Header Ads

Breaking News
recent

اب فلسطینی ریاست کا تسلیم کیا جانا لازم ہے....

فلسطین پر اسرائیلی قبضے کے خلاف عالمی سطح پر رائے عامہ میں مسلسل پھیلاو کا رجحان ہے۔ فرانس اور سپین کی پارلیمان اس حوالے سے اب تک آواز بلند کرنے والے آخری معتبر فورم ہیں، جنہوں نے اپنی حکومتوں سے سے مطالبہ کیا ہے کہ آزاد فلسطینی ریاست کو تسلیم کیا جائے۔ ڈنمارک کے ارکان پارلیمان اس امر پر زور دے رہے ہیں کہ مشرق وسطیٰ کا تنازعہ طے کرنے کے لیے دوریاستی حل تسلیم کیا جائے۔ برطانیہ ، فرانس اور سپین کی پارلیمانوں میں فلسطینی ریاست کے حق میں ووٹ سامنے آچکا ہے۔ یہ رجحان آخر کار سفارتی سطح پر غیر معمولی حد تک پالیسیوں میں تبدیلی کا پیش خیمہ بنے گا۔

حال ہی میں یورپی یونین کی خارجہ امور کی اٹلی سے تعلق رکھنے والی سربراہ کیتھرائن آشٹن نے پیش گوئی کی ہے کہ ان کی سربراہی کی پانچ سالہ مدت کے دوران ہی فلسطینی ریاست وجود میں آجائے گی۔ اس سے قبل یورپی یونین نے اسرائیل حوالے سے سخت پالیسیاں متعارف کرائی ہیں۔ ان میں اس وجہ سے اسرائیلی مصنوعات کا بائیکاٹ بھی شامل ہے، کہ اسرائیل مغربی کنارے میں یہودی بستیاں تعمیر کرنے سے باز نہیں آرہا ہے۔ اس تناظر میں عالمی سطح پر اسرائیل کو تنہا کرنے اور فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا ایک حقیقی ماحول ہے۔

ماہ اکتوبر میں اسرائیل نے سویڈن سے اپنے سفیر کو اس لیے واپس بلا لیا کہ سویڈن نے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا اعلان کیا تھا۔ اسرائیل نے ہر اس ملک کے بارے میں جارحانہ انداز جاری رکھا ہوا ہے جس نے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے اور فلسطینیوں کو ان کے حقوق دینے کی بات کی ہے۔ اسرائیل نے آئرلینڈ کےارکان پارلیمنٹ کی طرف سے اس حوالے ووٹ سامنے آنے پر بھی تنقید کی ہے۔ اسرائیلی وزارت خارجہ نے اپنی عادت کے مطابق آئر لینڈ کو یہود مخالف بھی قرار دے دیا ہے۔ اس نے اپنا وہی یہود مخالفت کا واویلا کرنے کا استحصالی کارڈ استعمال کیا ہے جو وہ ایک عرصے سے استعمال کر رہا ہے۔ لیکن واقعہ یہ ہے کہ اب اسرائیل کی طرف سے ایسا کہنا ایک مذاق محسوس ہوتا ہے ، اس بنیاد پر اب اسرائیل مزید ہمدردیاں حاصل نہیں کر پائے گا۔ بامعنی امن مذاکرات کی ناکامی اور دو ریاستی کوششوں کی ناکامی کے بعد پی ایل او نے بین الاقوامی سطح پر ایک یہودی ریاست کے طور پر اسرائیل کو تنہا کرنے کے لیے ایک مہم شروع کر رکھی ہے۔

پارلیمانی حوالے سے فلسطینی ریاست کے حق میں آنے والے تازہ ترین ووٹ کے بعد فلسطین کے ایک سینئیر حکومتی ذمہ دار کو شہید کر دیا گیا ہے۔ یہ واقعہ اقوام متحدہ کی یہودی بستیوں کے بارے میں قرار دادوں کے خلاف کلی طور پر توہین آمیزی پر مبنی ہے۔ غزہ میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور دو ہزار سے زائد فلسطینیوں کی شہادت کے بعد اسرائیل اور اقوام متحدہ کے رکن ممالک کے درمیان تناو اسرائیلی ہٹ دھرمی کی عکاس ہے۔

