Header Ads

Breaking News
recent

شاہ عبداللہ کی وفات اور مشرق وسطیٰ....


اسلامی دنیا کے اہم ملک سعودی عرب کے چھٹے بادشاہ شاہ عبداللہ کا نو سال پر محیط اقتدار اپنے اختتام کو پہنچ گیا ہے۔ گزشتہ دو سالوں سے علیل شاہ عبداللہ 22 اور 23 جنوری کی درمیانی شب خالق حقیقی سے جاملے۔شاہ عبداللہ کئی عرصے سے پھیپھڑوں کی بیماری میں مبتلا تھے اور گزشتہ کئی دنوں سے وینٹی لیٹر پر تھے۔ 90 سالہ شاہ عبداللہ نے اپنی زندگی میں ہی مملکت سعودی عرب کے معاملات اپنے سوتیلے بھائی ولی عہد سلمان بن عبدالعزیز کو سونپ دئیے تھے۔ جو 48سال تک ریاض کے گورنر رہے ہیں۔79 سالہ شاہ سلمان بن عبدالعزیز صرف20 سال کے تھے تو انہیں وزیر بنا دیا گیا تھا۔

 اپنے بھائی شہزادہ نائف کی وفات کے بعد 2012 میں ولی عہد مقرر ہوئے اور شاہ عبداللہ مرحوم کی خرابی صحت کے باعث مختلف تقریبات میں ان کی نمائندگی کرتے رہے۔ شاہ عبداللہ کی موت کی خبرنے پوری اسلامی دنیا کو غمگین کردیا۔ حافظ عبدالکریم بتا رہے تھے کہ شاہ عبداللہ کی موت پر سعودی عرب کی گلیاں ویران ہیں۔ پورے ملک کی فضا سوگوار ہے۔ شاہ عبداللہ کو ایک اچھے بادشاہ کے طور پر لیا جاتا تھا۔ شاہ عبداللہ کو جمعہ کی نماز کے بعد ریاض میں سپرد خاک کر دیا گیا۔ تدفین کے موقع پر پاکستان کے وزیر اعظم نواز شریف، مصر کے وزیر اعظم ابراہیم ملہب، سوڈان کے صدر عمر حسن البشیر اور ترکی کے صدر رجب طیب اردگان موجود تھے۔

شاہ عبداللہ کو تو شاہی خاندان کے فرمانرواؤں نے اسلامی تعلیمات کے عین مطابق ایک بے نشان قبر میں دفنا دیا ہے مگر شاہ عبداللہ کی موت کے عالم اسلام بالخصوص مشرق وسطی پر کیا اثرات مرتب ہونگے؟ کیا شاہ سلمان مشرقِ وسطی کے حوالے سے سعودی عرب کی سابق پالیسیاں جاری رکھیں گے؟ کیا خطے میں داعش کے بڑھتے ہوئے اثر ورسوخ سے سعودی عرب کو محفوظ کرنے کے لئے اقدامات کئے جائیں گے؟ تیل کے حوالے سے نئے سعودی حکمران کی کیا پالیسی ہوگی؟ یہ وہ سوالات ہیں جن کے جوابات کا ہر شخص متلاشی ہے۔ آج کے کالم میں ان سوالات کا احاطہ کرنے کی کوشش کروں گا۔

سعودی عرب کے نئے بادشاہ سلمان نے عہدہ سنبھالنے کے چند گھنٹوں بعد ہی ایک بیان جاری کیا کہ ’سیکورٹی اور استحکام برقرار رکھنے اور سلطنت کی تمام برائیوں سے حفاظت کرنے میں اللہ میری مدد کرے۔' اس بیان سے نئے بادشاہ کی ترجیحات کے بارے میں اندازہ ہوتا ہے۔ سعودی عرب کے نئے بادشاہ اندرونی اور بیرونی طور پر کئی معاملات کو مزید بہتر بنانے کے لئے کام کریں گے۔ اس حساس وقت میں سعودی شاہی خاندان کے جانشینی کا عمل خوش اسلوبی سے حل ہوچکا ہے۔ مگر نئے بادشاہ کو غیر معمولی رفتار سے کچھ ممکنہ مسائل سے نمٹنا ہو گا۔ 
شاہ سلمان کی جانب سے اپنے سوتیلے بھائی شہزادہ مقرن کو ولی عہد مقرر کر نا دانشمندانہ اقدام تھا۔ اس کے بعد نیا نائب ولی عہد مقرر کرنے کا اعلان سامنے آیا۔ نائب ولی عہد وزیر داخلہ محمد بن نائف کو مقرر کیا گیا ہے اور یہ شہزادوں کی نئی نسل کے پہلے شخص ہیں جنھوں نے تخت تک جانے والی سیڑھی پر قدم رکھا ہے۔ محمد بن نائف شہزادہ نائف کے بیٹے ہیں ۔جو شاہ عبداللہ اور شاہ سلمان کے بھائی تھے۔ 2012 تک وہ سعودی عرب کے ولی عہد رہے اور انہی ہی کی وفات کے بعد شاہ سلما ن کو ولی عہد مقرر کیا گیا تھا۔ پھر شاہ سلمان نے اپنے بیٹے کو وزیر دفاع بھی مقرر کردیا۔

