Header Ads

Breaking News
recent

وطن عزیز کا دفاع ناقابل تسخیر بنانے کے بعد ڈاکٹر قدیر کا خواب....



 محسن قوم اور وطن عزیز کے دفاع کو ناقابل تسخیر بنانے والے ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے کہاہے کہ جنرل پرویز مشرف نے انہیں امریکہ کے حوالے کرنے کیلئے طیارہ تیار کر وا رکھا تھا اور انہوں نے اس وقت کے وزیر اعظم میر ظفر اللہ جمالی سے کہا کہ وہ ڈاکٹر قدیر کو امریکہ کے حوالے کرنے کیلئے کابینہ سے منظوری حاصل کریں تاہم میر ظفر اللہ جمالی نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا اور اپنی وزارت عظمیٰ کی قربانی دے کر انہیں امریکہ کے حوالے کرنے سے بچایا۔ڈاکٹر اے کیو خان نے پیر کی شام لاہور کے ایک بڑے ہوٹل میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جنرل پرویز مشرف منگلا کے کور کمانڈرتھے توانہوں نے میزائل ٹیکنالوجی کے بارے میں آگاہی کیلئے جنرل چوہان کے ذریعے مجھ(ڈاکٹر اے کیو خان ) سے رابطہ کیا۔

 میں نے اس بارے میں آرمی چیف جنرل جہانگر کرامت سے اجازت حاصل کی۔ ڈاکٹر اے کیو خان ٹرسٹ ہسپتال کے بارے میں منعقدہ تقریب میں ڈاکٹر اے کیو خان نے کہا کہ پاکستان کا دفاع ناقابل تسخیر بنانے کے بعد ٹرسٹ ہسپتال کی تعمیر میرے ایک خواب کی تکمیل ہے۔ ڈاکٹر اے کیو خان نے پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے کے سلسلہ میں یہ انکشاف کیا کہ وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے اس منصوبے کا آغاز کیا۔ بھٹو، جنرل ضیاء اور غلام اسحاق خان نے ایٹم بم کی تیاری میں بھرپور کردار ادا کیا۔ 1986 میں ایٹم بم کی تیاری کا کام مکمل ہو چکا تھا۔ اس وقت کی حکومت کو میں نے ایک خط لکھ کر بتا دیا کہ ہم ایک ہفتے کے نوٹس پر ایٹمی دھماکہ کر سکتے ہیں۔

 ایٹم بم کی تیاری کے بعد پاکستان کے خلاف بھارتی جارحانہ عزائم کو ناکام بنا دیا۔ ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر اے کیو خان نے کہا کہ ایٹمی طاقت بنانے میں نواز شریف کا کوئی ہاتھ نہیں مگر انہوں نے عالمی دباؤ کے باوجود چاغی میں ایٹمی دھماکہ کیا۔ فوج کے زیر انتظام سول انجینئر بریگیڈیئر نے چاغی میں دھماکے کے لئے پلیٹ فارم بنا رکھا تھا۔ اس موقع پر راقم الحروف نے ڈاکٹر اے کیو خان کو بتایا کہ میں ملتان میں نواب صادق مرحوم کے وائٹ ہاؤس میں بطور اخبار نویس شریک تھا جہاں بھٹو نے پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے کا اعلان کیا تھا۔ ڈاکٹر عثمانی نے ایٹم بم نہ بنانے کیلئے جو مؤقف پیش کیا وہ بھٹو نے قبول نہ کیا۔

