Header Ads

Breaking News
recent

خلیفہ اول کا پہلا بجٹ

آنحضرت ﷺ کے بعد مسلمانوں کی حکمرانی اور حضور پاک کی خلافت کی ذمے داری حضور کے قریب ترین ساتھی پر ڈال دی گئی۔ یہ تھے حضور پاک کے زندگی بھر کے دوست اور صدیق حضرت ابوبکرؓ۔ وہ مدینہ منورہ میں کپڑے کا کاروبار کرتے تھے جو خلافت کی ذمے داری اٹھانے کے بعد بند کرنا پڑا کیونکہ تجارت اور عوام کے مسائل ایک ساتھ نہیں چل سکتے تھے۔

فرمایا کہ جب حاکم وقت اور خلیفہ کی دکان موجود ہو گی تو کوئی گاہک کسی دوسری دکان پر کیسے جائے گا پھر یہ بھی کہ عوام اور ریاست کے مسائل اتنے ہوا کرتے ہیں کہ ان کے لیے وقت کیسے نکل سکتا ہے۔ تجارت دکانداری اور کاروبار مملکت ایک ساتھ نہیں چل سکتے چنانچہ خلیفہ اول نے مجبور ہو کر اپنی دکان بند کر دی‘ اب سوال یہ پیدا ہوا کہ دکاندار کی ضروریات کہاں سے پوری ہوں ان کے گھر بار کی ذمے داری کون اٹھائے یعنی ان کی آمدنی کا ذریعہ کیا ہو۔

اس حکمران کی حالت تو یہ تھی کہ مدینہ کے مختصر سے شہر کے ہر گھر کی حالت کا انھیں علم تھا کہ کون کس حال میں رہتا ہے اور اس کی حیثیت کیا ہے۔ ایک بڑھیا تھی جس کا کوئی نہیں تھا لیکن ابو بکر صدیقؓ موجود تھا جو اس بڑھیا کے کھانے پینے کا بندوبست خود کرتا تھا۔ خلیفہ کے معتمد ساتھی حضرت عمر فاروق کو جب اس بڑھیا کا پتہ چلا تو وہ صبح کے وقت کھانے پینے کا سامان لے کر اس کے گھر پہنچ گئے جہاں جا کر معلوم ہوا کہ وہ کھانا کھا چکی ہے اور دُھلے ہوئے برتن سامنے پڑے ہیں۔ یہ دیکھ کر عمر فاروق بڑھیا کے پاؤں دباتا اور روتا رہا کہ اے ابوبکر تم ہمارے لیے زندگی اتنی مشکل کیوں کر رہے ہو۔
یہی ابوبکرؓ خلیفہ بن کر جب اپنے ساتھیوں کے سامنے بیٹھا کہ کاروبار سلطنت اب کیسے اور کس طرح چلایا جائے تو کہا کہ آپ لوگ میری تنخواہ مدینہ کے ایک مزدور کے برابر مقرر کر دیں کیونکہ اس اجلاس کی پہلی آئٹم خلیفہ کی تنخواہ تھی اس پر ساتھیوں نے عرض کہ جناب مزدور کی تنخواہ تو بہت کم ہوتی ہے اس پر آپ کا گزارہ نہیں ہو گا تب اسلامی تاریخ کے اس سب سے پہلے اور بڑے حکمران نے آنے والے حکمرانوں کے لیے یہ تاریخی جملہ کہا اور ایک اسلامی حکومت کے بجٹ کا فیصلہ بھی کر دیا کہ پھر مزدور کی تنخواہ بڑھا دی جائے اس طرح میری تنخواہ بھی خود بخود بڑھ جائے گی اور میری ضرورت پوری ہوتی رہے گی۔

یہ اس حکمران کا فیصلہ تھا جو حکمرانی کے لیے خلیفہ نہیں بنا تھا بلکہ خدمت خلق کے لیے اس نے یہ ذمے داری قبول کی تھی اور وہ بھی ساتھیوں کے اصرار پر کہ حضور پاکؐ کی زندگی مبارک کے آخری دن ابوبکر کی رفاقت اور امامت میں گزرے تھے اور صحابہ کرام کا متفقہ فیصلہ تھا کہ یہ بھاری ذمے داری حضرت صدیق اکبر کے سپرد کر دی جائے کیونکہ ان سے بڑا آدمی اور کوئی نہیں اور نوزائیدہ مملکت کو یہی سنبھال سکتے ہیں جنہوں نے حضور پاکؐ سے براہ راست تربیت حاصل کی ہے۔ عمل اور عقیدے میں ان سے زیادہ مضبوط اور کوئی نہیں۔

