Header Ads

Breaking News
recent

وادی سُون… گھر مسمار کھیت برباد

بزرگوں نے بھی ایسی کوئی بات کبھی نہیں بتائی کہ وادی سون پر اس قدر بربادی اور تباہی کا زمانہ گزرا ہو جو اب گزر رہا ہے۔ یہ بدقسمتی ہماری ہے کہ گھروں پہ ایسی بربادی کا وقت آیا ہے کہ گھر جانے کی ہمت نہیں پڑتی۔ تین چار دن تک دن رات بارش برستی رہی مکان گرتے گئے اور سبزیوں کے کھیت ملیامیٹ ہو گئے۔
لاہور تک ہمارے گاؤں کی سبزی فروخت ہوتی تھی اور گاؤں سے ضرورت کا سامان بھی مسلسل پہنچتا رہتا تھا۔

 اس سال بھی سال بھر کی گندم لاہور پہنچ گئی۔ خالص گندم جس کا کھیت کسی بھی قسم کی کیمیاوی کھاد سے مکمل محفوظ بلکہ اس گندم کی اس فصل کے کچھ کھیت تو صرف بارش کے پانی پر جوان ہوئے اور اس وادی کے باشندوں کو دنیا کی خالص ترین گندم کھانے کو ملی۔ پہاڑوں کی آغوش میں پلے ہوئے کھیت آسمان کے نیچے خدا کی خالص ترین مخلوق اور اس کا جوہر کسی بھی فصل کی صورت میں ہم ناشکرے انسانوں کے پاس موجود۔ یہ آباد وادی سون کی ایک ہلکی سی جھلک ہے اور اس کے چاروں موسموں کے رقص کا ذکر تو کوئی شاعر ہی کر سکتا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے اس وادی کے کھیتوں میں جو نعمتیں بھر دی ہیں ان کا شمار کیسے کریں۔ توانا جسموں والے طویل قامت لوگوں نے کھیتوں میں زندگی بسر کی یا پھر فوج میں، انھوں نے تلاش روزگار کے لیے شہروں کا رخ بھی کیا جہاں زیادہ تر ٹرانسپورٹ میں کام کیا یا پھر کوئی چھوٹی موٹی نوکری لیکن گھر ہر حال میں گھر ہی ہوتا ہے اور جب اس گھر کے بارے میں خبر ملے کہ بارشوں نے مکانوں کی دیواریں اور چھت تک گرا دیے ہیں اور ان مکانوں کو بحال کرنے کے لیے کوئی معمار بھی میسر نہیں۔ پتھر کی دیواریں اب کون بناتا ہے تو پھر جیب میں کچھ ہو بھی تو کس کام کا۔ ایسے میں شہر جیسے بھی ہوں گاؤں کے گھر دل میں آباد رہتے ہیں۔

وادی سون میں سیلاب نہیں آتا کہ اس کی زمین کی ساخت پانی کو روکتی نہیں اور اسے ندی نالوں میں بند کر کے زمینوں کی طرف بہا دیتی ہے لیکن بارش تو بارش ہوتی ہے اگر وہ براہ راست برستی ہے اور دو چار دنوں تک دن رات مسلسل برستی ہے تو پھر مکانوں کی دیواروں کے رگ و پے میں اتر جاتی ہے اور سبزی ایسی نرم فصل کو تباہ کر دیتی ہے۔ بارش جو وادی کی بارانی زمینوں کے لیے ایک نعمت ہوتی ہے جب یہ نعمت فصلوں اور کھیتوں کو الٹ پلٹ کر دیتی ہے جب ان کی گنجائش سے بڑھ جاتی ہے تو پھر لوگ مسجدوں میں بارش رکنے کے لیے باجماعت دعائیں کرتے ہیں۔
بتایا گیا کہ کوئی چار دنوں تک مسلسل بارش جاری رہی اور یہ چار دن قیامت بن کر گزر گئے اور اپنے ساتھ سب کچھ بہا لے گئے۔ کاشتکاروں کا پورا سال مارا گیا اور کروڑوں روپوں کی فصل ختم ہو گئی ان اخراجات سمیت جو ان فصلوں کی پرورش وغیرہ پر کیے گئے تھے۔

