Header Ads

Breaking News
recent

ایگزیکٹ سکینڈل، ریاستی ادارے اور حکمران

سپر پاور امریکہ کے نیویارک ٹائمز، واشنگٹن پوسٹ اور وال سٹریٹ جنرل عالمی رائے عامہ کو متاثر کرنیوالے جریدے ہیں۔ ہتک عزت کے سلسلے میں امریکی قوانین بڑے سخت ہیں لہذا ان اخبارات میں رپورٹیں عمومی طور پر سنجیدہ تحقیق اور شواہد کے بعد ہی شائع کی جاتی ہیںالبتہ امریکی اخبارات کا پاکستان کے خلاف تعصب بھی ایک حقیقت ہے۔ نیو یارک ٹائمز نے پاکستان کے سب سے بڑے سافٹ وئیر ادارے ایگزیکٹ کے بارے میں ایک تفصیلی رپورٹ میں الزام لگایا کہ یہ ادارہ جعلی ڈگریوں کا کاروبار کرتا ہے۔

 اس رپورٹ نے نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں تہلکہ مچادیا۔ بلاشک نیو یارک ٹائمز کی رپورٹ سے پاکستان کا وقا مجروح ہوا۔ ایگزیکٹ کی انتظامیہ نے نیو یارک ٹائمز کو ہتک عزت اور شہرت کا لیگل نوٹس جاری کیا اور اپنے خلاف تمام الزامات کی تردید کی۔ نیو یارک ٹائمز اپنے مؤقف پر قائم رہا اور اس کی انتظامیہ نے ایگزیکٹ سکینڈل کے بارے میں اداریہ لکھ کر کانگرس سے مطالبہ کیا کہ جعلی ڈگریوں کا عالمی نیٹ ورک چلانے والے ادارے ایگزیکٹ کے خلاف کاروائی کی جائے۔ ذرائع کیمطابق ایگزیکٹ کے سابق ملازم یاسر جمشید نے گھر کے بھیدی کے طور پر لنکا ڈھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ پاکستان میں اراکین پارلیمنٹ جعلی ڈگریاں لے کر مراعات حاصل کرتے رہے۔

 بدقسمتی سے جس ملک میں جعلی دوائیاں بکتی ہوں۔ کتے اور گدھے کا گوشت فروخت ہوتا ہو وہاں پر جعلی ڈگریوں کا کاروبار کیوں نہیں چلایا جاسکتا۔ اس معاملے کا دلچسپ پہلو یہ ہے کہ ریاست کے ادارے مجرمانہ غفلت کے مرتکب ہوئے یا طاقتور افراد ایگزیکٹ سے حصہ پتی وصول کرتے رہے اور وہ پاکستان کے سب سے بڑے ادارے ایگزیکٹ کے فراڈ کو بے نقاب نہ کرسکے یا انہوں نے آنکھیں بند رکھیں اور جب نیویارک ٹائمز میں سٹوری شائع ہوئی تو پاکستان کے سارے ادارے ’’سونے کی اس کان‘‘ پرچڑھ دوڑے۔ حکمرانوں نے ابھی تک کسی ادارے کی جواب طلبی نہیں کی کہ اس نے اپنی ذمے داریاں پوری کیوں نہ کیں البتہ ادارے پاکستان بھر میں ایگزیکٹ کے دفاتر پر چھاپے مار رہے ہیں۔ عجیب افراتفری کا عالم ہے۔ ایگزیکٹ کے چیف ایگزیکٹو شعیب شیخ وضاحتیں کررہے ہیں مگر ان کیخلاف شواہد سامنے آتے جارہے ہیں۔

