Header Ads

Breaking News
recent

پاکستان چین اکنامک کاریڈور ....اکیسویں صدی کی نہر سویز...


کاشغر سے لے کر گوادر تک اقتصادی راہداری تعمیر کرنے اور سلک روٹ کو نیا اور متحرک روپ دینے کی خاطر پاکستان اور چین کے درمیان معاہدہ اگر کامیابی کے ساتھ پایۂ تکمیل کو پہنچ گیا تو یہ بلاشبہ 21 ویں صدی کی نہر سویز ہو گی۔ مرکز اس کا پاکستان کی سر زمین ہو گی۔ ہمارے ملک کا بہترین محل وقوع پہلی مرتبہ ہمارے کام آئے گا۔ ورنہ ہمیشہ اسے اپنے مفادات کی خاطر استعمال کیا ہے اور ہم چند ڈالروں کی وقتی امداد اور فوجی آمریتوں کے تحفظ کی خاطر اس کے آلہ کار بنتے رہے ہیں۔ چین اور پاکستان کے تعاون سے بننے والی راہداری نہ صرف پورے پاکستان اور چین کے مغربی حصے کو آپس میں ملا دے گی بلکہ اس کے وجود میں آ جانے کے بعد جہاں چین کے لیے بحیرہ عرب کے گرم پانیوں تک رسائی کے دروازے کھل جائیں گے اور اس کے لیے آبنائے ہر مز کے راستوں سے آنے والے تیل کا حصول بآسانی ممکن ہو جائے گا نیز اپنے مال کو کم خرچ اور کم وقت پر یورپ تک برآمد کرنا آسان ہو جائے گا، وہیں پاکستان کے لیے افغان، وسط ایشیا اور خطے کے دیگر ممالک تک تجارتی رسائی اور آمد و رفت کے تعلقات کو تیزی سے فروغ دینا ممکن ہو جائے گا۔ ہمارا ملک بہت بڑا تجارتی مرکز بن جائے گا۔ اس سے پاکستان کی اقتصادی ترقی اور معاشی خود کفالت کے نئے اور روشن امکانات پیدا ہوں گے۔ یہ نہر سویز پورے خطے کا اقتصادی نقشہ بدل کر رکھ دے گی۔

چین راہداری اور توانائی کے منصوبوں کے لیے 46 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری اور قرضے فراہم کر رہا ہے۔ پاکستان کیا پورے جنوبی ایشیا اور گردو پیش کے دوسرے ممالک میں اتنی بڑی اور بیک وقت سرمایہ کاری کبھی نہیں ہوئی۔ دہشت گردی کے حوالے سے پاکستان کے مخدوش حالات اور اس کے ساتھ عالمی سطح پر ہمارے خلاف منفی پروپیگنڈے کی جو فضا قائم کی گئی اس کی بنا پر ایک مدت سے یہاں سرمایہ کاری کرنے کوئی نہیں آ رہا۔ مشرف کی فوجی آمریت کے آٹھ سالوں میں ہزار کوشش کے باوجود کسی بڑی ملٹی نیشنل کمپنی نے ہمیں درخور اعتنا نہیں سمجھا۔ حالانکہ ہم امریکہ کی جنگ لڑ رہے تھے۔ لیکن کوئی امریکی سرمایہ کار نہ آیا۔ سٹاک ایکسچینج میں Portfolia Investment ہوتی رہی مگر جو کام صنعتی ترقی کے لیے مہمیز ثابت ہو سکتا تھا اور معیشت کو مضبوط بنیاد فراہم کر سکتا تھا نہ ہوا۔ اس عہد میں بجلی کی پیداوار میں ایک میگاواٹ کا اضافہ نہ کیا گیا جس کے نتائج ہم آج تک بھگت رہے ہیں۔ اس کے بعد زرداری صاحب کے دور (2008ء تا 2011ء) میں تو لوڈشیڈنگ کی ناقابل بیان حالت نے کئی ایک ملکی صنعتکاروں کو اپنا سرمایہ بنگلہ دیش اور ملائیشیا منتقل کر دینے پر مجبور کر دیا۔ موجودہ حکومت اس نعرے کے ساتھ بر سراقتدار آئی کہ وہ توانائی کے بحران کو جلد از جلد حل کر کے ملک کو اندھیروں سے نکال دے گی۔ پونے دو برس ہونے کو آئے ہیں تمام تر سعی و جہد کے باوجود کوئی بڑی پیش رفت نہیں ہو سکی۔

