Header Ads

Breaking News
recent

چینی صدر کا دورہ پاکستان : اقتصادی ترقی کا اہم سنگ میل.....


چینی صدر کا حالیہ دورہ پاکستان، جنوبی ایشیا اور خطے کے سیاسی اور اقتصادی مستقبل کی نئی راہیں متعین کر رہا ہے۔ چین کے صدر شی چِن پنگ بیروز پیر سے پاکستان کے دو روزہ دورے پر آرہے ہیں۔ چینی صدر منگل کو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرینگے۔ اُنہیں پاکستان کا اعلی ترین سول اعزاز "نشان پاکستان" بھی دیا جائیگا۔ دورے کے دوران پاکستان چین اقتصادی راہداری کے منصوبوں اور پاکستان میں توانائی اور مواصلات کے وسائل کو بڑھانے، دفاعی سازوسامان کی فراہمی کیلئے 45ارب ڈالر کے معاہدوں پر دستخط ہونگے۔ چینی صدر کا یہ دورہ گزشتہ سال ستمبر /اکتوبر میں شیڈول کیا گیا تھا لیکن عمران خان اور طاہرالقادری کے دھرنوں نے اس دورے کو ملتوی کروا دیا۔ اس طرح پاکستان کی اقتصادی لائف لائن کا یہ منصوبہ آٹھ ماہ کی تاخیر کا شکار ہو گیا۔ بعض تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ ان دھرنوں کے پس منظر میں جہاں نواز حکومت کو ختم کرنا تھا اور اس اقتصادی راہداری منصوبے کو بھی تارپیڈو کرنا تھا۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں یہ پہلی بار ہوا ہے کہ حکومت کو گرانے کی اس قدر منظم منصوبہ بندی کامیاب نہ ہو سکی۔

گوادر بندر گاہ کی ترقی اور پاک چین اقتصادی راہداری کا منصوبہ ابتداءہی سے پاکستان کی مخالف قوتوں کی نظروں میں کھٹک رہا تھا۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران اس منصوبے کو ناکام بنانے کی کوششیںکامیاب ہوتی رہیں۔ اب پہلی بار یوں محسوس ہو رہا ہے کہ گوادر کی بندر گاہ اور اقتصادی راہداری کا منصوبہ کامیابی سے ہمکنار ہوگا۔ پاک چین دوستی گہرے تعلقات کی بہترین مثال ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان گزشتہ ساٹھ برسوں سے قائم یہ مثالی دوستی وقت کے ساتھ ساتھ مزید مستحکم ہو رہی ہے۔ تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان بنیادی ڈھانچے کی ترقی، توانائی اور معیشت سمیت مختلف شعبوں میں ہونیوالے اربوں ڈالر کے معاہدے خطے کی تقدیر بدل کر رکھ دینگے۔

پاکستان 1950میں چین کو تسلیم کرنیوالا تیسرا غیر کمیونسٹ اور پہلا اسلامی ملک تھا۔ 1951 میں دونوں ملکوں کے درمیان سفارتی تعلقات قائم ہوئے۔ 1955 انڈونیشیا کے شہر پنڈونگ میں غیروابستہ تحریک کا اجلاس پاکستان اور چین کے تعلقات میں اہم سنگ میل ثابت ہوا۔ وزیراعظم چوان لائی اور وزیراعظم محمد علی بوگرا کی اوپر تلے دوملاقاتوں نے دوطرفہ تعلقات کی راہیں کھول دیں۔ پاکستان کے وزیراعظم حسین شہید سہروردی نے چین کا پہلا سرکاری دورہ کیا۔ پاکستانی وزیراعظم کے دورے کے دو ہی ماہ بعد وزیراعظم چوان لائی نے اہل پاکستان کو میزبانی کا شرف بخشا۔ 1961 میں پاکستان نے یواین او کی جنرل اسمبلی میں چین کی رکنیت کی بحالی کا ووٹ ڈال کر چینی عوام کے دل جیت لئے۔

 چین کے وزیراعظم چوان لائی نے 1964میں دوسری مرتبہ پاکستان کا دورہ کیا۔ ایوب خان پاکستان کے سربراہ مملکت کی حیثیت سے دسمبر 1964 میں چین کے دورے پر بیجنگ گئے۔ 1965کی جنگ میں چین نے سفارتی اوردفاعی محاذ پر پاکستان کا بھرپور ساتھ دیا۔ جنگ کے بعد چین کے صدر لیوسوچی مارچ 1966 میں پاکستان آئے۔ 1971 میں ذوالفقارعلی بھٹو نے اقتدار سنبھالنے کے بعد چین کے ساتھ دوستی کے معمار کی حیثیت سے تعلقات کو نئی جہت دی۔ ذوالفقارعلی بھٹو کے دورمیں دونوں ملکوں کے تعلقات محاورہ بن گئے۔ 1970 میں پاکستان نے اس وقت کے امریکی وزیرِخارجہ ہینری کسنجر کے خفیہ دورہ بیجنگ کے انتظامات ممکن بنا ئے۔ پاکستان کی کوششوں سے 1972 میں امریکی صدر رچرڈ نکسن چین کا سرکاری دورہ کرنیوالے پہلے مغربی رہنما بنے۔