ایف آئی اے نے وزیرداخلہ چوہدری نثار علی خان کی ہدایت پر انکوائری کا آغاز کردیا ہے۔ ادارے کے سینئر افسران کے بیانات ریکارڈ کیے جارہے ہیں۔ تازہ اطلاعات کیمطابق ایف آئی اے نے جعلی ڈگریاں، سرٹیفکیٹ اور مہریں اپنے قبضے میں لے لی ہیں۔ ایف بی آر نے انکم ٹیکس کے حوالے سے نوٹس جاری کردئیے ہیں۔ ایس ای سی پی نے بھی ایگزیکٹ کو اظہار وجوہ کا نوٹس جاری کیا ہے۔ پنجاب اور سندھ اسمبلیوں میں تحریک التواء جمع کرائی گئی ہے۔ قائمہ کمیٹی قومی اسمبلی اور سینٹ نے بھی کاروائی شروع کردی ہے۔ ماشاء اللہ ریاست کے ادارے کس قدر مستعد اور فعال ہیں۔ الیکٹرانک میڈیا نے اس سکینڈل کو دیوانگی کی حد تک اچھالا ہے اور یہ بھی دعویٰ کیا جاتا ہے کہ اس سکینڈل سے پاکستان کی بدنامی ہوئی ہے۔ 

اس صورتحال پر وزیر دفاع خواجہ آصف کے وہ الفاظ یاد آگئے جو انہوں نے پارلیمنٹ کے اندر تحریک انصاف کے اراکین کے بارے میں استعمال کیے تھے۔ ’’کچھ گریس دکھائیں کچھ شرم اور حیاء کریں‘‘ ایف آئی اے کی ابتدائی رپورٹ آنے سے پہلے اس قدر واویلا کیادنیا میں ریاستیں اس طرح چلائی جاتی ہیں۔ پاکستان میں چار سو شور شرابہ ہے مگر پاکستان کے چیف ایگزیکٹو نے مکمل طور پر خاموشی اختیار کررکھی ہے۔ جمہوری لیڈر کا آئینی، جمہوری اور اخلاقی فرض ہوتا ہے کہ وہ قومی مسائل اور موجودہ حالات کے سلسلے میں کم از کم ہفتے میں ایک بار پریس بریفنگ کرکے عوام کو اعتماد میں لیتا رہے مگر ’’مفاہمت اور مک مکا‘‘ کی مکروہ سیاست نے یہ دن دکھایا ہے کہ سیاستدان عوام کو جواب دہ ہی نہیں رہے۔

 اس سے زیادہ عوام کی توہین اور کیا ہوسکتی ہے کہ ان کی آرزئوں اور تمنائوں کا بڑی ڈھٹائی کے ساتھ قتل عام کیا جائے اور سیاسی رہنما عوام کے سوالوں کا جواب دینے سے ہی انکار کردیں۔ سیاسی رہنما عوام کے خلاف توہین آمیز رویہ ترک کردیں۔ ان کو حقیر نہ سمجھیں ، ان کی عزت نفس کو مجروح نہ کریں۔ کہیں ایسا نہ ہوکہ عوام بپھر جائیں اور ان کو چھپنے کی جگہ بھی نہ ملے۔ جو جمہوریت عوام کو جوابدہ نہ ہو ایسی جمہوریت کو جہنم میں کیوں نہ ڈال دیا جائے۔ پاکستان کے سیکریٹری خارجہ شمشاد احمد خان نے ٹیک کلب کی فکری نشست میں درست کہا کہ ’’جو نظر آتا ہے وہ سچ نہیں اور جو سچ ہے وہ نظر نہیں آتا‘‘۔

ایگزیکٹ کیخلاف اگر الزامات ثابت ہوجائیں تو اسکے مالکان کو نشان عبرت بنادیا جائے مگر پاکستان میں ابھی تک صاف شفاف احتساب کی روایت قائم نہیں کی جاسکی۔ وقت کیساتھ ساتھ ماضی کے المناک سکینڈلوں کی طرح اس عالمی سکینڈل کو بھی ‘‘سرکاری قبرستان‘‘ میں دفن کردیا جائیگا۔ بااثر افراد ’’مک مکا‘‘ کرلیں گے۔ آج جو ریاستی ادارے بڑے پرجوش اور سرگرم ہیں مصلحت آمیز خاموشی اختیار کرلیں گے جو حکمران وفاقی دارالحکومت میں رٹ قائم نہیں کرسکتے مدارس کے طلبہ کھلے عام وفاقی وزیر اطلاعات کے خلاف توہین آمیز اور دھمکی آمیز بینر لگاتے ہیں۔ پولیس سے ہاتھا پائی کرتے ہیں اور قانون کی گرفت سے بچ جاتے ہیں۔ ان حکمرانوں سے کڑے احتساب کی توقع عبث ہے۔ 