شاہ سلمان کے دور میں پہلی بار آل سعود کی تیسری نسل اقتدار کا حصہ بن رہی ہے۔ کیونکہ شاہ عبداللہ کا خیال تھا کہ ابھی اقتدار ہم بھائیوں میں رہے۔ اور تیسری نسل کو اقتدار میں کچھ عرصے بعد شریک کیا جائے اور شاید اس سے بہتر موقع نہیں تھا۔

حالیہ رونما ہونے والے واقعات سے شاہی خاندان کی اکثریت مطمئن ہو گی۔ خاندان کے درمیان کچھ معاملات خوش اسلوبی سے طے کرانے میں ہمسایہ ملک کے سربراہ کا بھی کردار ہے۔ جنہوں نے چند روز قبل عمرے کی غرض سے سعودی عرب کا دورہ کیا تھا۔ جب شاہ عبداللہ وینٹی لیٹر پر تھے۔

بادشاہ سلمان کو جن نئے چیلنجوں کا سامنا ہوگا۔ اس میں سیکورٹی بہت اہم ہے۔ ان کی اولین ترجیح ملک میں سیکورٹی کی صورتحال کو مزید بہتر بنانا ہوگی۔داعش کے خطرے سے سعودی عرب کو محفوظ کرنے کے لئے اقدامات کرنا ہوں گے۔ جس کا وہ اپنی پہلی پریس کانفرنس میں بھی تذکرہ کرچکے ہیں۔ شدت پسندوں کو سعودی عرب کے اندر حملوں سے باز رکھنے کی پالیسی کے تحت اسلامی رہنماؤں اور پڑھانے والے افراد کی حوصلہ افزائی کرنا ہوگی۔ عراق کے حوالے سے بھی شاہ سلمان کی پالیسی میں تبدیلی آنے کا کوئی خاص امکان موجود نہیں ہے۔ کیونکہ اس وقت وزیر دفاع انہی کے صاحبزادے ہیں اور وزیر داخلہ شہزادہ نائف کے فرزند ہیں۔ اس لئے سعودی عرب میں شاہ سلمان کا دور ایک اچھے دور کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔

شاہ سلمان اپنے پیشرو عبداللہ کی طرح وہاں زمینی فوج نہ بھیجنے کے فیصلے پر قائم رہیں گے کیونکہ سعودی رہنماؤں کی رائے کے مطابق ملکی فوج کا کام سرحدوں کی حفاظت کرنا ہے۔یمن کے حوالے سے بھی سابق پالیسی جاری رہے گی مگر یمن میں القاعدہ کا بڑھتا ہوا اثر مشرق وسطیٰ کے لئے خطرہ ہوسکتا ہے۔ سعودی عرب خطے میں امن کی کوششوں کو جاری رکھنے کے لئے اقدامات کی کوشش کرے گا۔ لیکن بادشاہ سلمان خطے کے تنازعات میں مداخلت کرنے پر کم مائل ہوں گے اور خطے کے دوسرے ممالک میں دخل اندازی کو ترجیح نہیں دیں گے۔

شاہ سلمان کا دور اصلاحات کے دور کے طور پر بھی دیکھا جارہا ہے ۔بادشاہ کے اندرونی طور پر درپیش مسائل میں سے ایک حقوق انسانی ہیں اور توقع ہے کہ ان کے بارے میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی ۔اس بات کا کم ہی امکان ہے کہ وہ اپنے پیشرو عبداللہ کے اقدامات کو واپس لیں گے۔اس کے علاوہ سلطنت کی تیل کے بارے میں پالیسی پر بھی کوئی خاص تبدیلی نہیں آئے گی۔سعودی عرب تیل کی پیداوار میں کٹوتی نہ کرنے کی پالیسی کو جاری رکھے گا ۔پیٹرولیم کی وزارت پر علی نائمی کو برقرار رکھنےسے یہ تاثر ملتا ہے کہ موجودہ پالیسی ہی اس وقت تک جاری رہے گی جب تک سعودی عرب اور تیل پیدا کرنے والے دیگر ممالک کم قیمتوں کو برداشت کر سکتے ہیں جس میں امریکہ میں شیل پیٹرول کی صنعت کے لئے مشکل حالات پیدا کرنے ہیں کیونکہ اس کی وجہ سے اوپیک کی مارکیٹ متاثر ہو رہی ہے۔لیکن یہ طے ہے کہ شاہ سلمان کی مشرق وسطیٰ کے حوالے سے پالیسی میں اہم تبدیلیاں رو نما ہوسکتی ہیں۔

حذیفہ رحمان
بہ شکریہ روزنامہ جنگ

No comments:

Powered by Blogger.