Header Ads

Breaking News
recent

پاکستان ایٹمی قوت بننے کے بعد

 مئی 1998ء کو چاغی کے پہاڑوں میں تین قسم کے ایٹمی ہتھیاروں کو کامیابی سے چلایا گیا۔ اس کے بعد 30 مئی 1998ء کو مزید تین قسم کے ایٹمی ہتھیار چلائے گئے۔ 30 مئی کو آخری یعنی چھٹی ایٹمی ٹیسٹ کا دھماکہ پلوٹونیم  ساخت کے ایٹم بم کا تھا۔ اس سے چھوٹے ہتھیار یعنی ٹیکٹیکل ایٹم بم بنائے جا سکتے ہیں جس کے بعد انڈیا میں سراسیمگی پھیل گئی اور انڈیا کی سرکار گومگو کی کیفیت میں مبتلا ہوئی۔ پاکستان ان چار ایٹمی قوت ممالک امریکہ، فرانس، روس اور چین کی صف میں شامل ہوا جن کے پاس چھوٹے پلوٹونیم ساخت کے ٹیکٹیکل ایٹم بم ہیں۔

پاکستان نے نہایت محفوظ نیوکلیئر کمانڈ اینڈ کنٹرول کا نظام وضع کیا اور ایٹمی ہتھیاروں کو دشمن پر گرانے کیلئے موثر ہتھیار بنا لئے۔ یہ ہتھیار زمین سے زمین پر، فضا سے لڑاکا طیاروں کے ذریعے زمین پر، بحریہ/ آبدوزوں سے زمین پر گرائے جا سکتے ہیں۔ ملٹی سٹیج راکٹ ٹیکنالوجی پر دسترس حاصل کرنے کے باعث پاکستان دنیا کے کسی بھی کونے پر دشمن پر ایٹم بم گرانے کیلئے دورمار میزائل تیار کرنے کی استطاعت رکھتا ہے۔ اس کا مظاہرہ شاہین تھری میزائل کو رینج پر ٹیسٹ کر کے کیا گیا ہے۔ موبائل لانچر سے نصر میزائل چلا کر حملہ آور دشمن فوجوں پر بیک وقت مختلف اہداف پر کئی ٹیکٹیکل ایٹمی بم گرا کر انہیں نیست و نابود کیا جا سکتا ہے۔ یوں انڈیا کی کولڈ سٹارٹ ڈاکٹرائن (یعنی برق رفتار اچانک حملہ کر کے علاقہ پر قبضہ کرنا) کو ناکام کر دیا ہے۔

سٹیلتھ ٹیکنالوجی سے لیس راڈار پر نظر نہ آنے والے اور سطح زمین کے ساتھ کم بلندی پر پرواز کرکے 700 کلومیٹر فاصلے تک ایٹم بم گرانے کی صلاحیت کے حامل بابر کروز میزائل نے انڈیا کی میزائل دفاعی نظام کو بے اثر کر کے رکھ دیا ہے۔ تاریخی طور پر جب بھی کشمیر میں آزادی کی تحریک زور پکڑتی ہے تو انڈیا کی فوجیں پاکستان پر حملہ کر دیتی ہیں۔ یوں پاکستان پر جنگ مسلط کر کے کشمیر میں دبائو کو کم کیا جاتا ہے۔

ستمبر 1965ء کی جنگ اس کی واضح مثال ہے۔ 2001ء میں امریکہ اور اسکے اتحادی ممالک نے افغانستان پر قبضہ کیا تو کشمیر میں ممکنہ گوریلا جنگ کے خوف سے انڈیا دسمبر 2001ء میں اپنی تمام فوجیں پاکستان کی سرحد پر جمع کر کے جنگ کرنے کی دھمکیاں دیتا رہا۔

نومبر 2002ء میں ڈاکٹر ملیحہ لودھی نے نیویارک میں انڈیا کو متنبہ کیا کہ انڈیا کی طرف سے حملہ کی صورت میں پاکستان ایٹمی حملہ میں پہل کرے گا اور یہ ہی پاکستان کی نیوکلیئر ڈاکٹرائن ہے۔ خوفزدہ ہو کر انڈیا نے اپنی فوجیں واپس بلا لیں۔ آجکل کشمیر میں آزادی کی تحریک زور پکڑ چکی ہے۔ پاکستان انتہائی ترقی یافتہ ایٹمی ٹیکنالوجی اور ایٹمی قوت اور میزائل نظام سے مسلح ملک ہے۔

