Header Ads

Breaking News
recent

سرفراز اور وقار یونس کا معاملہ.....


کوئی کھیل کرہیرو نہیں ہو تا۔ لیکن سرفراز تواس بات پر ہیرو ہو گیا ہے۔ کہ اسے نہیں کھلایا گیا۔ اسے کہتے ہیں جسے اللہ رکھے اسے کون چکھے۔ ستارے اور نصیب سرفراز کے ساتھ تھے۔ یا بات اس طرح بھی لکھی جا سکتی ہے کہ عزت اور ذلت اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ وہ جسے چاہے عزت دے اور جسے چاہے ذلت۔ جہاں سرفراز ہیرو ہو گیا ہے۔ وہاں وقار یونس زیرو ہو گئے۔ سرفراز نے جو نہیں بھی کیا ۔ اسے اس کا بھی کریڈت مل رہا ہے جبکہ وقار یونس کی ٹیم جیت رہی ہے، انہیں اس کا بھی کریڈٹ نہیں مل رہا۔

سرفراز نے تردید کی ہے کہ ان کا وقار یونس سے کوئی جھگڑا نہیں ہوا ۔ لیکن شائد سرفراز کی اس تردید کی بھی کوئی اہمیت نہیں۔ جس طرح ایک ملزم کے پولیس حراست میں دئے گئے بیان کی قانون کی نظر میں کوئی اہمیت نہیں ہو تی۔ اور مقدمے کا فیصلہ اس کے اقبال جرم کے بیان کی بجائے شواہد اور ٹھوس ثبوتوں کی روشنی میں کیا جا تا ہے۔ اسی طرح سرفراز اور وقار یونس کے مقدمہ کا فیصلہ بھی سرفراز کے بیان پر نہیں بلکہ شواہد اور ٹھوس ثبوتوں کی بنیاد پر کیا جا رہا ہے۔ حدیث مبارک ہے کہ اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے۔ اگر آپ کی نیت نیک ہے تو آپ کے اعمال خود بخود نیک ہو جائیں گے۔

اسی طرح یہ بھی کہا جا تا ہے کہ آواز خلق نقارہ خدا کی حیثیت رکھتی ہے۔ اگر کرکٹ ریکارڈز کو سامنے رکھا جائے تو وسیم اکرم کے کرکٹ ریکارڈز عمران خان سے بہت بہتر ہیں۔ لیکن قدرت نے جو عزت اور مقام کرکٹ سے عمران خان کو دیا وہ وسیم اکرم کو نہیں دیا۔ اس لئے سب جانتے ہیں کہ بطور کرکٹر عمران خان کی نیت ٹھیک تھی۔ البتہ ان کی سیاسی نیت کی بات الگ ہے۔ جبکہ وسیم اکرم کی کرکٹ میں نیت ٹھیک نہیں تھی۔ ان پر جوئے کے الزامات کا کس کو علم نہیں۔ اس لئے جس ورلڈ کپ میں وسیم اکرم کرکٹ ٹیم کی کپتانی کر رہے تھے۔
 وہ ٹیم آج بھی عمران خان کی نسبت بہت زیادہ مضبو ط قرار دی جا سکتی ہے۔ وسیم اکرم کی ٹیم کی فارم بھی عمران خان کی ٹیم کی فارم سے زیادہ بہتر تھی۔ لیکن قدرت نے عزت فتح اور مقام عمران خان کو دیا کیونکہ اس کی بہر حال نیت وسیم اکرم سے بہتر تھی۔ بات سرفراز اور وقار یونس کی ہو رہی ہے۔ وقار یونس کوسمجھناچاہئے کہ غلطی کو غلطی مان لینے میں ہی بڑا پن ہے۔ وقار یونس کو سمجھنا ہو گا کہ سرفراز کے وضاحتی بیان ان کے لئے کوئی بہتری پیدا نہیں کر سکیں گے۔ قوم جہاں سرفراز کو عزت سے نواز رہی ہے وہاں وہ اس کے 
وضاحتی بیان کو ماننے کے لئے تیار نہیں ہے۔
 
