Header Ads

Breaking News
recent

یہ شہر لاہور؟

کامران لاشاری خود لاہوری ہیں، اچھے بیورو کریٹ ہیں اور اب انہوں نے اس شہر لاہور کے ماضی کو تابندہ بنانے کا ذمہ لے رکھا ہے وہ والڈ سٹی اتھارٹی کے چیئرمین ہیں، جس کے ذمہ پرانے اور اصلی شہر کی خوبصورتی کو بحال کرنا ہے۔یہ اتھارٹی شہر میں کام کررہی ہے جو دہلی دروازہ سے شروع کیا گیا تھا کہ یہاں شروع ہی میں شاہی حمام آ جاتا ہے جس کی حالت پہلے ہی سدھار لی گئی تھی، بہرحال اتھارٹی نے جامع مسجد وزیر خان کے باہر والے حصے کو تو خالی کروا ہی لیا ہے ار اب سارا زور وہ شاہی راستہ بحال کرنے پر ہے جو شاہی قلعہ سے دہلی دروازہ تک آتا ہے کہ اسی راستے سے دلی سے آنے والے آیا کرتے تھے۔

اس سلسلے میں دلچسپ امر تو یہ ہے کہ اتھارٹی کا کام پرانے شہر کی بحالی ہے۔ خود اس کا دفتر لارنس روڈ کی ایک کوٹھی میں قائم کیا گیا ہے۔ شاید شہر میں کوئی جگہ نہیں ملی یا پھر وہاں بیٹھنے سے چھینکیں آتی ہیں کہ سرخ مرچوں اور دوسرے مصالحوں کا کاروبار بھی تو ہوتا ہے۔آج کل والڈ سٹی اتھارٹی کا محکمہ آثار قدیمہ سے پھڈا چل رہا ہے۔ اتھارٹی نے بادشاہی اور جامع مسجد وزیر خان جیسی تاریخی عمارتوں کے ساتھ ساتھ شاہی قلعہ پر بھی دعویٰ کر دیا اور اب دونوں کے درمیان اس تاریخی قلعہ کی تحویل کا تنازعہ چل رہا ہے۔

والڈ سٹی اتھارٹی کے بقول شاہی قلعہ بھی شہر کا حصہ ہے۔ قلعہ سے دہلی دروازہ تک قدیم شاہی راستہ بحال کرنا ہے تو قلعہ بھی اتھارٹی ہی کے پاس ہونا چاہیے کہ سیاحت کے لئے نظام ایک ہی جگہ مرتکز ہو۔ آثار قدیمہ والے قلعہ کو قدیم دور کی یادگار قرار دیتے اور اسے آثار قدیمہ میں ہی شامل کرتے اور رکھنا چاہتے ہیں کہ دیکھ بھال بھی انہی کے ذمہ ہے۔ لیکن کامران لاشاری تو آمدنی کی فکر میں بھی ہیں آخر کب تک ایشیائی ترقیاتی بنک اور عالمی اداروں کی گرانٹ سے کام چلے گا؟ یوں بھی لاشاری صاحب ماہر ہیں، کسی کو شک ہے تو لاہور کی پارکس اینڈ ہارٹی کلچر اتھارٹی ہی کو ملاحظہ فرما لیں۔ اس کا قیام بھی تو محترم کامران لاشاری ہی کے ہاتھوں ہوا۔ 

ابتداء رضا کارانہ طور پر چوک سجانے سے ہوئی اور اب یہ اتھارٹی بھی منافع بخش ادارہ ہے جس سے بہت سے ’’غربا‘‘ بھی مستفید ہو رہے ہیں، چنانچہ والڈ سٹی اتھارٹی کے لئے بھی اسی فارمولے پر کام جاری ہے، اگرچہ ابھی وہ راستے نہیں بنے جو آمدنی کاذریعہ بنیں اور اس کی ابتداء شاہی قلعہ لاہور سے ہو سکتی ہے کہ اس کو بہتر بنا کر سیاحوں کو زیادہ متوجہ کیا جا سکتا ہے۔ آثار قدیمہ والے اس آمدنی سے محروم نہیں ہونا چاہتے۔