مقبوضہ کشمیر میں دبائو کو کم کرنے یا ختم کرنے کیلئے انڈیا پاکستان پر حملہ ضرور کرنا چاہتا ہے، کشمیر کی سرحد پر سرحدی خلاف ورزیاں اور چھیڑ چھاڑ اس سلسلہ کی کڑی ہے مگر انہیں پاکستان پر حملہ کرنے کی جرأت نہیں ہے۔ اس بے بسی کے عالم میں انڈیا نے پاکستان کے اندر پراکسی جنگ شروع کی ہوئی ہے۔

انڈیا نے 2004ء سے افغانستان میں ’’را‘‘ جاسوس ادارہ کا ایک مضبوط نیٹ ورک نظام قائم کیا ہے۔ اس کے علاوہ پاکستان کے اندر امریکی سی آئی اے، برطانوی ایم آئی 6 اور اسرائیل کے جاسوس ادارہ موساد کی معاونت سے اسلام آباد، لاہور، پشاور، کراچی اور کوئٹہ میں اپنا خفیہ بیس اور پورے پاکستان کے اندر نیٹ ورک قائم کیا ہوا ہے۔ اس نیٹ ورک اور غیرملکی جاسوس اداروں کی معاونت سے انڈیا نے پاکستان کے اندر دہشت گردی کی کئی وارداتیں کی ہیں جن میں پشاور میں سکول پر حملہ بچوں اور استانیوں کو بیدردی سے قتل کرنا، کراچی میں اسماعیلی فرقہ کے بے گناہ شہریوں کا قتل عام اور مستونگ (کوئٹہ کے نزدیک) میں شہریوں کا قتل عام قابل ذکر وارداتیں ہیں جن میں ’’را‘‘ کے ملوث ہونے کے واضح ثبوت ملے ہیں۔

جنرل پرویز مشرف کے دور حکومت میں ’’را‘‘ کے آفیسر پکڑے گئے اور جنرل پرویز مشرف امریکہ کو انڈیا کے ’’را‘‘ کی دہشت گردی کی کارروائیوں کی شکایت لگاتا رہا مگر عملی طور پر اس کا سدباب نہیں کیا۔ پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں بھی وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے شرم الشیخ کانفرنس میں انڈیا کے وزیراعظم منموہن سنگھ کو ’’را‘‘ کی دہشت گردی کے ثبوت پیش کئے مگر دہلی حکومت نے اس کے خلاف کوئی قابل ذکر کارروائی نہیں کی اور ’’را‘‘ کی کارستانیاں جوں کی توں جاری رہیں۔ ابھی بھی پاکستان کے اندر انڈیا کے جاسوس ادارہ ’’را‘‘ نے کئی دہشت گردی کے واقعات کئے جن کے واضح ثبوت ملے ہیں۔

انڈیا کے وزیر دفاع نے کھلے عام کہا ہے کہ انڈیا پاکستان کے اندر پراکسی جنگ جاری رکھے ہوئے ہے۔ انڈیا کے خفیہ ادارہ ’’را‘‘ کی سرگرمیوں کے معاملہ میں میڈیا پر شور مچانے یا اقوام عالم کو شکایت لگانے سے کچھ حاصل نہیں ہونا۔ پاکستان کے سکیورٹی اداروں کو چاہئے کہ سرجوڑ کر بیٹھیں اور انڈیا کے ’’را‘‘ کے نیٹ ورک کا کھوج لگائیں اور اسے ختم کریں۔ پاکستان کی بقا اور ملک میں امن کی بحالی کیلئے ضروری ہے کہ غیرملکی جاسوس اداروں کی سرگرمیوں پر نظر رکھیں اور ان کو بے اثر کرنے کا بندوبست کریں۔ حکومت پاکستان ڈپلومیسی کے ذریعے اور افواج پاکستان اور ایجنسیاں اپنی تمام تر صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر دشمن کے عزائم کو خاک میں ملا دینے میں انشاء اللہ کامیاب ہونگے۔

 
لیفٹینٹ کرنل (ر) عبدالرزاق بگتی

No comments:

Powered by Blogger.