تو خواتین و حضرات یہ تھا ایک نوزائیدہ نوخیز اور بالکل ہی نو عمر حکومت کا پہلا بجٹ جس کا بنیادی اصول اس کے پہلے حکمران نے طے کر دیا تھا کہ اس مملکت کا حکمران اپنے عوام میں سے کسی سے بھی زیادہ خوشحال نہیں ہو سکتا۔ مدینے کے مزدور اور مدینے کے حکمران کی آمدنی اور تنخواہ بالکل برابر ہو گی۔ نیکی و پرہیز گاری اپنی جگہ لیکن شہری حقوق سب کے برابر نہ کوئی بڑا نہ کوئی چھوٹا۔ بالکل مساوی۔ اگر کوئی عام شہری اپنی کسی محنت اور کسی تجارت وغیرہ سے زیادہ کما لیتا ہے تو یہ اس کا حق ہے۔

آپ کے ملک کا ایک تازہ بجٹ آپ کے پاس ہے کیا اس بجٹ میں اسلامی تاریخ کے اس پہلے بجٹ کی کوئی جھلک ملتی ہے جو وقت کے ذہین اور دیانتدار لوگوں نے تیار کیا تھا اور جس کا معیار ایک مزدور تھا کہ اس کی آمدنی بجٹ کی آمدنی ہو گی یعنی ایک عام شہری کی آمدنی۔ ہمارے حکمرانوں کا بُود و باش رہن سہن اور چال چلن اس بجٹ کے برعکس نہیں تو کیا ہے وہ سرکاری خرچ یعنی عوام کے خرچ پر محلات میں رہتے ہیں ان کی حفاظت کے لیے لاتعداد انسان ہر وقت جاگتے رہتے ہیں ان کے گھر کی آسائش کا کوئی عام پاکستانی تصور تک نہیں کر سکتا۔

ان کی اپنے شہروں کے اندر آمد و رفت پر جتنا خرچ اٹھتا ہے وہ کسی گاؤں کے کل بجٹ کے برابر ہوتا ہے ان کے غیر ملکی شاہانہ دورے عوام کو مزید مقروض کرتے رہتے ہیں۔ ہمارے حکمران سانس بھی سرکاری خرچ پر لیتے ہیں اور اس قدر سخت دل ہیں کہ کسی دوسرے غریب اور نادار پاکستانی کے حال کا تصور تک نہیں کر سکتے۔

ان لوگوں کی تمامتر زندگی غیر پاکستانی زندگی ہے اور داد دیجیے ان کی ہمت کی کہ وہ نہ خدا سے ڈرتے ہیں نہ اپنے ساتھ کے عام آدمیوں سے اور جب ہر سال بجٹ بناتے ہیں تو یہ دیکھتے ہیں کہ عوام پر کس قدر مالی تشدد کیا جا سکتا ہے اور عوام سے کتنا کچھ چھینا جا سکتا ہے۔ میں جب یہ سطریں لکھ رہا ہوں تو بجٹ میرے سامنے نہیں ہے یہ بجٹ سے ایک دن پہلے کا دن ہے لیکن میرے حکمران میرے سامنے ہیں اور ان کے کارندوں نے ان کے لیے جیسا بجٹ بنانا ہے مجھے اس کا خوب اندازہ ہے اور اس بجٹ میں بڑے لوگوں کے مالی تحفظ کو مقدم رکھنا ہے۔

ایک لطیفہ ہے کہ گزشتہ بجٹ میں کاروباری لوگوں کی ایک محفل میں بیٹھا تھا جن کو معلوم تھا کہ بجٹ پیش کیا جا رہا ہے مگر کسی نے بھی ٹی وی کی طرف توجہ نہ کی اگر کوئی ٹی وی دیکھ رہا تھا تو بیرے اور نوکر تھے۔ معلوم ہوا کہ بجٹ کے اہم حصے ان لوگوں کو معلوم تھے پھر وہ وقت کیوں ضایع کرتے وہ تو بجٹ کے مطابق اپنے کاروبار میں رد و بدل بھی کر چکے تھے اور کل سے ان کی تجارت نئے بجٹ کے مطابق شروع ہونی تھی۔

بجٹ ایک ایسی چیز ہے جسے حکومتوں کے علاوہ ایک عام آدمی بھی زیر غور رکھتا ہے کیونکہ اس نے اپنی تنخواہ وغیرہ سے گھر بار کا خرچ چلانا اور خرچے اور آمدنی میں توازن پیدا کرنا ہوتا ہے۔ یہی بجٹ حکومتوں کے بعد ایک عام کاروباری شخص کا بھی ہوا کرتا ہے لیکن ہمارے ہاں ایک ایسا طبقہ پیدا ہو چکا ہے جو مدینہ کے مزدور کے برابر مزدوری لینے کا روادار نہیں ہے اور اسی طبقہ کی معاشی حکمرانی میں ہم نے زندگی بسر کرنی ہے۔

عبدالقادر حسن

بشکریہ ایکسپریس نیوز

No comments:

Powered by Blogger.