Header Ads

Breaking News
recent

امریکا کی اتحادی سپورٹ فنڈ میں دلچسپی ختم

امریکا نے پاکستان کو عندیہ دیا ہے کہ اتحادی سپورٹ فنڈ (سی ایس ایف) میں 2015 کے بعد مزید توسیع کا امکان نہیں۔
دفاعی ذرائع کے مطابق ،منگل کو یہاں وزارت دفاع میں 23ویں دفاعی مشاورتی گروپ (ڈی سی جی) کے اجلاس میں سی ایس ایف کے مستقبل کا معاملہ زیر غور آیا۔

اجلاس میں محکمہ دفاع اور خارجہ حکام پر مشتمل امریکی وفد کی قیادت پرنسپل ڈپٹی سیکریٹری برائے دفاع کیلی میگسا مین نے کی ۔
سی ایس ایف انتظام کے تحت ، امریکا پاکستان کو افغانستان میں اپنے آپریشنز کی براہ راست معاونت پر اٹھنے والے اخراجات ادا کرتا ہے۔ 2001 کے بعد سے امریکا اب تک اس مد میں پاکستان کو 13 ارب ڈالرز ادا کر چکا ہے۔
  افغانستان سے امریکی فوج کے انخلا کے ساتھ ہی یہ انتظام ختم ہو جانا چاہیے تھا لیکن امریکی حکومت نے قانون سازی کرتے ہوئے اس میں مزیدایک سال کی توسیع کر دی۔

اضافی شرائط کے ساتھ توسیع شدہ پروگرام کے تحت پاکستان کو ایک ارب ڈالرز تک ادائیگی ہو سکتی ہے۔
ڈی سی جی اجلاس میں پاکستان نے مسلسل درپیش چیلنجز کی وجہ سے پروگرام میں مزید توسیع کی درخواست کی ۔
پاکستان حکومت اس فنڈ کو اپنے سیکیورٹی اخراجات کے ساتھ ساتھ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ کم کرنے کیلئے استعمال کرتی رہی ہے۔
ایک ذرائع نے بتایا کہ امریکا کی جانب سے پروگرام جاری رکھنے میں عدم دلچسپی کی وجہ مشرق وسطی میں داعش کی وجہ سے اس کی بدلتی ترجیحات ہیں۔

فورم میں گفتگو کرتے ہوئے سیکریٹری دفاع لفٹیننٹ جنرل (ر) عالم خٹک نے علاقائی سیکیورٹی میں پاکستان کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا ’پاکستان خطے کے استحکام کیلئے جاری لڑائی میں صف اول ہے ۔۔۔پاکستان کی مسلح افواج آپریشن ضرب عضب جاری رکھتے ہوئے خطے سے دہشت گردوں کو پاک کرنے کیلئے پرعزم ہیں‘۔

ذرائع کے مطابق، پاکستان کو فوج آپریشن جاری رکھنے اور آئی ڈی پیز کی بحالی کیلئے مسلسل امداد کی ضرورت ہے۔
ملک کے قبائلی علاقوں میں جاری فوجی آپریشن کی وجہ سے تقریباً بیس لاکھ لوگ بے گھر ہوئے ہیں جن کی 100 ارب روپے کی مدد سے بحالی کا کام جاری ہے۔
تکنیکی طور پر آئی ڈی پیز کی بحالی سی ایس ایف کے تحت نہیں لیکن پاکستانی حکام سی ایس ایف پروگرام کو جاری رکھنے کا کیس مضبوط بنانے کیلئے اس مسئلہ کو بھی سامنے رکھتے ہیں۔

پاکستان نے سی ایس ایف کو  بدلنے کیلئے2014 میں لابنگ کی تھی اور ابتدا میں امریکی انتظامیہ نے اس تجویز میں دلچسپی بھی لی ۔ تاہم، پاکستانی حکومت کی جانب سے معاملہ کو سیاسی سطح پر اٹھانے میں ناکام کے بعد مزید پیش رفت نہ ہو سکی۔
ذرائع نے مزید بتایا کہ امریکا کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ داعش اس خطے کیلئے بھی شدید خطرہ بنتی جا رہی ہے۔

اجلاس کے بعد وزارت دفاع کے ایک جاری بیان میں بتایا گیا کہ امریکی وفد نے تسلیم کیا کہ اتحادی افواج کے انخلا کے بعد پاکستان نا صرف خطے میں استحکام کا ایک عنصر ہے بلکہ وہ علاقے میں امن کیلئے کوششوں میں بھی اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔

بیان کے مطابق، اجلاس کے شرکا نے امید ظاہر کی کہ امریکا اور پاکستان کے درمیان دفاعی تعاون سے متعلق تصفیہ طلب مسائل جلد حل کر لیے جائیں گے۔تاہم،بیان میں کہیں بھی ان مسائل پر روشنی نہیں ڈالی گئی۔

No comments:

Powered by Blogger.