Header Ads

Breaking News
recent

پاک چائنا اکنامک کاریڈور ۔ دال میں کالا کیا ہے؟....



پاک چائنا کاریڈور کے روٹ کی تبدیلی کے خلاف سینیٹ سے پختونخوا اور بلوچستان کے سینیٹرز کے واک آوٹ‘ مذکورہ دونوں صوبوں میں سول سوسائٹی کی تحریک ‘ اولسی جرگہ کے تحت پشاور میں تمام سیاسی جماعتوں کے احتجاجی سیمینار یا پھرپختونخوا چیمبر آف کامرس اور پشاور ہائی کورٹ بار کی مخالفانہ قرارداروں کے جواب میں وفاقی حکومت نے ذہین ترین اور قادرالکلام وزیر جناب احسن اقبال کو میدان میں اتار لیا ہے ۔ آپ اس دعوے کے ساتھ میدان میںا ترے کہ روٹ تبدیل نہیں کیا گیااور جو لوگ اعتراض کررہے ہیں وہ ملک دشمن قوتوں کے ایما پر منصوبے کو متنازعہ بنانے یا پھر چین کے صدر کے دورے کو ناکام بنانے کی سازش کررہے ہیں ۔ ان کا دعویٰ ہے کہ جب پچھلی مرتبہ چینی صدر پاکستان آ رہے تھے‘ تو پاک چین دوستی کی مخالف قوتوں نے دھرنوں کے ذریعے رکاوٹ ڈالی اور اب کے بار پاک چائنا کاریڈور پر تنقید کے ذریعے وہی کام دوبارہ کیا جارہا ہے ۔

محترم احسن اقبال صاحب نے جس ’’سازش‘‘ کا ذکر کیا ہے بدقسمتی یا خوش قسمتی سے اس کا ماسٹر مائنڈ میں ہوںاور اگر واقعی یہ اس منصوبے کو متنازعہ بنانے اور چینی صدر کے دورے کو ناکام بنانے کی ’’سازش‘‘ ہے تو مورخ اس کا سرغنہ اس عاجز کو قرار دے گا۔ اسی طرح پاک چین دوستی کی مخالف طاقتوں نے اگر پیسے استعمال کئے ہیں تو لامحالہ اس کا بیشتر حصہ مجھ مزدور کو ملا ہوگا۔ اس ایشو کو سب سے پہلے کسی قوم پرست یا سیاسی جماعت نے نہیں بلکہ میں نے اٹھایا ‘ میں نے اس پر کالم لکھا اور میں نے ہی اپنے ٹی وی پروگرام ’’جرگہ‘‘ میں اس کو موضوع بحث بنایا ۔
 یہ تو وہ جرم ہے کہ جو میاں نوازشریف صاحب اور احسن اقبال صاحب کو معلوم ہے لیکن میں اپنے اس جرم سے بھی ان کو آگاہ کرنا چاہتا ہوں کہ میں نے ذاتی رابطوں کے ذریعے بھی اس حوالے سے کئی ماہ قبل عمران خان ‘ پرویز خٹک ‘ مولانا فضل الرحمان اور دیگر سیاسی رہنمائوں کو بھی اس ایشو کی جانب متوجہ کیا۔ مجھے اس ’’جرم‘‘ کا ارتکاب اس لئے کرنا پڑا کیونکہ بدقسمتی سے اس وقت خیبرپختونخوا اور بلوچستان سیاسی طور پر یتیم ہیں ۔ 

خیبرپختونخوا کے سادہ لوح پختونوں نے دھوکہ کھا کر تحریک انصاف کو ووٹ دئیے ۔ اس جماعت کے اصل مختاروں کو وہاں کے مسائل اور عوام سے کوئی دلچسپی نہیں ۔ سیاسی اور ذاتی مفادات کی وجہ سے پختونخوا کے پی ٹی آئی کے عہدیدار بدترین غلامی کی زندگی گزار رہے ہیں ۔ ان غلاموں کو ان کے آقائوں نے لاہور کے چار حلقوں کی جنگ میں لگادیا ہے ۔ پاک چائنا اکنامک کاریڈو ر کے روٹ کی تبدیلی کے حوالے سے جو کچھ ہوا ‘ وہ دھرنوں کے دوران ہی ہوا۔

