Header Ads

Breaking News
recent

دو سو تیس ارب روپے کی کرپشن؟...


ڈی جی رینجرز نے ایپکس کمیٹی کو جو رپورٹ پیش کی ہے، اس میں بہت ساری چونکا دینے والی انکشافات کے علاوہ یہ بھی کہا گیا ہے کہ سندھ خصوصاً کراچی میں 230 ارب روپوں کی کرپشن ہوئی ہے، ڈی جی نے اس حوالے سے بعض اداروں، افراد اور جماعتوں کی بھی نشان دہی کی ہے جس پر مختلف جماعتوں کی طرف سے اعتراض اور احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔

متحدہ کو شکایت ہے کہ کراچی میں رینجرز کی موجودگی کی مدت میں اضافے کے لیے بھی آرمی ایکٹ میں ترمیم کی گئی ہے اس کا طریقہ کار غلط ہے، سو متحدہ اپنی اس شکایت کے ساتھ احتجاج کررہی ہے۔ پچھلے دنوں ہمارے وزیراعظم نے ایک تقریب میں فرمایا تھا کہ ’’کراچی میں مکھی بھی مرجائے تو ہڑتال ہوجاتی ہے‘‘ واضح رہے کہ متحدہ نے اپنے ایک کارکن کی پر اسرار ہلاکت کے خلاف سندھ بھر میں ہڑتال کرادی تھی، وزیراعظم نے اپنی تقریر میں مکھی کا جو ذکر کیا تھا، متحدہ نے اس حوالے سے سخت احتجاج کرتے ہوئے یہ موقف اختیار کیا تھا کہ وزیراعظم متحدہ کے کارکنوں کو مکھی کا توہین آمیز نام دے رہے ہیں، وزیراعظم کی اس تقریر کے خلاف متحدہ نے نصف دن کی ہڑتال کا اعلان کیا اور نصف دن کی یہ ہڑتال پورے سندھ میں ہوئی، یہ مکھی کی اصطلاح کے خلاف احتجاج بھی تھا اور بالواسطہ یہ پیغام بھی کہ متحدہ سندھ میں اب بھی سندھ کی ایک بالادست طاقت ہے۔
اس شکایت پر وزیراعظم نے بطرز معافی وضاحت بھی پیش کردی لیکن ہمارے وزیر دفاع حضرت خواجہ آصف نے ایک اور توپ داغ دی موصوف نے فرمایا کہ صرف مشرقی پنجاب سے آنے والے لوگ ہی اصلی مہاجر ہیں ’’باقی سب جعلی مہاجر ہیں‘‘ اس ’’باقی سب‘‘ کو متحدہ اردو اسپیکنگ قرار دیتے ہوئے، خواجہ آصف سے معافی کا مطالبہ بھی کررہی ہے اور سندھ میں سڑکوں پر احتجاج بھی کررہی ہے۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ ہمارے حکمرانوں کو اپنی ذمے داری کا احساس کرتے ہوئے بہت احتیاط کے ساتھ زبان کھولنی چاہیے۔ دوسری بات یہ ہے کہ جب مسئلے پر اختلاف پیدا ہوا ہے وہ ہے لفظ مہاجر ،کیا 68 سال گزرنے کے بعد جب کہ مہاجروں کی دو نئی نسلیں آئی ہیں اور ہر یہ نسلیں سندھ ہی میں پیدا ہوئی ہیں کیا اب بھی لفظ مہاجر کا استعمال منطقی اور قوم و ملک کے مفادات کے مطابق ہے؟

اس میں کوئی دو رائے نہیں ہے کہ سندھ یا کراچی میں جس بڑے پیمانے پر کرپشن کی کہانیاں گردش کررہی ہیں اور سنگین جرائم کی جو بھرمار ہے اس نے عوام کی زندگی عذاب کردی ہے اور ان دو خطرناک بیماریوں کے خلاف کوئی غیر جانبدارانہ آپریشن ہوتا ہے تو عوام اس کی مکمل حمایت کرے گی ۔ حالت یہ ہے کہ پیپلزپارٹی کے رہنما مظفر شجرہ نے کہاہے کہ سندھ کے محکموں میں بھاری کرپشن ہورہی ہے۔

ڈی جی رینجرز کے انکشافات اگرچہ حیرت انگیز بھی ہیں اور ناقابل یقین بھی لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہمارے سیاست دان اس پر محض چراغ پا ہونے کے بجائے اور شدید رد عمل ظاہر کرنے کے بجائے یہ مطالبہ کرتے کہ ان انکشافات کی غیر جانبدارانہ اعلیٰ سطحی تحقیقات ہونی چاہیے تو ان کا یہ مطالبہ حقیقت پسندانہ بھی ہوتا اور منطقی بھی لیکن ایسا نہیں ہورہا ہے بلکہ اس رپورٹ کو سیاست دانوں کو بدنام کرنے کی کوشش کہا جارہا ہے۔

