Header Ads

Breaking News
recent

بھارت کا نظریہ...

جب جواہر لعل نہرو نے 26 جنوری 1929ء کو دریائے راوی کے کنارے یہ اعلان کیا کہ بھارت مکمل آزادی چاہتا ہے نہ کہ کسی کی زیردست ریاست بننا چاہتا ہے جس کا کہ بعض حلقوں کی طرف سے مطالبہ ہے۔ تو اس وقت بہت کم لوگوں نے اس پر یقین کیا کہ آیا محض 18 سال بعد برطانوی حکومت ختم ہو جائے گی۔ لیکن یہ عدم تشدد کے ذریعے ہوا اور بغیر کسی بغض و عناد کے۔

یہاں تک کہ سلطنت برطانیہ کے آخری وائسرائے لارڈ ماؤنٹ بیٹن وائسرائے لاج سے‘جو کہ اب راشٹرپتی بھون (یعنی صدارتی محل) ہے‘ دو گھنٹے کا سفر کر کے پارلیمنٹ ہاؤس پہنچے وہاں پر موجود ہر شخص ان سے ہاتھ ملانا چاہتا تھا۔ کسی قسم کی کوئی تلخی نہیں تھی بلکہ لوگ آگے کی طرف دیکھ رہے تھے ایک ایسی سیاسی حکومت کے قیام کی طرف جو آزاد ہو گی اور جس میں ان کے منتخب نمایندے اجتماعیت اور مساوات کی ان کی تمنا اور آرزو کو بروئے کار لائیں گے۔
اس وقت جو سوالات ہمارے سامنے کھڑے ہیں وہ یہ ہیں کہ آخر ہمارا سماجی ملبوس تار تار کیوں ہو رہا ہے۔ آپ کسی زاویے سے بھی دیکھیں قصور سیاسی جماعتوں کا ہے۔ ان کے نظریات متعصبانہ ہوتے ہیں اور آنکھ اقتدار پر ہوتی ہے۔ اس نے ہماری مثالیت پسندی کو ایک طرف دھکیل دیا ہے حالانکہ ہم اس قدر پرجوش ہو چکے تھے کہ ہم نے نو آبادیاں بنانے والی دنیاکی سب سے بڑی طاقت کو ایک گولی چلائے بغیر ملک سے نکال باہر کیا۔

جدوجہد آزادی کے کٹھن اور صبر آزما دور میں ہم اپنی مثالیت پسندی اور اخلاقی اقدار کے تصور سے پرجوش تھے لیکن ہمیں اس بات کا احساس ہی نہیں تھا کہ برطانیہ نے ہمیں اس قدر تقسیم در تقسیم کر دیا ہے۔ ہم نے وقتی طور پر ذات پات اور برادری کے لیے اپنے جھکاؤ کو پس پشت ڈال دیا لیکن آخری برطانوی فوجی کے ممبئی کے ’’گیٹ وے آف انڈیا‘‘ سے واپس جاتے ہی فرقہ واریت پھر سے پھوٹ پڑی اور آج ہم ذات‘ پات‘ مذہب اور لسانیات کے تفرقوں میں مبتلا ہیں۔
کوئی یہ دلیل دے سکتا ہے کہ چین نے جب 1962ء میں بھارت پر حملہ کیا تھا اس کا بھی یہی خیال تھا کہ بھارت تفرقوں میں بٹا ہوا ملک ہے لیکن بھارتی عوام ملک کے دفاع کے لیے متحد ہو گئے۔ یہ حملہ شمال مشرقی علاقے پر ہوا تھا جس کے بارے میں سمجھا جاتا تھا کہ اس پر بحث ہونی چاہیے۔ اس کی وضاحت یوں کی جا سکتی ہے کہ بیرونی حملہ ایک قوم کو متحد کر دیتا ہے۔ تقسیم اور تنازعہ کے خطرات ملک کو توڑ نہیں سکتے۔

یہ موقف خواہ کتنا بھی مضبوط اور قابل فہم کیوں نہ ہو لیکن آج اس کی کوئی حیثیت نہیں رہی۔ اب ملک ذات پات اور مذہب کے اختلافات کا بڑی گہرائی تک شکار ہو چکا ہے۔ یہ صورت حال اس وقت اور زیادہ تشویشناک ہو جاتی ہے جب ریاست خود لڑائی جھگڑے اور تصادم میں ملوث ہو جائے۔ وزیراعظم نریندر مودی تعمیر و ترقی پر زور دے رہے ہیں جو کہ قابل تعریف بات ہے لیکن جب وہ آر ایس ایس کے لیڈروں سے ملتے ہیں جن کا سارا زور ہندو راشٹرا پر ہے تو وزیراعظم کی باتوں کی چمک معدوم ہو جاتی ہے۔ بی جے پی مرکز پر حکومت کر رہی ہے جس سے بھارت کا ایک جمہوری اور مساوایانہ معاشرے کا تاثر خطرے میں پڑ چکا ہے۔