اس دوران میں نے کئی بار پی ٹی آئی کے رہنمائوں کو متوجہ کیا لیکن وہ لاہور کے چار حلقوں کے لئے خان صاحب کے حکم پر قانون کی دھجیاں اڑانے اور لوگوں کو بے عزت کرنے میں لگے ہوئے تھے ۔ دوسری طرف بلوچستان کے حکمران وہ لوگ بن گئے ہیں جو ماضی میں اس صوبے کے حقوق کے علمبردار تھے لیکن یہ لوگ پہلی مرتبہ بلاشرکت غیرے حکمرانی اور میاں نوازشریف کی قربت کے مزے لے رہے ہیں ۔ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ بھی ان کی نئی نئی دوستی ہوگئی ہے ۔ 

وہ اس نشے میں ایسے مست ہیں کہ کسی ایسے لفظ کو منہ سے نکالنے کی ہمت ہی نہیں کرسکتے کہ جو میاں صاحب یا اسٹیبلشمنٹ کو ناگوار گزرے ۔ یہی وجہ ہے کہ ٹریڈ کاریڈور کی روٹ کی تبدیلی کے خلاف آواز اٹھانے کی اس ’’سازش‘‘ کے آغاز کے لئے مجھے میدان میں آنا پڑا اور اللہ کا شکر ہے کہ مجھے اس پر کوئی ندامت نہیں ۔ میں اگر بڑے صوبوں سے چھوٹے صوبوں کو متنفر کرنے کی کسی سازش کی راہ میں اگر رکاوٹ بنا تو مجھے اس پر فخر ہے ۔ مجھے اگر اللہ نے پسماندہ صوبوں کے حق میں آواز اٹھانے کی توفیق دی تو اس کا شکر ہے ۔

رہا منصوبے کے حوالے سے میرا اعتراض اور حکومت کا جواب ‘ توکسی ایک میں وزن کا اندازہ لگانے کے لئے قارئین آج (ہفتہ رات ۱۰ بجے ) جیو نیوز پر اس منصوبے سے متعلق جناب احسن اقبال صاحب کے ساتھ میرا ’’جرگہ‘‘ ملاحظہ کرلیں ۔ میرے اور احسن اقبال صاحب کے علم کا کوئی موازنہ نہیں ۔ میں ایک معمولی طالب علم جبکہ وہ اعلیٰ تعلیم یافتہ انسان ہیں ۔ معاشی اور کاروباری معاملات سے متعلق وہ ایک اتھارٹی کی حیثیت رکھتے ہیں جبکہ ان حوالوں سے میرا علم اور تجربہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ 

میں صحیح اردو بول سکتا ہوں اور نہ انگریزی جبکہ دونوں زبانوں میں احسن صاحب کے قادرالکلام ہونے میں کوئی کلام نہیں ۔ لیکن اس پروگرام کو ملاحظہ کرنے کے بعد آپ بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ کس طرح وہ کنفیوژن کو دور کرنے کی بجائے مزید بڑھا رہے ہیں ۔ میں نے ان سے استفسار کیا کہ اگر روٹ تبدیل نہیں کیا گیا ہے تو ہمیں کسی سرکاری دستاویز میں وہ نقشہ دکھایا جائے کہ جس میں یہ سڑک ڈی آئی خان ‘ ژوب اور کوئٹہ سے گزرے گی لیکن وہ کوئی ایسا نقشہ نہ دکھا سکے ۔

پروگرام کے بعد میں نے پلاننگ کمیشن آف پاکستان کی ویب سائٹ کھولی تو وہاں پر بھی ایسا کوئی نقشہ نہیں۔ میں نے ان سے استفسار کیا کہ اگر ہمارا دعویٰ غلط ہے تو پھر بتایا جائے کہ مجوزہ آٹھ اکنامک زونز کہاں کہاں بنیں گے تو وہ گوادر کے سوا کسی دوسرے مقام کا نام نہیں لے سکے ۔(حالانکہ پلاننگ کمیشن کی ایک بریفنگ میں (جس کی کاپی میرے پاس موجود ہے) میں ایک اور اکنامک زون کے لئے لاہور اسلام آباد موٹر وے پر واقع ایک جگہ کو تجویز کیا گیا ہے ۔ اب اگر سڑک نے مستقبل میں واقعی ڈی آئی خان ‘ ژوب سے گزرنا ہے تو پھر یہ اکنامک زون یہاں کیوں تجویز کیا گیا ہے ۔ این ایچ اے اور پلاننگ کمیشن نے ابتدائی دنوں میں اپنی بریفنگز (کاپیاں میرے پاس ہیں) میں اس کاریڈور کے لئے چار روٹ تجویز کئے تھے۔
 
