Header Ads

Breaking News
recent

امریکہ کی نئی حکمت عملی ۔ ہمارے خطے کیلئے نئے چیلنج

مریکی صدر باراک اوباما نے افغانستان میں امریکی فوج کے قیام میں توسیع کا جو اعلان کیا ہے ، اس کے ہمارے خطے کے حالات پر گہرے اثرات مرتب ہوں گے کیونکہ اس خطے کی سیاسی معیشت اور نئی صف بندیوں کے حوالے سے جو فیصلے ہو رہے تھے ، وہ 2016ء میں افغانستان سے امریکی فوج کے انخلاء کو سامنے رکھ کر کئے جا رہے تھے ۔ اس خطے کی سیاسی حرکیات ( Dynamics ) کو تبدیل کرنے کی کوشش کرنے والے چین ، روس ، ایران اور دیگر اہم کھلاڑیوں کو اپنی حکمت عملی میں تھوڑی تبدیلیاں کرنا پڑیں گی ۔

امریکی صدر نے اگلے روز اپنی قوم سے خطاب میں امریکی افواج کے انخلاء کے پروگرام میں جس تبدیلی کا اعلان کیا ، وہ غیر متوقع نہیں ہے ۔ خطے کے بدلتے ہوئے حالات اور یہاں امریکی مفادات کے لئے بڑھتے ہوئے چیلنجز کے پیش نظر یہ توقع کی جا رہی تھی کہ امریکہ اس خطے سے اپنی فوجی موجودگی ختم نہیں کرے گا ۔ باراک اوباما نے امریکی فوج کے قیام میں اگرچہ صرف ایک سال کی توسیع کا اعلان کیا ہے اور کہا ہے کہ 2016ء کے بعد بھی امریکی فوج افغانستان میں موجود رہے گی اور ان کے پیش رو امریکی صدر یہ فیصلہ کریں گے کہ 2017 ء کے بعد کیا کرنا ہے

لیکن یہ بات وثوق سے نہیں کہی جا سکتی کہ امریکہ افغانستان سے نکل جائے گا ۔ پہلے امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے اعلان کیا تھا کہ 2014ء میں مکمل فوجی انخلاء ہو جائے گا ۔ پھر اس میں 2016ء تک توسیع کی گئی اور اب امریکی فوج کے قیام میں بظاہر ایک سال لیکن حقیقتاً غیر معینہ مدت تک توسیع کی گئی ہے ۔ امریکی صدر کے اعلان کے بعد پاکستان کو بھی اپنی حکمت عملی ازسر نو مرتب کرنا پڑے گی۔

اس خطے میں امریکہ کی مستقبل کی پالیسی کیا ہے ؟ اس سوال کا جواب حاصل کرنے کے لئے ہمیں امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے افغانستان پر حملے کے پس منظر کو سمجھنا ہو گا 2001ء میں ’’ نائن الیون ‘‘ کے واقعہ کے بعد امریکہ نے پہلے خفیہ طور پر اور بعد ازاں 7 اکتوبر 2011ء کو ’’ آپریشن انڈیورنگ فریڈم ‘‘ کے نام سے باقاعدہ طور پر فوجی کارروائی کا آغاز کیا ۔ نائن الیون سے پہلے اس خطے میں بعض ایسے واقعات رونما ہوئے ، جن کا آج تجزیہ کیا جائے تو یہ بات واضح ہوتی ہے کہ امریکہ نائن الیون کے بعد اس خطے میں اپنی مداخلت کے لئے پہلے سے انتظام کر چکا تھا ۔
12 اکتوبر 1999 ء کو پاکستان میں جمہوری حکومت کا تختہ الٹا گیا اور نائن الیون سے صرف دو روز پہلے 9 ستمبر 2001ء کو شمالی اتحاد کے رہنما اور افغانستان کی سیاست کے اہم کردار احمد شاہ مسعود کا قتل ہوا ۔ نائن الیون کے واقعہ سے پہلے ہی مغربی میڈیا افغانستان میں طالبان کی حکومت اور اس کے نظریات کے بارے میں پورے یورپ کو متنفر کر چکا تھا ۔ نائن الیون کے واقعہ کے بعد طالبان حکومت سے یہ مطالبہ کیا گیا کہ وہ القاعدہ کا خاتمہ کرے اور اسامہ بن لادن کو امریکہ کے حوالے کر دے ۔ افغانستان کے طالبان حکمرانوں نے سفارت کاری والا رویہ اختیار نہیں کیا اور امریکہ کو واضح طور پر یہ کہہ دیا کہ اسامہ بن لادن کو حوالے نہیں کیا جائے گا ۔

