Header Ads

Breaking News
recent

سانحہ پشاور کا سبق......

پشاور پھولوں کا شہر ہے جس میں مستقبل کے معماروں اور چمن کے پھولوں کو خون میں نہلایا گیا ہے اور درس گاہ کو مقتل گاہ بنایا گیا ہے۔ یہ سانحہ بلاشبہ قومی سانحہ ہے۔ شاداں و فرحاں اسکول جانے والوں کوکب معلوم تھا کہ وہ سفاکی کا شکار ہوجائیں گے! یہ حملہ تعلیمی ادارے کے ساتھ ریاستِ پاکستان کے وجود پر بھی تھا۔ حملہ اس وقت کیا گیا جب اسکول میں دو جماعتوںکے بچوں کے اعزاز میں ایک تقریب ہورہی تھی۔ دہشت گردوں نے اسکول میںداخل ہوکر اندھا دھند فائرنگ کی جس کے نتیجے میں قیامت ِ صغری برپا ہوگئی۔

 جیسے ہی یہ سانحہ رونما ہوا پورا ملک سوگ میں ڈوب گیا۔ اس واقعے میں ایک سو بتیس بچے شہید ہوئے۔ ترکی کے صدر رجب طیب ایردوان نے پشاور میں اسکول پر دہشت گرد حملے کے نتیجے میں 132بچوں کی ہلاکت پر پاکستان سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے ترکی میں ایک دن کے سوگ کا اعلان کیا۔ انہوں نے وزیراعظم نوازشریف سے ٹیلی فون پر گفتگو کی اور اس مشکل کی گھڑی میں پاکستان سے اظہارِ ہمدردی بھی کیا۔ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے پاکستانی وزیراعظم نوازشریف کو فون کرکے سانحہ پشاور پر گہرے دکھ اور رنج کا اظہار کیا ہے۔ دہشت گردی کے اس واقعے پر بہت دکھ ہوا ہے اور اس غم کی گھڑی میں پاکستانی عوام کے ساتھ کھڑے ہیں۔

 نریندر مودی کا کہنا تھا کہ میرا دل بے گناہوں کی موت پر انتہائی غمزدہ ہے اور اگر اس صورت حال میں پاکستانی عوام کے لیے کچھ کرسکوں تو میرے لیے اطمینان کا باعث ہوگا۔ بھارتی وزیراعظم نے میاں نوازشریف کو یہ بھی بتایا کہ انہوں نے سانحہ پشاور کے سوگ میں ملک بھر کے اسکولوں سے اپیل کی ہے کہ جاں بحق ہونے والوں کی یاد میں2 منٹ کی خاموشی اختیار کی جائے اور ان کے لواحقین سے اظہار یکجہتی کیا جائے۔

اس اسکول میں آپریشن کرنے والی فورس میں چند اہل کار ایسے بھی تھے جن کی والدہ، بہن، بھابھی اور بچے اس وقت اسکول کے اندر محصور تھے۔ ریسکیو آپریشن میں شامل ایک اہل کار کی والدہ اسی اسکول کی ڈائریکٹر تھیں‘ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل عاصم سلیم باجوہ نے کہا ہے کہ آرمی پبلک اسکول میں دہشت گردوں کے خلاف جاری آپریشن مکمل کر لیا گیا۔آپریشن مکمل ہونے کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے میجر جنرل عاصم باجوہ کا کہنا تھا کہ 7 دہشت گرداسکول کے عقب میں سیڑھی لگا کر داخل ہوئے اور بچوں کو نشانہ بنایا۔اس سانحے میں 132 بچے اور 9اسٹاف ممبرز جاں بحق ہوئے۔

جبکہ 121 بچے جن میں 3اسٹاف ممبرز بھی شامل تھے زخمی ہوئے ہیں۔ آرمی پبلک اسکول پر حملے کے بعد فورسز نے آپریشن کر کے اسکول کو کلیئر کروا لیا ہے، اسکول کی پرنسپل طاہرہ قاضی بھی شہید ہوئی ہیں وہ اس وقت اپنے دفتر میں محفوظ بیٹھی ہوئی تھیں مگر فائرنگ کی آواز سن کر باہر نکلیں اور آڈیٹوریم کی جانب بھاگیں اور بچوں کو محفوظ کرنے کی کوشش میں شہید ہوئیں۔ حملہ آور ایف سی کی وردیوں میں ملبوس تھے، 8 میں سے 6 دہشتگرد ہلاک ہوئے۔ آرمی پبلک اسکول میں 1099بچے زیر تعلیم ہیں جبکہ اسکول میں 4بلاک موجود ہیں۔