حسن ابدال‘ کوہاٹ ‘ ڈی آئی خان‘ سراب ‘ پنجگور‘ گوادر
 
ایم 2‘ ایم 3‘ ایم 4‘ ملتان‘ راجن پور‘ دادو‘ ورجی ‘ حب اور گوادر
 
حسن ابدال سے کراچی براستہ جی ٹی روڈ اور پھر وہاں سے گوا در

 حسن ابدال سے براستہ موٹروے رتوڈیرو اور پھر وہاں سے براستہ خضدار 

 آواران اور خوشاب گوادر تک: اب صورتحال یہ ہے کہ وزیراعظم نے اس کاریڈور کے تناظر میں حسن ابدال ‘ حویلیاں سیکشن کے موٹروے کی تعمیر کا افتتاح کردیا ( اس موقع پر انہوں نے اپنے خطاب میں اس کا کوئی ذکر نہیں کیا کہ آگے گوادر تک پہنچنے کے لئے کونسا روٹ استعمال کیا جائے گا ۔ اسی طرح انہوں نے پانچ فروری کو آزاد کشمیر اسمبلی سے خطاب کے دوران بھی پاک چائنا کاریڈور کے فوائد بیان کئے لیکن اس حوالے سے خاموشی اختیار کی کہ حسن ابدال سے گوادر تک جانے کے لئے کونسا روٹ استعمال کیا جائے گا ‘ حالانکہ ایک روز قبل سینیٹ سے خیبرپختونخوا اور بلوچستان کے سینیٹرز نے واک آوٹ کیا تھا اور روٹ کی تبدیلی پر معترض ان کے اتحادی مولانا فضل الرحمان بھی ان کے سامنے تشریف فرماتھے) ۔

اسی طرح پلاننگ کمیشن کے مجوزہ روٹس میں سے نمبر (4) کے تحت منصوبوں پر کام کا آغاز کرکے گوادر کو اس راستے سے خنجراب سے ملایا بھی جارہا ہے ۔ دوسری طرف پرانے روٹ کا کاغذی نقشہ تک دستیاب نہیں اور نہ کسی کو فیزیبیلٹی بنانے کا کہا گیا ہے تاہم ہمیں تسلیاں دی جارہی ہیں کہ روٹ تبدیل نہیں کیا جارہا ہے ۔ یہ بھی کہا جارہاہے کہ ابھی دستیاب روٹ سے منصوبے کا آغاز کردیاجائے گا اور بعدمیں آرام سے اس مختصر روٹ پر آہستہ آہستہ کام ہوگا ۔ اب جب ایک مرتبہ متبادل روٹ سے کام شروع ہوجائے تو پھر کسی کا دماغ خراب ہے جو مزید اربوں ڈالر خرچ کرکے دوسرا روٹ تعمیرکرے ۔مجھے آج بھی اصرار ہے کہ ہر حوالے سے (وسط ایشیاء تک رسائی‘ معاشی ‘ تزویراتی‘ دفاعی اور ملک میں پسماندہ علاقوں کی بے چینی ختم کرنے وغیرہ) ضروری ہے کہ پاک چائنا کاریڈور کو ڈی آئی خان‘ ژوب اور کوئٹہ کے راستے سے گزاراجائے ۔

 زندگی رہی تواگلے کالموں میں اس حوالے سے اپنے دلائل سامنے رکھنے کی کوشش کروں گا۔ خود بخود واضح ہوجائے گا کہ پروجیکٹ میں رخنہ کون ڈال رہا ہے ۔ حکومت یا یہ عاجز ؟۔ یاپھر علاقائی یا لسانی نفرت کی بنیاد کون ڈال رہا ہے۔ یہ طالب علم یا حکمران ؟۔ جملہ معترضہ کے طور پر احسن اقبال صاحب کی خدمت میں عرض ہے کہ میرا تعلق مردان سے ہے یا پھر مہمندایجنسی سے ۔ روٹ کوئی بھی ہو‘ میرے ان علاقوں کے لحاظ سے کوئی اثر نہیں پڑتا۔ یوں میرے لئے یہ ذاتیات کا یا علاقہ پرستی کا نہیں بلکہ ملکی مفاد کا ایشو ہے۔

سلیم صافی
"بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ

No comments:

Powered by Blogger.