سرفراز معاملہ کی جس قدر وضاحت کر کے وقار یونس کو کلئیر کرنے کی کوشش کرے گا۔ وقار یونس پر شک کا گھیرا اس قدر تنگ ہو تا جا ئے گا۔ دراصل سرفراز کے ہر وضاحتی بیان کو وقار یونس کے خلاف فرد جرم کی حیثیت حاصل ہو گی۔ اسی طرح معین خان کا معاملہ بھی سب کے سامنے ہے۔ ان کے معاملہ پر بھی ایک تبصرہ یہ ہے کہ خدا کی لاٹھی بے آواز ہو تی ہے۔ انہوں نے جو اندھیر نگری مچا رکھی تھی۔ اس کا اس کے علاوہ کوئی حل نہیں تھا۔ شائد کسی نے وقار یونس کو یہ نہیں بتا یا کہ کہ قدرت کا قانون ہے کہ جھکے ہوئے درخت کو پھل لگتا ہے۔ اگر وہ جھکیں گے نہیں تو انہیں عزت نہیں ملے گی۔

وقار یونس کا رعونت بھرارویہ انہیں عزت نہیں دلوائے گا۔ جب پی سی بی کے چیئرمین نے بھی سرفرازکو ٹیم میں شامل کرنے کا بیان دے دیا تھا ۔ تو وقار یونس کو اپنی ضد چھوڑ دینی چاہئے تھی۔ لیکن انہوں نے ایک عجیب موقف اپنا لیا کہ سرفراز اوپنر نہیں ہیں۔ لیکن دیکھ لیں وقار یونس کے اس بیان نے انہیں مزید پھنسا دیا اور سرفرا کو مزید ہیرو بنا دیا۔ سرفراز کی عزت اور مقام میں اضافہ ہوا ہے۔ اور وقار یونس مزید متنازعہ ہو گئے ہیں۔ یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے جب کوئی عام شہری جس کے ساتھ روائتی تھانیدار نے بہت زیادتی کی ہو ۔ عدالت میں یہ بیان دے کہ تھانیدار نے اس کے ساتھ کوئی زیادتی نہیں کی۔ کوئی رشوت نہیں لی۔ نہ ہی تذلیل کی۔تو سب کو معلوم ہو تا ہے کہ وہ خوف کا مارا جھوٹ بو ل رہا ہے۔

اسی طرح پوری قوم کو پتہ ہے کہ سرفراز خوف کا مارا جھوٹ بول رہا ہے۔ جس طرح اس عام شہری کو اپنی زندگی کا خوف ہو تا ہے۔ اسی طرح سرفراز کو بھی اپنے کرکٹ کیریئر کا خوف ہے۔ اسی طرح مصباح الحق کا معاملہ بھی دلچسپ ہے وہ پرفارم کر رہے ہیں۔ لیکن انہیں عزت نہیں مل رہی۔ وہ سکور پر سکور کر رہے ہیں ۔ لیکن پذیرائی نہیں مل رہی۔ وہ بھی وقار یونس کی طرح سخت تنقید کے گھیرے میں ہیں۔ ان پر بھی الزام یہی ہے کہ وہ بطورکپتان ٹیم کے لئے نہیں بلکہ صرف اپنے لئے کھیل رہے ہیں۔

وہ صرف اپنی پوزیشن مستحکم کر رہے ہیں۔ ان کا کھیل ٹیم کے لئے فائدہ مند نہیں ہے۔ حالانکہ پاکستانی ٹیم میں سے صر ف وہی ایک بیٹسمین ہیں جو سکور کر ہے ہیں۔ لیکن پذیرائی نہیں مل رہی۔ معاملہ یہاں بھی نیت کا ہی لگ رہا ہے۔ ان کی تمام توجہ اپنے کھیل پر ہے ۔ انہیں سمجھنا ہو گا ۔ پاکستان کا بچہ بچہ کرکٹ کو سمجھتا ہے۔ وہ سمجھیں کہ وہ میچ نہیں بناتے۔ ان کے کھیل میں ایک جرات مند کپتان کی جھلک نہیں ۔ انہوں نے ریٹائرمنٹ کا علان کر دیا ہو اہے۔ انہیں تو اب جرات سے کھیلنا چاہئے۔ لیکن وہ بھی ایک ڈرپوک کھلاڑی کا کھیل کھیل رہے ہیں۔ جس کی وجہ سے انہیں سکو رکرکے بھی تنقید کا سامنا ہے۔ اس لئے اگر ورلڈ کپ میں آگے بڑھنا ہے تو نیتوں کو ٹھیک کرنا ہو گا۔ بری نیتوں کے ساتھ اچھے نتائج کا حصول ممکن نہیں۔

مزمل سہر وردی

No comments:

Powered by Blogger.