اسکول کے ایڈمنسٹریٹو بلاک میں بچے کسی تقریب یا امتحان کی وجہ سے جمع تھے جہاں دہشت گردوں نے بچوں کو نشانہ بنانا شروع کردیا،کوئیک رسپانس فورس 10 سے 15 منٹ میں پہنچیں اور دہشت گردوں کے خلاف آپریشن شروع کردیا گیا۔ فورسز نے یرغمالیوں کو زندہ اور سلامت بچانے کی کوشش کی جبکہ نقصان کو کم سے کم رکھتے ہوئے آپریشن کیا گیا۔ اور 960 بچے بحفاظت نکال کر لیے گئے ہیں۔ عاصم باجوہ نے بتایا کہ ایک دہشت گرد آڈیٹوریم میں مارا گیا جبکہ 6 دہشت گرد ایڈمنسٹریٹو بلاک میں مارے گئے۔

 اس آپریشن میں ایس ایس جی کے 7 جوان اور2 افسر زخمی ہوئے ہیں جبکہ دہشت گرد اپنے ساتھ اسلحہ اور کھانے کا سامان وافر مقدار میں ساتھ لائے تھے اور وہ فون پر مقامی جگہ پر اور کابل میں کالیں کر رہے تھے۔ ان کی کالیں اب ٹریس ہوچکی ہیں اور پتا لگایا جاچکا ہے کہ دہشت گرد کون تھے اور کہاں سے آئے۔ جب آپریشن شروع کیا گیا تو جان بچانے کے لیے انہوں نے بچوں کو مارنا شروع کر دیا گیا۔ قومی سانحہ پر وزیر اعظم نے قومی سیاسی جماعتوں کے رہنمائوں کی ایک کانفرنس بلائی جس میں فیصلہ ہوا دہشت گردی کے خلاف سختی سے نمٹا جائے گا ایسے جملے پہلے بھی سننے کو ملتے ہیں لیکن اس بار شاید کوئی فیصلہ ہوا ہے یہ فیصلہ کیا ہے اس بارے میں اس وقت بات ہوگی جب اس پر عمل ہوگا اور اس کے نتائج سامنے آئیں گے۔

 وزارت داخلہ نے سزائے موت پانے والے دہشت گردوں کی فہرستیں مرتب کرنا شروع کر دیں اہم فیصلہ یہ ہے کہ سزائے موت پر عمل درآمد اب شروع ہوگا وزارت داخلہ کی جانب سے صوبائی حکومتوں سے سزائے موت پانیوالے دہشت گردوں کی تازہ فہرستیں طلب کی گئی ہیں ملک کی 88 جیلوں میں 8 ہزار 256 سزائے موت کے قیدی موجود ہیں پنجاب میں کالعدم ٹی ٹی پی کے 250 دہشت گرد جیلوں میں بند ہیں پنجاب میں قید ٹی ٹی پی کے دہشت گردوں میں 105 خود کش بمبار شامل ہیں کالعدم ٹی ٹی پی کی اپنے ساتھی چھڑانے کے لیے 3 سال میں 267 دھمکیاں موصول ہوئی ہیں۔ 

کوٹ لکھپت جیل لاہور، اڈیالہ جیل راولپنڈی میں طالبان قیدیوں کی سیکورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے۔ ڈی جی خاں، ملتان سنٹرل جیل اور فیصل آباد سنٹرل جیل میں بھی سیکورٹی سخت کر دی گئی ہے سزائے موت کے منتظر 450 قیدیوں کی اپیلیں تمام جگہوں سے مسترد ہوئی ہیں۔ رواں سال سنگین جرائم کے 364 ملزمان کو سزائے موت کی سزا سنائی گئی اس فیصلے کے ساتھ دوسری اہم پیش رفت یہ ہوئی کہ سانحہ پشاور سے متعلق تحقیقات کا دائرہ وسیع کردیاگیاہے اور ابتدائی تحقیقات میں انکشاف ہواکہ تین گروپوں نے مل کر حملہ کیا جبکہ اس کا منصوبہ افغانستان میں بنایاگیا‘ ازبک اسلامی موومنٹ انٹرنیشنل، طالبان کے ولی گروپ اور بھارتی خفیہ ایجنسی راکے مقامی ایجنٹوں نے مل کر منصوبے پر عمل درآمد کرایا ہے اور مقامی لوگوں نے انہیں مقامی سہولت کار کے طورپر خدمات ملی ہیں‘ سانحہ پشاور کے بعد چیف آف آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف نے افغانستان کی عسکری قیادت سے باضابطہ طورپر کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے امیر ملافضل اللہ سمیت دیگر اہم شدت پسندوں کی حوالگی کا مطالبہ کردیا‘ آرمی چیف نے اعلیٰ افغان عسکری قیادت سے ملاقات کی اورپشاور دہشت گردی کے شواہد سے آگاہ کیا ہے اور شدت پسندوں کی حوالگی کا مطالبہ کیا ہے پاکستان کی قیادت کی طرف سے باضابطہ مطالبے اور سانحہ پشاور کے بعد ضرب عضب کی وجہ سے افغانستان میں چھپے شدت پسندوں کے خلاف بھرپور کارروائی کا امکان ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق دہشتگردوں کامنصوبہ لمبا تھا جن کے قبضے سے کھانے پینے کی اشیابھی برآمد ہوئی ہیں مارے جانیوالے افراد حملے کے دوران انگریزی اور عربی میں بات چیت کر رہے تھے۔ 

