Header Ads

Breaking News
recent

آٹھ سالہ دہشت گرد.....

چلیے صاحب! ہم تو تیسری دنیا کی قوم اور پھر نیم چڑھے کریلے، یعنی مسلمان، نیم خواندہ، تہذیب سے ناآشنا، اُجڈ، گنوار، بنیادپرست وغیرہ وغیرہ، سو انتہاپسندی، مذہبی دہشت گردی، عقیدے کی بنیاد پر منافرت جیسی زہریلی فصلوں کے لیے ہماری زمین بہت زرخیز ہے، بلکہ ہمارے بنجر پہاڑوں پر دہشت اور وحشت کے یہ پودے خوب اُگتے اور تناور درخت بنتے ہیں، لیکن علم، تہذیب، انسانیت، شرافت کی ارض مقدس پر یہ کیا ہورہا ہے۔۔۔ دیکھیں گے۔۔۔۔۔ چلیے میرے ساتھ بہت دور۔

یہ فرانس ہے، آزادی کے متوالوں اور انسانی برابری کے عشاق کا قبلہ، کچھ دیر پیرس میں رک کر حُسن سے آنکھیں خیرہ کیجیے، خوشبوؤں سے سانسیں مہکائیے، اب آگے چلیے، یہ ہے فرانس کا پانچواں بڑا ساحلی شہر نیس اور یہ ہے اس کی ایک درس گاہ نیس فلور اکیڈمی اسکول۔ ظاہر ہے یہاں بچوں کو تعلیم دینے کے ساتھ ان کی تربیت بھی کی جاتی ہے، بڑی شفقت بڑی محبت سے۔۔۔۔ مگر اس بچے کے ساتھ کیا ہورہا ہے۔

ایک آٹھ سالہ بچے کو بلاکر اس کا استاد پوچھ رہا ہے کیا تم چارلی ہو؟
آگے بڑھنے سے پہلے ہم آپ کو اس سوال کا مطلب بتاتے چلیں۔ رحمت عالم ﷺ کی شان میں گستاخی کرنے والے فرانسیسی بھانڈ نما رسالے پر 7 جنوری کو ہونے والے حملے، جس میں گستاخی کے مرتکب افراد سمیت کئی لوگ مارے گئے۔ جس کے بعد اہل فرانس یا مغربی دنیا کو ایک نعرہ دیا گیا  یعنی میں چارلی ہوں۔ یعنی رسول کریم ﷺ کی امت کے جذبات مجروح کرنے والے رسالے کی مکمل اعانت اور حمایت کا اعلان۔

اس حملے کے اگلے ہی روز مسلمان بچے احمد کو اس سوال کا سامنا تھا۔ مسلم دنیا کا کوئی حکمراں ہوتا تو سیاستدان، دانش مندی اور مصلحت کے تقاضے سامنے رکھتا، مگر آٹھ سالہ مسلمان بچہ ان تقاضوں کو کیا سمجھے۔ اس کا فوری جواب تھا، میں دہشت گردوں کی طرف ہوں، کیوں کہ میں پیغمبر (ﷺ) کے بنائے گئے خاکوں کے خلاف ہوں۔

بات آئی گئی ہوسکتی تھی، نظرانداز کی جاسکتی تھی، بچہ تو بچہ ہی ہے ناں، مگر صاحب یہ مسلمان کا بچہ تھا، سو اس کا بچپن نظرانداز کردیا گیا۔
استاد نے جھٹ اس خطرناک معاملے سے پرنسپل کو آگاہ کیا۔ پرنسپل نے بچے کو طلب کیا اور پوری کلاس کے سامنے تین بار یہی سوال دہرایا، ہر بار وہی جواب اس کے منہ پر طمانچے کی طرح لگا جو ٹیچر کے رخسار کو سُرخ کرچکا تھا۔ پرنسپل نے اس اہم مسئلے پر کئی دن غور کیا اور آخرکار اس نے اپنے اسکول میں ایک دہشت گرد کی موجودگی سے خائف ہوکر ایک ذمے دار شہری کی حیثیت سے 21 جنوری کو پولیس سے احمد کی شکایت کی اور اسے دہشت گردی کے دفاع کا مجرم قرار دیا جبکہ اس کی دوسری شکایت بچے کے والد کے خلاف تھی۔
یہی نہیں، کم سن احمد پر یہ بھی الزام ہے کہ اس نے حکومت فرانس کی جانب سے رسالے پر حملے کے واقعے پر ایک منٹ کی خاموشی کے اعلان پر عمل نہیں کیا۔ باغی ہے بھئی پکا باغی۔

پولیس نے تو خیر کوئی کارروائی نہیں کی، لیکن پرنسپل اپنے طور پر حتیٰ المقدور احمد کو سزا دینے پر کمربستہ ہے۔ احمد کا وکیل اس بابت تفصیل بتاتے ہوئے کہتا ہے کہ ایک روز احمد سینڈباکس (ایک چوکھٹا، جس میں بچے مٹی بھر کے کھیلتے ہیں) سے کھیل رہا تھا۔ پرنسپل اس کے قریب آیا اور بولا، مٹی کھودنا بند کرو، تمھیں اس میں کوئی مشین گن نہیں ملے گی۔

احمد سے پرنسپل کے سلوک کا ایک اور مظاہرہ مہذب دیس کے عالی مقام استاد کی سفاکی سامنے لاتا ہے۔ احمد ذیابیطس کا مریض ہے۔ ایک روز پرنسپل نے اسے یہ کہہ کر انسولین دینے سے انکار کردیا کہ تم چاہتے ہو کہ ہم سب مرجائیں، اس لیے تمھیں موت کا ذائقہ چکھنا ہوگا۔

آٹھ سالہ احمد صرف ایک مثال ہے اس ماحول کی جو واقعے کے بعد فرانس میں بسنے والے مسلمانوں کو درپیش ہے۔ وہ کیا حالات ہیں؟َ اس کا اندازہ احمد کے وکیل  کے ایک جملے سے لگایا جاسکتا ہے، جس کا کہنا ہے،فرانس ایک اجمتاعی ہسٹریا میں مبتلا ہے۔

واقعے کے بعد سے فرانس میں درجنوں افراد کو اظہاررائے پر دہشت گردی کے دفاع کا الزام لگاتے ہوئے جیل بھیجا جاچکا ہے۔
زبان درازی کو بھی رائے کے اظہار کا حق سمجھنے والے فرانس کے صدر  نے ہولوکوسٹ کی یاد منانے کے دن کے موقع پر اپنی تقریر میں کہا کہ ان کی حکومت لوگوں کے آن لائن اظہار خیال پر اپنا کنٹرول موثر بنانے کی منصوبہ بندی کررہی ہے۔ انھوں نے یہودیوں سے دشمنی یا تعصب (  کی ایک شکل اسرائیل سے نفرت کو قرار دیا۔

تو جناب! اب فرانس میں رہتے ہوئے آپ اسرائیل کے خلاف بول کے تو دکھائیں۔ اظہاررائے کی اتنی آزادی تو آپ کو نہیں مل سکتی ناں۔ اس فضاء میں نہ جانے احمد پر اور کیا گزرتی ہے۔ اس سے نہ جانے کتنی بار پوچھا جائے گا تم چارلی ہو اور اس کا بچپن حالات کی نہیں ایمان کی زبان بولے گا۔

محمد عثمان جامعی

No comments:

Powered by Blogger.