Header Ads

Breaking News
recent

نئےفرمانروا - شاہ سلمان بن عبدالعزیز...


شاہ عبداللہ کی وفات کے بعد نظام حکومت کی باگ ڈور نئے شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے سنبھال لی ہے۔78سالہ نئے شاہ کو مشرق وسطیٰ میں جاری بحرانوں کے حل کے لئے نئی راہیں تلاش کرنا ہونگی اور داعش جیسے انتہا پسند گروپوں کے خاتمے کیلئے حکمت عملی بنانا ہوگی۔ نائف بن عبدالعزیز کے انتقال کے بعد شاہ عبداللہ نے سلمان بن عبدالعزیز کو ولی عہد بنایا تھا۔ وہ نومبر 2011 میں سابق ولی عہد و وزیر دفاع سلطان بن عبدالعزیز کے انتقال کے بعد وزیر دفاع بنے تھے۔شہزادہ سلمان بڑے مدبر اور دانشمند انسان کے طور پر مشہور رہے ہیں، وہ ماضی میں سعودی قیادت کے معتمد مشیر سمجھے جاتے تھے اور خاندان کے داخلی امور میں ان کا مؤثر کردار تھا۔مغربی میڈیا بھی انہیں معتدل شخصیت قرار دیتا ہے۔ 

کہا جا رہا ہے کہ سعودی عرب کے نئے شاہ وزارت عظمیٰ اور دفاع کے عہدے اپنے پاس رکھیں گے۔ شاہ سلمان بن عبدالعزیز کو 1963ء سے 2011ء تک صوبہ ریاض کے گورنر رہنے کا طویل تجربہ حاصل ہے ۔ 2011ء میں انہوں نے وزارت دفاع سنبھالی ۔ ان کے بارے میں عمومی رائے یہ ہے کہ وہ مثبت سوچ کے مالک نہایت اعلیٰ قسم کے انسان،تعلیم اور ٹیکنالوجی سے محبت کرنے والے حکمران ہیں ۔ سعودی ویب سائیٹس کے مطابق نئے شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی پرورش مرحبا پیلس میں ہوئی تھی، انہوں نے ابتدائی تعلیم ریاض کے شاہی سکول سے حاصل کی۔ یہ سکول سعودی شہزادوں کی تعلیم و تربیت کیلئے مختص ہے ۔ سلمان بن عبدالعزیز جدید سائنس اور علاقائی تعلیم میں دلچسپی رکھتے ہیں اور

 انہی مضامین میں انہوں نے اپنی تعلیم مکمل کی ۔انہیں 1950ء میں ریاستی امور میں شامل کر لیا گیا ۔ ٭ 19برس کی عمر میں 1954ء میں انہیں ریاض کا میئر بنایا گیا ۔ ٭ 25دسمبر 1960ء کو انہوں نے میئر شپ سے استعفیٰ دیدیا ۔ ٭ 4فروری 1963ء کو ریاض کے گورنر بنے ۔انہوں نے ایک اوسط درجے کے شہر کو دنیا کا جدید شہر بنانے میں دن رات ایک کر دیا اور آج ریاض دنیا کے ترقی یافتہ شہروں میں سے ایک ہے ۔

 بطور گورنر انہوں نے مغربی ٹیکنالوجی اور ترقی کے ماڈل سے استفادہ کیا اور اپنے صوبے میں بیرونی سرمایہ کاری کی راہ ہموار کی اور سیاحت کو فروغ دیا ۔ ریاض میں شاہ سعود یونیورسٹی کا قیام ان کی تعلیم سے غیر معمولی دلچسپی کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔ 2011ء میں انہوں نے اپنے صوبے سے تمام ملکی و غیر ملکی بھکاریوں کا خاتمہ کر دیا ۔ ٭5نومبر 2011ء کو ملکی وزارت دفاع کا چارج لیا اور برطانیہ اور امریکہ کے تواتر سے دورے کئے ۔

امریکی صدر باراک اوباما اور برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون سے ملاقاتیں کیں اور دفاعی ہتھیاروں کے حوالے سے کئی تاریخ ساز معاہدے کئے ۔ شاہ سلمان صحت کے حوالے سے بعض مسائل کا شکار رہے ہیں، چند سال پہلے انہیں ریڑھ کی ہڈی کا آپریشن کرانا پڑا تھا۔ شاہ سلمان نے بڑے اہم موقعہ پر سلطنت کی ذمہ داریاں سنبھالی ہیں، ان کے وسیع تجربے، دانش مندی اور فراست کو دیکھتے ہوئے با آسانی یہ کہا جا سکتا ہے کہ وہ آنے والے دور کے چیلنجز سے بخوبی نبرد آزما ہوں گے۔ 

عبدالستار ہاشمی

No comments:

Powered by Blogger.