اب جو پاکستان کے دیرینہ دوست اور ہمسایہ ملک عوامی جمہوری چین نے اپنے اور پاکستان دونوں کے مفادات سامنے رکھتے ہوئے پیش قدمی کی ہے اور نواز شریف حکومت کو اپنا دیرینہ خواب اور عوام کے ساتھ کیا گیا انتخابی وعدہ پورا کرنے کا موقع ملا ہے تو جان لینا چاہیے کہ اس کے ساتھ ایک بڑا چیلنج بھی ہمارے حکمرانوں اور حکومتی و ریاستی نظام کو در پیش ہے۔ جتنا بڑا موقع ہے اتنی بڑی آزمائش بھی ہے۔ اپنی سر زمین پر نئے دور کی نہر سویز کی تعمیر آسان کام نہ ہو گا۔ 46 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کے لیے جن بڑے منصوبوں پر کام شروع ہو گا اور توانائی کی پیدوار کے ساتھ ملک کی اقتصادی تاریخ بدل کر رکھ دینے والی راہداری کے قیام کا بیڑا اٹھایا جائے گا تو اس راہ میں غیر معمولی مشکلات پیش آئیں گی۔ تمام منصوبوں میں شفافیت کو ہر لحاظ سے یقینی بنانا جان جوکھوں کا کام ہو گا۔

کرپشن ہمارے فرسودہ نظام کی رگ و پے میں سرایت کر چکی ہے۔ اس سے راہداری اور توانائی کے منصوبوں کو پوری طرح محفوظ رکھنا اور کسی بڑی مالی یا دیگر نوعیت کی بدعنوانی کو در نہ آنے دینا ہمالیہ کی چوٹی سر کرنے کے مترادف ہو گا۔ لہٰذا نواز حکومت جہاں چین کے صدر کے تاریخی دورے کی کامیابی پر فرحت اور شادمانی کا اظہار کر رہی ہے وہیں اسے پوری ذمہ داری کے ساتھ غیر معمولی چیلنج سے عہدہ برا ہونے کے لیے بھی تیار ہو جانا چاہیے۔ ورنہ ساری ساکھ زمین پر آن گرے گی اتنا عظیم الشان منصوبہ بھی متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے گا۔ حکومت کو ہر ہر منصوبے کی بروقت اور اعلیٰ درجے کی تکنیکی و انتظامی مہارت کے ساتھ تکمیل عزم کے ساتھ ہر نوعیت کی مالی بدعنوانی سے محفوظ رہنے کے لیے بھی لنگر لنگوٹ کس لینا چاہیے۔ 

اس میں شک نہیں کہ موجودہ دور میں حکومت کا کوئی بڑا سکینڈل منظر عام پر نہیں آیا۔ پنجاب اور اسلام آباد میں میٹرو بس کے منصوبے بھی شفافیت کے ساتھ پایۂ تکمیل کو پہنچے ہیں لیکن خنجراب سے لے کر گوادر تک اقتصادی شاہراہ کی تعمیر کا کام اپنے جلو میں ایک نہیں کئی ایک منصوبوں کو لے کر آئے گا۔ شاہراہیں تعمیر ہوں گی، توانائی کی پیداوار کے بڑے بڑے یونٹ لگیں گے، ریلوے لائنوں کو بدل کر رکھ دیا جائے گا، بندرگاہیں بنیں گی اور سمندری راستوں کا احیاء ہو گا۔ ان میں سے ہر ایک کی علیحدہ علیحدہ اور مکمل نگرانی کرنا ضروری ہو گا۔
اگرچہ انجینئرنگ اور دوسرے اعلیٰ پیمانے کے منصوبوں کو چینی کمپنیاں اپنے ہاتھ میں لیں گی لیکن مقامی طور پر بھی بیورو کریسی اور چھوٹے بڑے ٹھیکیداروں کی فوج ظفر موج کو حرکت میں لانا پڑے گا۔ ہمارے ملک کے اندر بیورو کریٹوں اور ٹھیکیدار کمپنیوں کی ملی بھگت جو رنگ جماتی ہے اس سے کون واقف نہیں۔ لہٰذا وزیراعظم کو ابھی سے اس جانب متوجہ ہونا چاہیے۔

