کے لیے ہمیشہ پر امید اور مثبت انداز اختیار کریں۔  

 یہ حالت مسلسل رہے تو آخر کار انسان ذہنی، جسمانی اور نفسیاتی امراض میں مبتلا ہو کر نہ صرف اپنی بلکہ اپنے پیاروں کی زندگی کیلئے بھی روگ بن جاتا ہے۔ ایک صحت مند جسم کے لیے صحت مند ذہن کا ہونا ضروری ہے۔ ایسی بے شمار بیماریاں جیسے سردرد‘ حافظے کی کمزوری‘ ذہنی تھکن‘ بصارت کی کمزوری‘ ہکلانے کی عادت‘ ذہنی تناؤ و دباؤ‘ احساسِ کمتری یا اس طرح کی دیگر بیماریاں جو کہ ذہنی و نفسیاتی ہوتی ہیں لیکن ان کی طرف سے لاپرواہی برتی جاتی ہے جو کہ بعدازاں جسمانی عوارض کا باعث بن کر کئی پیچیدگیاں پیدا کر سکتی ہیں۔

 اس لیے اگر ایسے امراض کا علاج کرنے کے لیے منفی نفسیاتی عناصر کا تدارک کیا جائے تو جسمانی بیماریاں خود بخود ور ہونے لگتی ہیں۔ پاکستان میں عمومی طور پر لاحق ہونے والے ذہنی و نفسیاتی امراض میںانزائیٹی ،فکر، تشویش‘ اعصابی دباؤ‘ احساسِ کمتری‘ اعصاب زدگی‘ الزائیمر‘ تنہائی پسندی‘بے خوابی وکم خوابی‘ بسیار خوابی و خراٹے لینا‘ نیند کے دوران سانس کا رکنا‘ پاگل پن‘ پارکنسن ڈیزیز‘رعشہ‘ حسد‘ حافظہ کی کمزوری‘ خوف کا فوبیا‘ خود اعتمادی کا فقدان‘ خیالات کا تسلط اور تکرارِ عمل ‘ ڈپریشن ،افسردگی ‘ ذہنی اضمحلال‘بائی پولر ڈس آرڈر‘ ذہنی تناؤ اور دباؤ‘ سردرد اور دردِ شقیقہ‘ شیزوفرینیا‘ فرسٹریشن  احساسِ محرومی‘ فالج و لقوہ‘ مرگی‘ وہم اور ہسٹیریا وغیرہ شامل ہیں۔

 یہ چند ایک بیماریاں ہیں جن کے متعلق عموماً معاشرے میں جنوں کے سایے کی باتیں کی جاتی ہیں حالانکہ یہ مکمل طور پر ذہنی و نفسیاتی عوارض ہیں۔ بس شرط یہ ہے کہ ان کی طرف دھیان دیا جائے اور ان کا مکمل علاج معالجہ کرایا جائے تو یہ افراد بھی معاشرے کے دیگر صحتمند افراد کی طرح بہتر ،خوشحال، قابلِ تکریم اور پْروقار زندگی بسر کر سکتے ہیں۔ -  

KHAWAJA UMER FAROOQ

About KHAWAJA UMER FAROOQ -

Stand Up for What is Right Even If You Stand Alone.

Subscribe to this Blog via Email :