مجھے اس دلیل سے اتفاق نہیں کہ جہادی اسلام ہندوؤں کو متشدد بنا رہا ہے حقیقت یہ ہے کہ آر ایس ایس بڑے منظم طریقے سے سیاست کے رنگ کو تبدیل کر رہی ہے تا کہ ہندوتوا کا بول بالا ہو جائے۔ آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھگوت نے کئی مرتبہ بڑے فخر سے برسرعام کہا ہے کہ ہندو راج 800 سال کے بعد ملک میں واپس آ گیا ہے۔ آخر اس کی اس بات کا اقلیتوں پر کتنا برا اثر ہو سکتا ہے؟ بہت سے مسلمان رہنماؤں نے مجھے بتایا ہے کہ ان کی کمیونٹی ڈر اور خوف میں رہ رہی ہے۔ صورت حال یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ بہت سے سنجیدہ مسلم دانشورمسلمانوں میں انتہا پسندی کے رحجانات کے بارے میں پریشان ہیں۔ حتٰی کہ ہندو طلباء کو مدرسوں میں داخلے کی ایک کوشش بھی شروع ہوئی ہے۔
مسلمان طلباء ڈی اے وی اور آریا سماج کے تعلیمی اداروں میں داخلہ لینا چاہتے ہیں۔ ایک اور افسوس کی بات یہ ہے کہ سیکولر جماعتوں کے فعال کارکن بھی اب بی جے پی کی سوچ کی پیروی کرنے لگے ہیں۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ بی جے پی کے نظریے سے محبت کرنے لگے ہیں بلکہ ان کا مقصد اقتدار کے قریب رہنا ہے۔ حتی کہ کرن بیدی جیسا شخص جو ساری زندگی فرقہ واریت کے خلاف رہا ہے اب بڑے فخر سے بی جے پی کے موقف کی حمایت کرتا نظر آتا ہے۔

درحقیقت اس کی یہ روش بھی اقتدار تک پہنچنے کا ایک ذریعہ ہے لیکن اس قسم کی باتوں کا جو نتیجہ نکل رہا ہے وہ صحتمند نہیں۔ اس سے اقلیتیں عدم تحفظ کا شکار ہو رہی ہیں اور وہ یہ سوچنے پر مجبور ہو رہی ہیں کہ وہ دوسرے درجے کے شہری ہیں۔ اگر یہی روش جاری رہی تو اس سے بھارت کی توانائی کمزور پڑ جائے گی اور وہ تعمیر و ترقی کا اپنا خواب پورا نہیں کر سکے گا۔ جب تک اقلیتوں کو یہ یقین نہیں ہوتا کہ بھارت کی تعمیر و ترقی میں ان کو بھی حصہ ملے گا تو وہ ترقی کے پہیے کو چلانے میں اپنا حصہ نہیں ڈالیں گے۔

بی جے پی کی طاقت میں اضافہ نہ صرف اقلیتوں کے لیے تشویش کا باعث ہے بلکہ ملک کے آزاد خیال طبقات کے لیے بھی۔ مہاتما گاندھی کے نظریے کے مطابق بھارت میں ایسا نظام قائم ہونا چاہیے جس میں قانون کے روبرو سب برابر ہوں اور سب کے لیے برابری کے مواقع موجود ہوں۔ مسلمانوں کا احساس یہ ہے کہ انھیں زیادہ سے زیادہ دیوار کے ساتھ لگایا جا رہا ہے۔ اس سے مایوسی پیدا ہوتی ہے۔ ماضی میں دنیا نے اس کے نتائج دیکھے ہیں اور موجودہ دور میں یہ اور زیادہ خطرناک ہو سکتے ہیں۔
اس ماہ کے شروع میں پیرس کے جریدے چارلی ایبڈو کے دفتر پر حملے میں 12 افراد کا قتل قرآن پاک کی تعلیمات کے بھی منافی تھا۔ یہ درست ہے کہ گستاخانہ خاکے کسی صورت قابل قبول نہیں لیکن اس کے ذمے داروں کو ہلاک کر دینا بھی کیونکر روا ہو سکتا ہے؟ مجھے مسلمانوں کے جذبات کا مکمل احساس ہے لیکن جواب میں کسی کو ہلاک کر دینا انسانیت کے لیے ایک دھچکا ہے اور آزادی اظہار کے لیے بھی۔

یہ محاورہ کہ آپ کی آزادی اسی حد تک ہے جہاں میری ناک شروع نہیں ہوتی لیکن اس صورت میں بدلہ ہلاکتوں سے لیا گیا۔ اگر سب لوگ اسی طرح بدلہ لیتے رہیں تو پھر تو یہ جنگل کا قانون بن جائے گا۔ لوگوں کا غم و غصہ بجا تھا۔ جس کا مداوا کرنے کی پوری کوشش کی جانی چاہیے لیکن یہ دنیا کس قسم کی بن جائے گی جب لوگ دوسروں کو ہلاک کرنا شروع کر دیں ۔

مہاتما گاندھی نے کہا تھا اگر ذرایع ناجائز ہوں تو اس کا نتیجہ بھی ناجائز ہی نکلے گا۔ یہ دکھ کی بات ہے کہ بھارتی عوام اس معیار پر پورے نہیں اترے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ گاندھی جی کے الفاظ میں کوئی خامی تھی۔ دنیا میں تشدد اور کٹر اور انتہا پسندی پھیلی ہوئی ہے لہذا ہمیں صرف ایک ہی راستہ اختیار کرنا چاہیے وہ ہے تعاون اور مفاہمت کا راستہ۔ یہ نہرو کا خواب تھا جس کا ذکر انھوں نے دریائے راوی کے کنارے پرچم بلند کرتے ہوئے کیا۔ میری خواہش ہے کہ بھارت اسی راستے پر چلے اور دیگر ممالک کے لیے ایک مثال بن جائے خاص طور پر اپنے پڑوسیوں کے لیے۔

کلدیپ نائر
(ترجمہ:مظہر منہاس)

No comments:

Powered by Blogger.