اب ذرا اس اتھارٹی کے کام کا بھی معمولی سا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہو گا کہ شاہی حمام پر دوبارہ اخراجات کے بعد زیادہ مرکزی کام جامع مسجد وزیر خان کے چوک کو خالی کرانے والا ہوا ہے۔ ورنہ باقی معاملہ تو جوں کا توں ہی محسوس ہوتا ہے کہ دہلی دروازہ سے حد نظر تک دکانیں ہی دکانیں ہیں اور پھر عارضی تجاوزات کی بھی بھرمار ہے۔ کئی بازار وجود میں آ چکے اور متعدد تھوک مارکیٹیں بن چکیں ان میں اعظم کلاتھ مارکیٹ ایک بڑا نام ہے۔ اس کے علاوہ کئی پلازہ بنے ہوئے ہیں اور کئی زیر تعمیر بھی ہیں۔اتھارٹی کے چیئرمین کو لاہور کے سرکلرباغات کا بھی اچھی طرح علم ہے۔ 

کبھی یہ باغات آکسیجن کا ذریعہ اور ثقافتی مرکز کی حیثیت سے کام کرتے تھے، اب یہ قابضین کے پاس ہیں۔ مارکیٹیں تعمیر ہو چکیں حد یہ ہے کہ باغ کا معتدبہ حصہ باقاعدہ ملکیت قرار دے کر اس پر کارخانے بنائے جا چکے ہوئے ہیں۔ اتھارٹی بھی شہر کے ایک حصے ہی سے فارغ نہیں ہو رہی وہ آگے کیسے بڑھے گی اور پھر اس اتھارٹی کو عمر خضر تو نہیں ملی کہ غیر معینہ مدت تک سلسلہ جاری رہے گا۔ مسئلہ ایک سے ایک ہے۔

اس شہر کا اصل مسئلہ یہ ہے کہ یہاں کی متروکہ عمارتیں کلیموں کے عوض الاٹ ہونے کے بعد کئی ہاتھوں میں بک چکیں اور اب یہاں تھوک مارکیٹیں ہیں، شوز سے لے کر کلاتھ مارکیٹوں کے علاوہ اجناس کی سب سے بڑی منڈی بھی شہر کی متروک دیوار کے اندر ہے اور ان کو منتقل کرنا سر درد ہے کہ کئی کوششیں ہو چکیں، اب والڈ سٹی اتھارٹی نے تو شہر کی عمارتوں کی تعمیر کے نقشوں کی منظوری تک کے اختیارت حاصل کر رکھے ہیں انہی مسائل کی وجہ سے تو یہ کام بڑا مشکل نظر آتا ہے کہ اعظم کلاتھ مارکیٹ، پاکستان کلاتھ مارکیٹ اور اکبری منڈی کہاں جائیں گی؟

ہمارے خیال میں اس اتھارٹی کے قیام کا جو مقصد ہے، بات اس سے آگے بڑھا لی گئی ہے، ورنہ شاہی راستے کی بحالی تک رہا جاتا، بڑی بڑی تاریخی مساجد اور عمارتوں کو محفوظ کرنے کا ذمہ لیا جاتا تو شاید کچھ کام بھی بن جاتا، اب ذرا مشکل اور امتحانی صورت ہے۔ہماری تو خواہش اور درخواست ہے کہ کسی طرح شہر کے اردگرد (چاروں طرف) والے سرکلر باغات معہ اس نہر کے جو درمیان میں بہتی تھی، بحال ہو جائیں شائد اس طرح پھر سے 8دن اور 9میلے ہو جائیں۔

چوہدری خادم حسین

No comments:

Powered by Blogger.