چند روز قبل خادم اعلیٰ پنجاب نے عقل و دانش کی بات کی کہ ’’جب تک تھانہ کلچر ختم نہ ہو دہشت گردی ختم نہیں ہوسکتی‘‘۔ ماشاء اللہ یہ بات وہ حکمران کہہ رہے ہیں جو تیس سال پنجاب پر حکمرانی کرتے رہے مگر تھانہ کلچر ختم نہ کرسکے۔ حضور والا جب پولیس حکومتی اشارے پر چودہ معصوم اور نہتے ٹیکس دہندہ شہریوں کو گولیوں سے بھون ڈالے گی اور ایک آزاد غیر جانبدار اور نیک نام جج باقر نجفی کی رپورٹ کی بجائے سرکاری ملازمین پر مشتمل جے آئی ٹی کی رپورٹ معتبر ٹھہرے گی وہاں پر تھانہ کلچر کیسے ختم ہوسکتا ہے۔ ایگزیکٹ کے خلاف ریاستی اداروں کی پھرتی اور چستی پر منیر نیازی یاد آئے۔

منیر اس شہر پر آسیب کا سایہ ہے یا کیا ہے
حرکت تیز تر ہے اور سفر آہستہ آہستہ

اگر پاکستان میں احتساب کا شفاف نظام موجود ہو اور ریاستی ادارے آئین اور قانون کے مطابق کام کررہے ہوں تو ایگزیکٹ یا کسی اور ادارے کو فراڈ اور کرپشن کی جرأت نہیں ہوسکتی۔ کاش اے کاش چیف جسٹس پاکستان ایگزیکٹ کے عالمی سکینڈل کا سوئوموٹو نوٹس لے کر مجرمانہ غفلت کے مرتکب ریاستی اداروں، جعلی ڈگریاں حاصل کرنیوالوں سمیت پورے نیٹ ورک کو بے نقاب کرکے ان کو کیفر کردار تک پہنچا سکیں۔ چیف جسٹس صاحب پاکستان آپ کو پکار رہا ہے جس کا وقار پوری دنیا میں مجروح ہوا ہے۔ پاکستان نے آپ کو ریاست کا سب سے بڑا منصب عطا کیاہے۔ آپ پاکستان کا قرض چکائیں۔ آئین پاکستان آپ کو سوئو موٹو نوٹس لینے کا اختیار دیتا ہے۔

 پاکستان میں فراڈ اور کرپشن کو جڑ سے ختم کرنے کیلئے اپنا اختیار استعمال کیجئے۔ وزیرداخلہ کہتے ہیں کہ ایگزیکٹ نے ٹی وی چینل بول کا لائسنس غیر قانونی طور پر حاصل کیا جو انہوں نے منسوخ کردیا۔ اب مذکورہ چینل عدالت سے حکم امتناعی حاصل کرکے اپنا کام چلارہا ہے۔ چوہدری نثار کا یہ اقدام قابل ستائش ہے مگر انہوں نے غیر قانونی لائسنس جاری کرنیوالے عناصر کیخلاف مقدمہ درج کیوں نہیں کرایا اور حکومت نے عدالت سے حکم امتناعی خارج کرانے کی کوشش کیوں نہیں کی۔ ریاست کو ایڈہاک ازم اور ’’ڈنگ ٹپائو پالیسی‘‘ کیمطابق چلایا جارہا ہے۔ جہاں تک فراڈ، دھوکہ، جعل سازی، کرپشن، قتل و غارت گری، بھتہ خوری، دہشت گردی کا تعلق ہے عوام صبح وشام ایسے ’’ بے رحم مسیحا‘‘ کیلئے دعائیں مانگتے ہیں جو حکومت، ریاست اور اداروں کی ’’بھل صفائی‘‘ کرسکے۔

قیوم نظامی

No comments:

Powered by Blogger.