Header Ads

Breaking News
recent

امریکی فوجی غرور کا خاتمہ.....

امریکی صدر براک اوباما یوکرائن کو ہتھیار بھجوانے کی تجویز پر غور کرتے ہیں۔کیا اس سے امریکی صدر کی توہین کا ایک پہلو نہیں نکلتا دکھائی دیتا؟ اگر حالیہ دنوں امریکا کی طرف سے کی جانے والے مداخلت کا حشر دیکھیں تو سپرپاور کی مزید جگ ہنسائی کے سوا اور کچھ نہیں۔ افغانستان میں تیرہ سال تک وحشیانہ جنگ لڑنے کے بعد امریکی افواج طالبان کے ہاتھ میدان چھوڑ کر رخصت ہورہی ہیں۔ ہزاروں جانیں اور اربوں ڈالر کے ضیاع کے باوجود واشنگٹن بہت کم جنگی اہداف حاصل کر پایا ہے۔

 عراق میں آج امن کے امکانات پہلے سے کہیں زیادہ مبہم ہیں۔ صدام حسین کا تختہ الٹنا اور ان کی فوج کو شکست دینا بہت آسان تھا، لیکن اس کے بعد خونریز خانہ جنگی نے ملک کا شیرازہ بکھیر کر رکھ دیا جبکہ نسلی اور مسلکی کشمکش انسانی جانوں کا خراج لے رہی ہے۔ عراق کے زیادہ تر علاقے داعش کے قبضے میں ہیں اورشیعہ سنی گروہوں کے درمیان خونی جنگ جاری ہے۔

صدر قذافی کو اقتدار سے ہٹانے کی امریکی کوشش کی وجہ سے لیبیا بھی مکمل طور پر عدم استحکام سے دوچار ہوچکا ہے۔ اگرچہ قذافی ایک ظالم آمر تھے لیکن اُنھوں نے ملک کو یکجا کیا ہوا تھا۔ اب جنگجومسلح گروہ ہر طرف راج کررہے ہیں جبکہ ملک میں حکومت نامی کوئی چیز موجود نہیں۔وہاں جاری خانہ جنگی کاکوئی اختتام دکھائی نہیں دیتا ہے۔ آج یمن بھی افراتفری کی سرزمین ہے ۔ دارلحکومت پر حوثی قبائل کا قبضہ ہے جبکہ ایک مرتبہ پھر ملک کے دولخت ہونے کا خدشہ لاحق ہے۔ 

ان قبائل نے پنٹاگان کی طرف سے فراہم کیے ہوئے چارسو ملین ڈالر مالیت کے اُن ہتھیاروں پر قبضہ کرلیا ہے جو القاعدہ کا مقابلہ کرنے کے لیے بھجوائے گئے تھے۔ اس کے علاوہ قذافی کے اسلحہ خانہ سے مالی سے لے کر سنائی تک ہتھیاروں کی فروخت بھی جاری ہے۔ ان ہتھیاروں سے اُن علاقوں میں بھی خونریزی ہو رہی ہے۔ داعش کی کامیابی کی ایک بڑی وجہ ہے کہ ان کے ہاتھ عراق کو فراہم کردہ امریکی ہتھیار آسانی سے لگ گئے تھے۔ اس سے بھی پیچھے تاریخ پر نظر دوڑائیں تو ویت نام میں امریکی مداخلت کی وجہ سے وہاں داخلی خانہ جنگی شروع ہوگئی۔ اس میں لاکھوں افراد بلا وجہ ہلاک ہو گئے۔ 

مجھے ابھی تک وہ منظر یاد ہے جس میں ایک امریکی ہیلی کاپٹر سیگون (Saigon) پر چکر لگارہا ہے جبکہ بہت سے شہری اس کے نیچے لٹکے ہوئے رسوں سے چمٹے ہوئے ہیں کیونکہ ویت کانگ کے گوریلے ویت نام کے دارلحکومت کی طرف پیش قدمی کررہے ہیں۔

تاریخ کا یہ مختصر سا جائزہ ظاہر کرتا ہے کہ امریکی مداخلت کو تباہی سے تعبیر کرنامبالغہ نہ ہوگا۔ اگرچہ زیادہ تر امریکی اس بات کو تسلیم کرنے میں تامل سے کام لیتے ہیں کہ ا فغانستان میں ان کی فوج کو شکست ہوچکی لیکن حقیقت یہ ہے کہ ایسا ہوچکا ہے اور ایسا پہلی بار نہیں ہوا ۔ بارہار امریکی افواج لاشیں چھوڑ کر میدان سے بھاگی ہیں لبنان اور صومالیہ جیسے ممالک سے بھی امریکی افواج بہت سے فوجیوں کی ہلاکت کے بعد فرار ہوگئیں۔

