Header Ads

Breaking News
recent

جھنگ...


جھنگ دریائے چناب کے کنارے آباد وسطی پنجاب کا شہر ہے جس کی آبادی تین لاکھ ستاسی ہزار چار سو سترہ نفوس پر مشتمل ہے۔ یہ ضلع جھنگ میں شامل ہے۔جھنگ کی سرحدیں شمال میں ضلع سرگودھا، شمال مشرق میں گوجرانوالہ، مشرق میں فیصل آباد اور ٹوبہ ٹیک سنگھ، جنوب میں مظفر گڑھ اور خانیوال، مغرب میں لیہ اور بھکر اور شمال مغرب میں خوشاب سے ملتی ہیں۔ تمام علاقہ میدانی ہے، ماسوائے شمال کے جہاں ربوہ کے قریب دریائے چناب کے کنارے کیرانا پہاڑیاں ہیں جو آراولی سلسلے سے تعلق رکھتی ہیں۔

 مغرب میں تھل کا صحرائی علاقہ ہے جو دریائے جہلم کے کنارے سے شروع ہوتا ہوا خوشاب اور بھکر کے اضلاع تک جاتا ہے۔ گوجرانوالا کے قریب پبانوالا سے بنجر زمین شروع ہوتی ہے جہاں سے زمین کی سطح 10 فٹ (3 میٹر) بلند ہوتی ہے، اوربڑھتی ہوئی 30 فٹ (9 میٹر) تک پہنچ جاتی ہے۔ یہ علاقہ جنوب میں 87 کلومیٹر تک اور چوڑائی میں تقریباّ 30 سے 40 کلومیٹر تک پھیلا ہوا ہے۔ اس علاقہ میں ماضی میں جنگلات تھے اور یہ علاقہ کسی بھی قسم کی کاشت کے لیے موزوں نہیں تھا۔ انگریز دورِ حکومت میں یہاںآب پاشی کا نظام تشکیل دیا گیا‘جس کے لیے975 ایکڑ اراضی پر لائلپور (موجودہ فیصل آباد) کی بنیاد رکھی گئی جو آج ٹیکسٹائل کے شعبہ میں پاکستان کا سب سے بڑا صنعتی شہر ہے۔

دریائے چناب اور دریائے جہلم کے درمیان واقع کیرانا کا علاقہ، جو گھوڑی والا تک پھیلا ہوا ہے، بھی ضلع جھنگ میں شامل ہے۔ دریاؤں کا قریبی نشیبی علاقہ، جو سیلاب کی صورت میں زیر آب آ جاتا ہے، ہتھر کہلاتا ہے جبکہ دریاؤں کے درمیان بلند علاقہ، جو زیر آب نہیں آتا، اتر کہلاتا ہے۔ نباتات:غیر زرعی رقبہ پر جھنڈ، کریر، وان، کیکر، ٹہلی اور بوہڑ کے درخت بکثرت پائے جاتے ہیں، اس کے علاوہ ہرمل، اکڑہ اور باتھو وغیرہ کی جھاڑیاں بھی پائی جاتی ہیں۔ تاریخ:جھنگ کا پہلا شہر رائے سیال نے 1288ء میں اپنے پیر و مرشد حضرت شاہ جلال بخاری کے کہنے پر آباد کیا۔ جھنگ کے پہلے حکمران مل خان 1462ء میں ہوئے۔

 سیال قبائل نے جھنگ پر 360 برس تک حکومت کی اور آخری سیال حکمران احمد خان تھے جنہوں نے 1812ء سے 1822ء تک حکومت کی جن کے بعد حکومت سکھوں کے ہاتھ آئی اور پھر ان سے انگریزوں کے قبضہ میں چلی گئی۔ آب و ہوا:جھنگ کی آب و ہوا شدید نوعیت کی ہے جس کا مطلب سردیوں میں شدید سردی اور گرمیوں میں شدید گرمی ہے۔

 موسم گرما، سرما کے مقابلہ میں زیادہ طویل ہوتا ہے، اور گرمیوں میں عمومی درجہ حرارت 35 ڈگری سینٹی گریڈ تک ہوتا ہے جبکہ سردی میں 12 ڈگرمی سینٹی گریڈ تک گر جاتا ہے۔ تہذیب و تمدن:جھنگ کی اکثریتی آبادی کی مادری زبان پنجابی ہے، ضلع کے بعض علاقوں میں سرائکی بھی بولی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ اردو بھی عام بولی جاتی ہے۔ اسی علاقے سے ہیر رانجھا اور مرزا صاحبہ جیسی رومانوی داستانوں کا جنم ہو۔

No comments:

Powered by Blogger.