  چین اور پاکستان کے درمیان واحد زمینی راستے قراقرم ہائی وے کا باقاعدہ افتتاح ہوا۔ قراقرم ہائی وے کی تعمیر سے دونوں ممالک کے درمیان تجارت اور رابطوں میں اضافہ ہوا۔ 1980 کی دہائی میں افغانستان میں روسی افواج کے داخل ہونے پر چین نے پاکستانی مو¿قف کی حمایت کی۔ گزشتہ 20برسوں کے دوران چین اور پاکستان کے درمیان تعلقات اور تعاون میں کئی گنا اضافہ ہوا۔ پاکستان اورچین کے درمیان کئی مشترکہ فوجی اور اقتصادی منصوبوں پر کام جاری ہے۔ محمد نوازشریف کے گزشتہ دونوں ادوارمیں پاکستان اور چین کی قیادت اور عوام کی سطح پر رابطوں کو فروغ ملا۔ صدر غلام اسحاق خان، فاروق لغاری، پرویز مشرف، آصف زرداری، وزرائے اعظم میر ظفراللہ جمالی، شوکت عزیز، یوسف رضاگیلانی نے چین کے ساتھ تعلقات کو یکساں اہمیت دی۔ 

قراقرم ہائی وے، ہیوی میکینکل کمپلیکس، ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا، چشمہ نیوکلیئرپاور پلانٹ، جے ایف سیونٹین تھنڈر کا مشترکہ منصوبہ، گوادر بندرگاہ اور پاک سیٹ آئی آر کی کامیاب لانچنگ دونوں ملکوں کی دوستی کی روشن مثالیں ہیں۔ چین نے ہمیشہ مسئلہ کشمیر پر پاکستانی مو¿قف کی حمایت کی ۔ پاکستان عالمی برادری کے مو¿قف کے برعکس تائیوان اور تبت کے تنازعات پرچین کے مو¿قف کا حامی رہا۔

دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون بھی مثالی ہے۔پاکستان اورچین کا دفاعی میزائل پروگرام میں قریبی اشتراک باہمی دوستی کی مثال ہے۔ دفاعی تعاون کے سمجھوتوں کی بدولت 2007 میں چین پاکستان کو ہتھیار فراہم کرنیوالا سب سے بڑا ملک بن گیا۔ پاکستان اور چین کے درمیان جوہری توانائی کے میدان میں تعاون کے سمجھوتے پر 1984 میں دستخط کیے گئے۔ 1999 میں چین کی جانب سے چشمہ میں 300 میگا واٹ کا جوہری بجلی کا پلانٹ پایہ تکمیل کو پہنچا۔ پاکستان کی جغرافیائی، دفاعی اور معاشی لحاظ سے اہم ترین بندرگاہ گوادر بھی چینی تعاون سے ہی تعمیر کی گئی۔ بندرگاہ کی تعمیر کے تمام مراحل میں پاکستان کو چین کی تکنیکی اور افرادی مدد بھی حاصل رہی۔

دونوں ممالک کے درمیان 2008 میں "فری ٹریڈ معاہدہ" بھی ہو چکا ہے۔ معاہدے کے تحت چین پاکستان میں نئی صنعتیں لگارہا ہے۔ گوادر میں آئل ریفائنری کی تعمیر، چھ رویہ سپر ہائی وے اور گوادر ائرپورٹ کی تعمیر میں بھی چین کی مالی اور تکنیکی معاونت ایک انتہائی اہم قدم ہے۔2008 میں دونوں ممالک نے قراقرم ہائی وے کے ساتھ ساتھ ریل روٹ بچھانے پر بھی اتفاق کیا۔ ریل کے اس رابطے سے چینی مصنوعات کو براہِ راست گوادر پورٹ تک رسائی ملے گی۔ چین اپنے صوبے سنکیانگ سے منسلک پاکستانی علاقے گلگت بلتستان میں بھی ہائی ویز اور کئی دیگر پروجیکٹس کی تعمیر میں سرمایہ کاری کررہا ہے۔

پاکستا ن اور چین کے درمیان قائم مثالی اور لا زوال دوستی اب ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے جو جنوبی اور وسط ایشیاءکے ساتھ ساتھ عالمی بحری اور زمینی تجارت پر گہرے اثرات مرتب کریگی۔ اگر حالات توقع کے مطابق رہے اور اقتصادی راہداری منصوبہ وقت مقررہ پر مکمل ہو گیا تو آئندہ عشرہ پاکستانی عوام کی ترقی اور خوشحالی کی ایسی نوید لائے گا جس پر دنیا رشک کریگی۔

رضا الدین صدیقی

No comments:

Powered by Blogger.