یہ درست ہے کہ رپورٹ میں بہت سارے سیاست دانوں کے نام بھی آرہے ہیں جو نئی بات نہیں ہے بلکہ پاکستان کی پوری جمہوری تاریخ سیاست دانوں کی ناراضگی بے جواز ہی کہلاسکتی ہے بلکہ ہمارے سیاست دانوں کو جرائم اور کرپشن کے خلاف کی جانے والی ہر کارروائی پر آپریشن کی حمایت کرنی چاہیے اور اس حوالے سے اپنی بے گناہی ثابت کرنے اور کرپشن کے بارے میں رپورٹ کو غلط ثابت کرنے کے لیے ایک اعلیٰ سطحی تحقیقاتی کمیٹی قائم کرنے کا مطالبہ کرنا چاہیے۔ کیا اہل سیاست اس حقیقت سے واقف ہیں کہ صرف کراچی میں روزانہ اربوں روپوں کی کرپشن کا ارتکاب کیا جارہا ہے۔ آج ہمارے ملک کے 18 کروڑ عوام کو غربت سمیت جن سنگین مسائل کا سامنا ہے اس کی ایک بڑی وجہ اعلیٰ سطحی اربوں کھربوں کی کرپشن ہے، کیا عوام کرپشن اور سنگین جرائم کے خلاف کارروائی کی مخالفت کریںگے۔؟

سب سے زیادہ بلکہ ناقابل یقین رد عمل آصف علی زرداری کی طرف سے آیا ہے۔ یہ رد عمل اس قدر شدید اور حیرت انگیز ہے کہ کسی کے حلق سے اتر ہی نہیں پارہا ہے۔ اسلام آباد میں فاٹا کے ’’منتخب عمائدین‘‘ کے حوالے سے منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے زرداری صاحب نے فرمایا ہے کہ ’’ہر چیز کی ایک حد ہوتی ہے، ہماری کردار کشی کرنا چھوڑدو اگر ہم نے آپ کی کردار کشی شروع کی تو پتہ نہیں پاکستان بننے سے آج تک کتنے جنرلز اس کی زد میں آجائیں گے۔
ہمیں پتہ ہے کہ کتنی عدالتوں میں کتنے کیس چلارہے ہیں اور کتنے چلنے والے ہیں ان کی لسٹ لے کر ہم نے پریس کانفرنسوں بیان کی تو آپ کی ’’اینٹ سے اینٹ بج جائے گی، آپ کو تین سال رہنا ہے اور ہمیں ہمیشہ رہنا ہے، پیپلزپارٹی ایک بڑی طاقت ہے ہم جس کو روک لیتے ہیں وہ رک جاتا ہے ہم جس کو پروان چڑھانا چاہتے ہیں وہ پروان چڑھ جاتا ہے، زرداری نے کہاکہ اگر تم نے تنگ کرنا نہیں چھوڑا اور ہم کھڑے ہوگئے تو کراچی سے فاٹا تک سب بند ہوجائے گا اور میرے کہنے پر ہی کھلے گا۔

عام خیال ہے کہ عوامی حمایت کے حوالے سے پیپلزپارٹی کا گراف مسلسل گرتا آرہا ہے اگر یہ تاثر درست ہے تو پھر آصف زرداری اتنی بڑی لڑائی کس کے بھروسے پر لڑنے جارہے ہیں؟ اس میں ذرا بابر شک نہیں کہ پاکستان کی تاریخ میں آج تک کسی سیاست دان نے اس جرأت اور بہادری کا مظاہرہ نہیں کیا اور اسٹیبلشمنٹ کے خلاف اس قدر استقلال کے ساتھ بات نہیں کی۔

جس جرأت اور اعتماد کے ساتھ زرداری بات کررہے ہیں اور یہ بھی حقیقت ہے کہ پاکستان کی جمہوری تاریخ میں کرپشن، بد عنوانیوں کے حوالے سے عموماً سیاست دان ہی بدنام رہے ہیں اور عوام میں ہمیشہ یہ تاثر موجود رہا ہے کہ فوجی حکمران کرپٹ نہیں، اگر زرداری کے پاس کرپٹ جنرلوں کی ایسی کوئی لسٹ ہے تو یہ ان کی ذمے داری ہی نہیں بلکہ فرض ہے کہ وہ اپنے قول کے مطابق یہ لسٹ لے کر پریس کانفرنس کریں اور عوام کو بتائیں کہ 68 سالوں میں کتنے جنرلوں نے کتنے ارب کی کرپشن کی تاکہ دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہوسکے۔

ظہیر اختر بیدری

No comments:

Powered by Blogger.