اب نہ اصل باقی ہے نہ زر۔ کچھ بھی نہیں۔ سوائے ایک مسلسل ماتم کے کیونکہ ان کے پاس زندگی بسر کرنے کا کوئی دوسرا ذریعہ نہیں سوائے معمولی سی نوکریوں کے۔ یہ وادی چونکہ لاہور سے بہت دور ہے اس لیے اس کے لیے کسی سرکاری امداد کی درخواست بھی بے سود ہے جس نے پیدا کیا ہے وہی روزی بھی دے گا۔ ایک بات یہ بھی ہے کہ برسات اور سیلاب نے پورا ملک تباہ کر دیا ہے اور ہمارے حکمرانوں کو اپنے گھروں سے باہر جھانکنے کی فرصت کم ہی ملی ہے اس لیے ان سے کسی دور افتادہ وادی کی مدد کی بات کرنا فضول ہے۔

گاؤں سے آنے والوں اور موبائل فون کے ذریعے جو خبریں ملی ہیں وہ اس پوری وادی کی تباہی کی خبریں ہیں۔ فصلوں کے لیے تیار کیے گئے کھیت خصوصی کھادوں سے محروم ہو گئے اور نئی فصل اب نہ جانے کب کاشت کی جا سکے گی کیونکہ زمینیں ایک وسیع و عریض جھیل بن چکی ہیں۔
وادی کی جو جھیلیں بارشوں سے آباد اور پر رونق ہوتی تھیں وہ اس مسلسل اور تیز و طرار بارش نے سمندر بنا دی ہیں اور ان جھیلوں کے کناروں پر زندگی بسر کرنے والے اب نہیں جانتے کہ ان کی جھیل کہاں ہے اور اس کے کنارے کہاں ہیں کیونکہ ان کے سامنے ایک سمندر ٹھاٹھیں مار رہا ہے جس نے ان کی جھیلیں ان سے چھین لی ہیں اور انھیں بے گھر کر دیا ہے۔

حال تو پورے ملک کا اب ایک جیسا ہی ہے بارشوں اور ان کے سیلاب نے ہماری آباد دنیا ہی بدل دی ہے اور ہمیں اپنے گھروں کا نشان تک نہیں مل رہا۔ اگر کسی جگہ چار روز تک دن رات بارش برستی رہے تو وہاں پھر کیا باقی بچتا ہے۔ انسانوں کی عمر بھر کی کمائی یہ بارش بہا لے گئی اور اپنے پیچھے ایک خوفناک ویرانی چھوڑ گئی اب ویرانی میں کوئی کہاں پناہ لے۔ میں چونکہ وادی سون کا باشندہ ہوں اس لیے پورے ملک میں مجھے سب سے زیادہ بربادی اسی وادی میں دکھائی دیتی ہے۔

ایک عرب شاعر نے اپنے بھائی مالک کی یاد میں کہا تھا کہ مجھے تو ہر قبر مالک کی قبر دکھائی دیتی ہے۔ ہمیں بھی پاکستان کا ہر تباہ شدہ علاقہ وادی سون دکھائی دیتا ہے۔ میں اپنے ایم پی اے سے درخواست کروں گاکہ وہ حکومت کو مجبور کر دیں کہ وادی کی خبر گیری کرے۔ یہاں سے ایک ایم پی اے اور ایم این اے پیدا ہوتے ہیں یعنی یہ وادی سیاست کی دنیا کی کوئی بنجر وادی نہیں ہے۔ مناسب حد تک زرخیز ہے اور قریب کی سیاست میں بھی اثر رکھتی ہے۔

عبدالقادر حسن

No comments:

Powered by Blogger.