اس بدترین واقعہ کے بعد ملک کی اعلی سیاسی اور عسکری قیادت نے انگڑائی لی ہے اہم فیصلہ یہ ہوا ہے کہ چیف آف آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف کی تجویز سے اتفاق کرلیا گیا ہے اور وزیراعظم نواز شریف نے سزائے موت کے قیدیوں کی سزا پر عمل درآمد کا مشورہ مان لیا ہے آرمی چیف نے دہشتگردی پر قابوپانے کے لیے مزید تجاویز بھی دی ہیںآرمی چیف کے خیال میں سہولت کار بھی دہشتگرد ہیں دہشت گردی کا یہ واقعہ کوئی نیا نہیں،ایسا ظلم پہلے بھی ہوتا رہا ہے ‘کامرہ چھائونی میں پاک فضائیہ کی سکول بس میں معصوم بچوں پر خود کش حملہ ہوا تھا۔ اسلامک انٹر نیشنل یونی ورسٹی پر افسوس ناک حملہ ہوا تھا جس میں چند معصوم طالبات چل بسیں تھیں۔ اسی طرح راولپنڈی پریڈ لین کی مسجد میں ناقابلِ فراموش سانحہ ہوا تھا جس میں میجر جنرل بلال عمر کے ہمراہ 6 آرمی آفیسران سمیت کچھ بچے بھی شہیدہوئے تھے۔

پاکستان نے دہشت گردی کی جنگ میںسب سے زیادہ نقصان اٹھایا ہے،یہ نقصان جانی بھی ہے اور مالی بھی۔جوملک پچاس ہزار سے زائد قیمتی جانوںکا نذرانہ دے چکا ہو اس کی سماجی زندگی میںدکھ اور المیے کی کیفیت کوسمجھا جاسکتا ہے جب کوئی فرد دہشت گردی کا شکار بنتا ہے تو وہ تنہا فرد نہیںہوتا بلکہ ایک خاندان ہوتا ہے اس طرح ایک فرد کی موت ایک فرد کی موت نہیں رہتی۔ دہشت گردی کے ہاتھوں موت کی وادی میں اترنے والوں کے لواحقین کی زندگیاں ہمیشہ کے لیے اس سانحے کے اثرات کی لپیٹ میںرہتی ہیں۔

پاکستانی قوم کو اس طرح کے واقعات یقینا بڑے المیے سے دوچار کر جاتے ہیں دہشت گردی کے خلاف اس وقت پاکستان کی بہادر فوج ضربِ عضب آپریشن میں مصروف ہے۔ پندرہ جون کوشروع ہونے والا یہ آپریشن جاری ہے۔اس آپریشن کو اس وقت 6 ماہ ہوچکے ہیں، ان 6 مہینوں میں 1800 دہشت گردمارے گئے اور پانچ سو پچاس سے زائد گرفتار ہوئے ہیں۔اس معرکے میںایک سو اسی کے قریب فوجی جوان شہید ہوئے۔شمالی وزیرستان کے 90 فیصد علاقے کو دہشت گردوں کے وجود سے پاک کیا جا چکا ہے۔اس آپریشن میں اب تک دہشت گردوں کے متعدد ٹھکانے اور بارودی سرنگیں تبا ہ کی گئی ہیں فوج کے آپریشن سے امریکہ کو مطلوب القاعدہ کمانڈر بھی مارا گیا تھا،عدنان الشکری الجمہ کے بارے میںمعلومات یہ تھیںکہ وہ نائین الیون کے واقعے کے منصوبہ سازوں میں شامل تھا۔آئی ایس پی آر کے مطابق پاک آرمی کے انٹیلی جنس آپریشن میں عدنان الشکری مارا گیا تھا۔ 

دہشت گردوں کو اس بات کا پورا احساس ہو چکا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے مابین دہشت گردی کے حوالے سے حکمتِ عملی نئے انداز سے ترتیب پارہی ہے۔جب وزیراعظم نواز شریف اب قومی سلامتی کے ایشوز پر اپنی نرم پالیسی بدل چکے ہیں اور اب افغانستان کو بڑا ہی واضح پیغام دیا گیا ہے کہ وہ ہمارے ساتھ ہے یا افغانستان میں چھپے ہوئے دہشت گردوں کے ساتھ ہے ؟ اشرف غنی سے اس سول کا جواب لے کر آرمی چیف واپس آنے کا فیصلہ کرکے گئے تھے۔ ہم جو کچھ بھی کریں اور کہیں امن کے لیے ہمارے لیے سبق یہ ہے کہ امریکہ کو خدا حافظ کہہ دیا جائے ۔

میاں منیر احمد

No comments:

Powered by Blogger.