Header Ads

Breaking News
recent

انٹرنیٹ پر وقت ضائع کرنے کے 7 بہترین طریقے.....


انٹرنیٹ کے لیے ہمارا جنون اب یونیورسٹیوں کا بھی حصہ بن چکا ہے اور پانچ جنوری سے امریکا کی پینسلوانیا یونیورسٹی میں دنیائے ویب پر وقت ضائع کرنے کی تعلیم کا سلسلہ شروع ہورہا ہے۔

اور یہ کوئی حیرت کی بات نہیں کہ انٹرنیٹ پر وقت کا ضیاع اپنے عروج پر ہے اور دنیا بھر میں ایک تہائی صارفین روزانہ کم از کم دو گھنٹے ضائع کرنا زیادہ پسند کرتے ہیں خاص طور پر سوشل میڈیا سائٹس تو اس حوالے سے بدنام یا نیک نام ہیں۔

تو اگر اس طرح وقت ضائع کرنا اعلیٰ تعلیم یافتہ بنانے کا باعث بن سکتا ہے تو ہم نے آپ کے لیے انٹرنیٹ کی دنیا پر وقت ضائع کرنے والے سب سے بہترین طریقے ڈھونڈ نکالیں ہیں جن کو اپنانے کی صورت میں آپ کبھی بھی کمیونیکشن کے ذریعے کو پیداواری مقصد کے لیے استعمال نہیں کرسکیں گے۔

گوگل پر گیمز کھیلنا

جی ہاں آپ چاہے تو اس سرچ انجن کے پیج کو بند کیے بغیر اپنی زندگی کے متعدد گھنٹوں کو ضائع کرسکتے ہیں۔
گوگل کے سرچ بار پر کچھ خاص الفاظ اگر ٹائپ کیے جائیں تو وہ آپ کو ایسے مختلف پرمزاح چیزیں سامنے آتی ہیں کہ صارف ان میں کھو کر رہ جاتا ہے، مثال کے طور پر سرچ بار پر “do a barrel roll” ٹائپ کرکے انٹر کریں اور پھر دیکھیں کیسے آپ کی اسکرین 360 ڈگری پر گھومتی ہے یا اسکرین کو کچھ ٹیڑھا کرنا ہو تو "tilt" لکھ کر دیکھیں اور ایسے الفاظ کی کوئی کمی نہیں۔

فیس بک پوسٹس کو لائکس کرنا

یہ وہ سرگرمی ہے جو دوبدو بات چیت کا متبادل بن چکی ہے۔ کوئی بھی پیغام ہو فیس بک کا اوپر اٹھا انگوٹھا موجودہ عہد میں دوستی کا نشان بن چکا ہے۔
تو پھر کوئی کیوں فون اٹھانے کی زحمت کرکے کسی سے بات چیت کرنے کی مشقت اٹھائے جب آپ اپنا مدعا کسی دوست کی پروفائل تصویر کو لائک کرکے ہی بیان کرسکتے ہیں؟
اب چاہے آپ کسی شخص کو پسند نہ بھی کرتے ہو مگر آپ اس کی فیس بک پروفائل کی گہرائی میں جائیں گے تو ہوسکتا ہے کہ وہ آپ کا پسندیدہ ترین شخص بن جائیں (مگر اس کی ضمانت نہیں دی جاسکتی)۔

سوشل میڈیا پر بے مقصد گھومنا

رات گئے اس سے زیادہ وقت ضائع کرنے والی سرگرمی کوئی نہیں ہوسکتی کہ آپ ٹوئیٹر، فیس بک، انسٹا گرام یا ایسی ہی ویب سائٹس پر چلے جائیں اور دیکھیں آپ کے دوست یا فالورز کیا کچھ کررہے ہیں۔
وہاں آپ کو ایسی چیزیں معلوم ہوگی جو آپ جاتنے بھی نہیں ہوگے یا جاننا چاہتے ہوگے۔
اب وہ معروف شخصیات کے درمیان چل رہی زبانی جنگ ہو، پیارے پیارے جانوروں کی لاتعداد تصاویر یا اپنے دوستوں کی مضحکہ خیز سیلیفز سب کچھ ملے گا۔
مگر مسئلہ بس یہ ہے کہ ایک بار جب آپ اس کام میں لگ جائیں گے تو اس بے مقصد مٹرگشت کا کوئی بامقصد اختتام کبھی نہیں ہوگا۔

گوگل ارتھ اور اسٹریٹ ویو

اگر آپ اپنے دوستوں کے گھروں کو برڈ آئی ویو سے دیکھیں تو وہ کبھی پرانا نہیں ہوگا۔ حال ہی میں اسٹریٹ ویو میں چوروں کو پکڑنے کا فیچر بھی شامل کرلیا ہے اور دنیا بھر میں لوگ ہزاروں میل دور بھی ایسا بہت کچھ دیکھ سکتے ہیں جو وہ اپنے پڑوس کے گھر میں نہیں دیکھ سکتے۔

یوٹیوب پر جانوروں کی ویڈیوز دیکھنا

مکڑی بن کر دہشت پھیلانے والے کتے سے لے کر نیویارک میں بلیوں لی کڑائیوں تک یوٹیوب پر لاتعداد بے مقصد وڈیوز مفت دستیاب ہیں۔
اور ان میں جو چیز مشترک ہے وہ یہ کہ ان میں اسٹار کردار بلیوں کا ہوتا ہے جو چیزوں پر اچھل رہی ہوتی ہیں، کہیں گر رہی ہوتی ہیں، ناراض نظر آتی ہیں اور بھی بہت کچھ۔
اگر آپ ان میں مگن ہوجائے تو پتا بھی نہیں چلے گا کہ کب دوپہر گزر گئی اور رات سر پر آکھڑی ہوئی اور آخر میں یہ بھی جان لیں ان میں سے بیشتر مقبول ترین وڈیوز درحقیقت وڈیوز ہوتی ہی نہیں بلکہ وہ بہت اچھی شکل میں کی جی آئی ایف تصاویر ہوتی ہیں۔

وقت ضائع کرنے والی گیمز

فیس بک سے لے کر ہر جگہ آپ کے سامنے گیمز کی بھرمار ہوگی جو مفت کھیلنے کی پیشکش کررہی ہوگی۔
اور اگر آپ نے کسی بھی ایک میں جانے کی ہمت پکڑ لی تو پھر ایسا چسکا لگے گا کہ دنیا کے تمام کام ایک طرف رہ جائیں گے اور آپ کھیلتے چلے جائیں گے۔
بلکہ اب تو ایک ویب سائٹ خاص طور پر ایسے گیمز تیار کررہی ہیں جو ظاہری طور پر ایکسل یا ورڈ دستاویزات کا دھوکہ دیتی ہیں اور ان کو کھیلتے ہوئے لوگوں کو ایسا ہی لگتا ہے کہ آپ پوری محنت سے کام کررہے ہیں۔

بے مقصد مضامین پڑھنا

اور اب یہاں تک اگر آپ پہنچ گئے ہیں تو آپ کو اس جملے کی اہمیت کا احساس واقعی ہوگیا ہوگا۔

فیصل ظفر

No comments:

Powered by Blogger.