 اس پر منیر احمد خان کو ایٹمی منصوبہ کا انچارج بنانے کا فیصلہ ہوا۔ڈاکٹر اے کیو خان نے یہ بھی انکشاف کیا کہ جب جناب بھٹو نے پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے کا فیصلہ کیا تو اس وقت منیر احمد خان نے منصوبہ بنایا کہ ایک لمبی نالی والی توپ میں بارود بھر کر مری کی پہاڑیوں میں چلا دیا جائے گا اور بھٹو سے کہا جائے گا کہ ایٹمی دھماکہ ہو گیا ہے۔ ڈاکٹر اے کیو خان نے بتایا کہ ہم نے میزائل ٹیکنالوجی کے ذریعے لمبے فاصلے تک مارکرنے والے میزائل تیار کئے ہیں جو سادہ اور ایٹمی وار ہیڈ لے جا سکتے ہیں اور بھارت کے تمام علاقے ہماری دسترس میں ہیں۔ 

ڈاکٹر اے کیو خان نے پاکستان کو بھارت سے بہتر میزائل ٹیکنالوجی فراہم کی اور پاکستان کا دفاع ناقابل تسخیر بنایا۔ ڈاکٹر اے کیو خان نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ایران نے امریکہ سے جوہری تنازعہ حل کر کے اچھا اقدام کیا اگر نہ کرتا تو امریکہ پابندیوں کے ذریعے ناقابل تلافی نقصان پہنچا سکتا تھا۔ ڈاکٹر اے کیو خان نے ریڈ کراس سوسائٹی کے سربراہ ڈاکٹر سعید الٰہی کی خدمات کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ وہ ماہر فزیشن ہیں۔ ڈاکٹر سعید الٰہی نے بتایا کہ ڈاکٹر اے کیو خان نے 1976 میں پلاٹ خرید کر مکان تعمیر کیا جس میں وہ اپنی اہلیہ اور دو بیٹیوں اور چار نواسیوں کے ہمراہ مقیم ہیں۔ ڈاکٹر اے کیو خان کا تعلق بھوپال سے ہے اور اہل بھوپال کسی سے کچھ لینے کی بجائے کچھ دینے پر یقین رکھتے ہیں۔

 انہوں نے متعدد اداروں، ہسپتالوں اور یونیورسٹیوں کی تعمیر و ترقی میں بھرپور کردار ادا کیا ہے۔ ڈاکٹر اے کیو خان ٹرسٹ ہسپتال رحمن فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام مینار پاکستان کے سایہ میں واقع 200 بیڈ کا ہسپتال ہے۔ محسن پاکستان رحمان فاؤنڈیشن کے چیئرمین بھی ہیں۔ اس ہسپتال کوان کے نام سے منسوب کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ سات منزلہ عمارت پر مشتمل جدید ترین بین الاقوامی معیار کا ہسپتال بنانے کا سفر شروع ہو چکا ہے۔ علاج کی بہترین سہولتیں ایک چھت کے نیچے میسر ہوں گی۔ جس میں غریب اور مستحق مریضوں کو بلا کسی تفریق ہر طرح کے امراض کے لئے بین الاقوامی معیار کی سہولتیں فراہم کرے گا۔

 بے روزگاروں کو روزگار ، ڈاکٹر اور پیرامیڈیکل سٹاف کے لئے اعلیٰ ٹریننگ کے مواقع بھی فراہم کرے گا۔ اے۔کیو۔خان ہسپتال میں گردوں، جگر کی بیماری کے مریضوں پر خاص فوکس کیا جائے گاکیونکہ یہ بیماریاں پاکستان میں تیزی سے پھیل رہی ہیں۔ ڈاکٹر اے کیو خان نے کہا کہ ڈاکٹر اے کیو خان ہسپتال کی تعمیر میری زندگی کی شدید خواہش ہے۔ یہ ضرور تعمیر ہو گا اور مکمل ہو گا۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ مینارِ پاکستان کے سائے میں تعمیر ہونیوالے سات منزلوں کے 200 بیڈز پر مشتمل عالمی معیار کے ڈاکٹر اے کیو خان ہسپتال کی تعمیر اور تکمیل میں ہر پاکستانی اپنا کرداراد ا کرے۔


ریاض احمدچودھری

No comments:

Powered by Blogger.