 اپنی نگرانی میں ایک ٹاسک فورس صرف اس مقصد کے لیے قائم کر دینی چاہیے جو ابھی سے ہر ہر منصوبے کی براہ راست نگرانی اور شفافیت کو یقینی بنانے کا فول پروف نظام وضع کرے اور کاموں کے آغاز کے ساتھ ہی پوری اہلیت کے ساتھ ان پر اپنی آنکھیں گاڑ لے۔ چین کے صدر نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کے دوران وزیراعظم اور ہماری قوم کو راہداری کے قیام کے نتیجے میں پاکستان کے ایشین ٹائیگر بن جانے کی نوید سنائی۔ اس کا مژدہ نواز شریف نے اہل وطن کو اس وقت سنایا تھا جب وہ 1990ء میں پہلی بار وزیراعظم منتخب ہوئے تھے۔ تب ملک کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک موٹر وے کی تعمیر کے منصوبے کا اعلان کیا گیا اور افغانستان اور وسطی ایشیا کی نو آزاد ریاستوں کو اس کے منسلک کر دینے کا خیال بھی پیش کیا گیا۔ لیکن ہماری مقتدر قوتوں کو غیر آئینی طریقوں سے حکومتوں کی اتھل پتھل کا جو شوق رہا ہے اس نے کسی بڑے منصوبے کو پایۂ تکمیل تک پہنچنے نہ دیا نہ اعلیٰ درجے کے خیال کو عمل میں آنے دیا۔

میں جون 1991ء میں عام انتخابات کا جائزہ لینے کے لیے بھارت گیا تو نو منتخب وزیراعظم نرسیما راؤ سے انٹرویو کا موقع ملا۔ آف دی ریکارڈ گفتگو میں انہوں نے پوچھا یہ جو آپ کے وزیراعظم نواز شریف نے پرائیویٹائزیشن اور دوسری بنیادی معاشی اصلاحات کا منصوبہ شروع کیا ہے، کیا اس کی تکمیل کر لیں گے؟ میں نے جواب دیا ہمارے یہاں سیاست پر جاگیرداروں کا تسلط ہے جو کسی بڑی تبدیلی کی راہ میں رکاوٹ بن جاتے ہیں اس کے ساتھ بیورو کریسی کے سرخ فیتے کا بھی راج ہے جو آزاد معیشت کو شاید چلنے نہ دے۔ اس پر نرسیما راؤ نے کہا بھارت میں جاگیردار تو نہیں البتہ بیورو کریسی ہے لیکن میں اس سے نمٹ لوں گا۔ میں نے فیصلہ کیا ہے کہ ریزرو بینک آف انڈیا کے ڈاکٹر من موہن سنگھ کو وزیر خزانہ مقرر کروں اور اسی نوعیت کی اقتصادی اصلاحات کا نفاذ کیا جائے گا جن کا پاکستان میں آغاز ہو رہا ہے۔ اس کے بعد کیا ہوا۔ پاکستان میں جلد نواز شریف کی حکومت ختم کر دی گئی۔ ہمارے یہاں سیاسی عدم استحکام نے اپنے سائے گہرے کر لیے لیکن بھارت میں آئینی و جمہوری تسلسل برقرار رہا۔
اس دوران کانگریس کو انتخابی شکست بھی ہوئی ۔ بی جے پی کی حکومت قائم ہوئی۔ 2004ء میں کانگریس نے پھر کامیابی حاصل کی۔ من موہن سنگھ 8 سال تک وزیراعظم کے عہدے پر فائز رہے۔ 2014ء کے چناؤ میں بی جے پی کے نریندر مودی وزیراعظم بنے۔ یہ سب کچھ ایک آئینی اور انتخابی نظام کے تحت ہوا۔

 لہٰذا وہاں جن اقتصادی پالیسیوں کی 1991ء میں داغ بیل ڈالی گئی وہ نشوو نما پاتی رہی اور اب بھارت اقتصادی ترقی کے ایک مقام پر کھڑا ہے پاکستان میں اس کے برعکس اندھے کی لاٹھی چلتی رہی۔ آمریت باردگر غالب آ گئی۔ ہم اقتصادی جمود سے نہ نکل سکے۔ اب جو چین کے ساتھ تازہ اور تاریخی معاہدوں پر صحیح معنوں میں عمل درآمد کی صورت ہمارے وطن میں نئے معاشی دور کی آمد آمد ہے تو نواز شریف کو پہلے سے بھی زیادہ ان قوتوں سے چوکنا رہنا ہو گا۔ جن کا مفاد ملک عزیز کو امریکہ کا مسلسل محتاج بنائے رکھنے میں مضمر ہے۔ مقام شکر ہے کہ آج کی سول حکومت اور فوجی قیادت چین کے ساتھ معاہدوں کے حوالے سے یکسو ہیں۔ لیکن جو بیرونی اور داخلی قوتیں ہمارے ملک کے حالات پر ظاہری اور در پردہ رسوخ رکھتی ہیں ان کی سازشوں سے مسلسل باخبر اور ہوشیار رہنا ہو گا۔ پاکستان کے لیے اتنا بڑا اور اقتصادی لحاظ سے انقلاب آفرین منصوبہ انہیں آسانی سے ہضم نہ ہو گا

عطاء الرحمٰن
"بشکریہ روزنامہ "نئی بات

No comments:

Powered by Blogger.