افغانستان کی طالبان حکومت نے افغانستان پر امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے حملے کا پورا جواز بنا کر دیا اور جب 7 اکتوبر 2001ء کو امریکی افواج افغانستان میں داخل ہوئیں تو طالبان نے کسی مزاحمت کے بغیر اقتدار چھوڑ دیا اور فرار ہو گئے ۔ یہ سارے ڈرامائی واقعات اس وقت اگرچہ سمجھ نہیں آتے تھے لیکن اب حالات بالکل واضح ہو چکے ہیں ۔ افغانستان میں امریکہ کی فوجی موجودگی کو 14سال سے زیادہ کا عرصہ ہو گیا ہے ۔ اسے ’’ افغانستان میں امریکہ کی جنگ ‘‘ کا نام دیا گیا ہے ۔ یہ تاریخ کی طویل ترین جنگ ہے ، جو امریکہ نے اب تک لڑی ہے ۔ اس جنگ کا نتیجہ کیا نکلا ؟

صدر باراک اوباما اب بھی یہ بات کہہ رہے ہیں کہ بطور کمانڈر ان چیف وہ اس بات کی اجازت نہیں دے سکتے کہ افغانستان دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہ بنے اور امریکی قوم پر حملے کئے جائیں ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جس مقصد کے لئےیہ جنگ شروع کی گئی تھی ، وہ مقصد پورا نہیں ہوا ہے اور یہ مقصد شاید کبھی پورا ہو گا بھی نہیں کیونکہ امریکہ اس خطے میں اپنی فوجی موجودگی برقرار رکھنا چاہتا ہے ۔ اسے احساس ہو گیا ہے کہ چین ، روس ، ایران اور شنگھائی تعاون تنظیم کے دیگر ممالک اس خطے میں امریکہ کی بالادستی کو چیلنج کر رہے ہیں اور اس خطے کی کیمسٹری تبدیل ہو رہی ہے۔

نئی صورت حال میں خطے کے ممالک کو کیا کرنا چاہئے ۔ اس کے لئے خطے کے ممالک کا آپس میں اتفاق نہیں ہے لیکن سب اس حقیقت کو تسلیم کرتے ہیں کہ امریکہ خطے میں اپنی فوجی موجودگی کو برقرار رکھنے کے لئے طالبان کے ساتھ ساتھ داعش اور دیگرانتہا پسند تنظیموں کو مزید مضبوط کرے گا اور اس خطے میں عدم استحکام پیدا کرے گا ۔ اس حقیقت کا ادراک سب سے پہلے عرب دنیا نے کیا کیونکہ افغانستان اور پاکستان کے بعد امریکی پالیسیوں کے باعث عرب دنیا ہی سب سے زیادہ تباہی کا شکار ہوئی ۔ داعش نامی تنظیم کے خلاف نام نہاد امریکی آپریشن میں عرب ملکوں کی بہت سی حکومتوں نے براہ راست حصہ نہیں لیا اور انہوں نے یہ اعلان کیا کہ وہ اس دہشت گرد اور انتہا پسند تنظیم کے خلاف خود کارروائی کریں گے۔

روس نے عرب دنیا کے اس ادراک کو سمجھا اور شام میں داعش کے ٹھکانوں پر حملے کئے ۔ روس کی اس حکمت عملی نے دیگر عرب ممالک کو بھی راستہ دکھا دیا ہے اور وہ جان چکے ہیں کہ امریکہ کی ضرورت کے مطابق پیدا ہونے والے دہشت گرد گروہ امریکی مفادات کو پورا کر رہے ہیں اور امریکہ کے نام نہاد آپریشن سے دہشت گردی ختم نہیں ہو گی بلکہ اس میں مزید اضافہ ہو گا ۔ عرب دنیا میں روس کے عالمی کردار کی بحالی کو سراہا جا رہا ہے اور اس بارے میں سوچا جا رہا ہے کہ داعش اور دیگر انتہا پسند گروہوں کے خلاف اس طرح حقیقی کارروائی کی جائے ، جس طرح شام میں کی جا رہی ہے ۔

شام میں امریکہ کا دہرا کردار بے نقاب ہو چکا ہے ۔ افغانستان اور پاکستان سمیت جنوبی ایشیا میں بھی انتہا پسند گروہوں کے خلاف کارروائی کرنے کے لئےامریکی ڈسپلن سے نکلنا ہو گا اور اس خطے کے ممالک کو دہشت گردی کے خلاف اپنی حکمت عملی بنانا ہوگی ۔ ورنہ اس خطے کے بہتر مستقبل کے لئے جو نئی صف بندی ہو رہی ہے اور نئے منصوبے بن رہے ہیں ، انہیں نقصان ہوگا ۔

عباس مہکری
بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ‘‘

No comments:

Powered by Blogger.