 اس کے باوجود بہت سے امریکی جنگی جنون میں مبتلا ہیں۔ وہ ابھی بھی دنیا کے مختلف علاقوں میں فوجی کارروائی کرنے کا شوق رکھتے ہیں۔ گزشتہ سال صدر اوباما پر کتنا دباؤ تھا کہ وہ شام میں فوجی کارروئی کریں تاکہ بشار الااسد حکومت کا خاتمہ کیا جاسکے۔ واشنگٹن اور تل ابیب میں جنگی جنون رکھنے والے بہت سے افراد صدر اوباما پر تنقید کرتے رہتے ہیں کہ وہ ایران کی جوہری تنصیبات کو تباہ کرنے کے لیے فضائی بمباری نہیں کرتے۔

شاید کلنٹ ایسٹ ووڈ (Clint Eastwood) کی فلم ’’امریکن سنائپر‘‘ کی باکس آفس پر بھاری کامیابی کی وجہ امریکیوں کا جنگ کے لیے نہ ختم ہونے والا جنون ہے۔ یہ فلم ایک امریکی فوجی، کرس کیل کی کتاب پر مبنی ہے۔ اس میں ایک سنائپر کی بہادری کی سچی کہانی بیان کی گئی ہے کہ وہ کس طرح طویل فاصلے سے کئی ایک عراقیوں کو نشانہ بناتا ہے۔ یقیناًہر ہلاکت پر امریکی سینما گھر تحسین کے نعروں سے گھونج اٹھتے ہوں گے۔ فلم کے ڈائریکٹر اور مصنف نے ہلاکت خیز انسانی مشین پر سے تمام شکوک و شہبات اور احساسِ جرم کے جذبات ختم کردیے ہیں ۔ 

ان کے نزدیک تمام عراقی وحشی اور ظالم ہیں، اس لیے ان کے ناظرین ان کی ہلاکت پر خوشی محسوس کرتے ہیں… ایک بہادر سنائپر طویل فاصلے سے ان کے جسموں میں گولیاں اتار رہا ہے اور وہ خوشی سے پاگل ہو رہے ہیں!
اب واپس یوکرائن کی بات کرلیں۔ حقیقت یہ ہے کہ سرد جنگ کے زمانے میں کوئی امریکی لیڈر سوویت یونین کی سرحدوں کے نزدیک کسی کشمکش کا حصہ بننے کا حوصلہ نہ رکھتا تھا۔ اگرچہ 1956ء میں ہنگری میں ہونے والی شورش میں ہنگری عوام کے ساتھ امریکی ہمدردی موجود تھی، لیکن واشنگٹن نے بہت خاموشی سے سرخ فوج کو قتلِ عام کرتے دیکھا اور آواز تو کجا، بلند سانس تک نہ لیا۔ پرانے قارئین کو یاد ہو گا کہ جب ماسکو نے کیوبا میں میزائل نصب کرنے کی کوشش کی تو جان ایف کینڈی نے کیا ردِ عمل دکھایا۔ سنہ 1962ء کے ان دنوں دنیا ایٹمی تصادم کے خوف کے سائے منڈلاتے ہوئے محسوس کر رہی تھی۔

 چنانچہ یہ تصور کرنا کہ واشنگٹن کی حمایت سے سے ماسکو کے حمایت یافتہ رہنما کو منصب سے ہٹا کر مغربی ممالک یوکرائن میں اپنے حامی رہنما کو ہتھیارفراہم کرکے تقویت دیں گے اور ماسکو منہ دیکھتا رہے گا، روس کی تاریخ کو نظر انداز کرنے کی حماقت کے مترادف ہے۔ ایسا کوئی بھی اقدام یقیناً پیوٹن کو تصادم کی راہ دکھائے گا۔

حقیقت یہ ہے کہ اس خطے میں کسی قابلِ ذکر امریکی مفاد کو خطرہ نہیں ہے۔ یوکرائن کے ووٹرز امریکی ووٹ بنک نہیں ہیں، یہاں نہ تو تیل ہے اور نہ ہی کوئی تجارتی بندرگاہ۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ یہاں نہ تو امریکی بنک ہیں اور نہ ہی دیگر کارپوریشنز، چنانچہ کسی مالی مفاد کو خطرہ نہیں ہے۔ تو کیا امریکا صرف جنگی جنون کو تسکین دینے کے لیے پیوٹن کو تاؤ دلانے کا متحمل ہو سکتا ہے؟وہ اس راستے پر کیوں چل رہے ہیں؟ شاید وہ پیوٹن کو کمزور کرنا چاہتے ہیں؟ 

اس سے پہلے روس نے اسد کے خلاف یواین سکیورٹی کونسل کی قرارداد کو مستر د کرتے ہوئے امریکا کو تاؤ دلا دیا تھا۔ بہرحال ایسی کوئی بھی کوشش کرنے سے پہلے امریکا کو یاد رکھنا چاہے کہ دوسری جنگِ عظیم کے بعد اس نے بہت سے جنگوں میں حصہ لیا اور بہت سے خطوں پر فضائی بمباری کی لیکن ان سب کارروائیوں کا انجام بہت برا ہوا۔ کیا وقت نہیں آ گیا جب مزید کوئی کارروائی کرنے سے پہلے صدر اوباما اپنی تاریخ پر ایک نظر ڈالنے کی زحمت کرلیں؟

عرفان حسین
"بشکریہ روزنامہ ’’دنیا

No comments:

Powered by Blogger.