اقوم متحدہ کی جنرل اسمبلی میں 135 ارکان کی اکثریت فلسطین اور اسرائیل کے تناظر میں دوریاستی حل کی حمایت کر چکی ہے۔ جبکہ برازیل، ارجنٹینا، میکسیکو سمیت لاطینی امریکا کے زیادہ تر ممالک کی طرف سے بطور خاص فلسطینی ریاست کے حق میں ووٹ آچکے ہیں۔ تاہم امریکی ووٹ نے سلامتی کونسل کو ہمیشہ سے اس معاملے میں بلاک کر رکھا ہے کہ کوئی اس مسئلے کا بامعنی حل نہ نکل آئے۔ امریکا نے ایسی ہر تنظیم کی فنڈنگ روکنے کی بھی دھمکی دے رکھی ہے جو فلسطین کو تسلیم کرنے کی بات کرتی ہو یا فلسطینی کاز کی حمایت کرتی ہو۔ دیر سے ہی سہی ہم سرنگ کے کے کنارے پر بین الاقوامی حمایت کی صورت میں فلسطینی ریاست کے لیے روشنی صاف طور پر دیکھ رہے ہیں۔ یورپ اور برطانیہ میں یہ احساسات ابھر رہے ہیں کہ اسرائیل فلسطینی ریاست کا مطالبہ ماننے کے لیے سنجیدہ نہیں ہے۔

اسرائیل نے فلسطینیوں کو قید کرنے کے لیے دیوار کھڑی کر دی ہے۔ چھ لاکھ افراد کے لیے بستیوں کی تعمیر، غیر انسانی چیک پوانٹس بنا کر فلسطینیوں کو توہین اور مصائب کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ اسرائیل کی وجہ سے سب سے زیادہ مصیبت کا شکار فلسطینی خواتین اور بچے ہیں۔ یہ اسرائیل ہی ہے جس کی انسانی حقوق اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزیوں کا دنیا بھر میں چرچا ہے۔

عرب لیگ اور او آئی سی آزاد فلسطینی ریاست کے حوالے سے اپنے موقف کے بارے میں سخت ہیں۔ نومبر 1989 میں عرب لیگ نے پی ایل او کو فلسطینی ریاست کی حکومت کے طور پر تسلیم کرنے کی قرار داد منظور کی تھی۔ تاہم امریکا نے ہمیشہ کی طرح اقوام متحدہ کو دھمکی دے دی کہ اگر اس نے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کی قرار داد منظور کی تواس کے فنڈز بند کر دیے جائیں گے۔ امریکا نے اقوام متحدہ کو دھمکیاں دینے کے علاوہ یہ کہا کہ عرب لیگ کو اختیار نہیں کہ فلسطین کے حق میں کسی بامعنی قرارداد کے لیے اثر انداز ہو۔ اس کے علی الرغم بہت سے افریقی ، ایشیائی اور مشرقی یورپی ملکوں نے فلسطینی ریاست کو 1988 سے ہی تسلیم کر لیا۔ لیکن جو ممالک اس حوالے سے ہچکچاہٹ میں ہیں انہوں نے بھی کبھی یہ نہیں کہا کہ وہ اسرائیلی قبضے کی حمایت کرتے ہیں۔

آج ہر طرف اسرائیلی قبضے کے خلاف آوازیں ہیں۔ اقوام متحدہ کے 193 رکن ممالک میں سے 135 ارکان نے 30 اکتوبر 2014 کو تسلیم کر لیا ہے۔ جو ملک فلسطین کو تسلیم نہیں کرتے وہ اس کے باوجود پی ایل او کو فلسطینیوں کی نمائندہ سمجھتے ہیں۔ دوسری جانب اسرائیل ہے جو امریکی یہودیوں کی تنظیموں کی ملی بھگت سے فلسطینیوں کی زمین چوری کر تا ہے، فلسطینیوں کے کھیتوں کو زہریلے مادوں سے آلودہ کرتا ہے اور فلسطینیوں کو شہید کرنے کے لیے امریکی گولیوں کا سہارا لیتا ہے۔ کئی برسوں سے اسرائیل فلسطینی سرزمین کی ڈیموگرافی کے اعتبار سے تبدیل کرنے میں مصروف ہے۔ وہ فلطینیوں کو ان کے مذہبی حقوق سے دیدہ دلیری کے ساتھ محروم کر رہا ہے۔ مسجد اقصیٰ میں نماز کی ادائیگی میں رکاوٹ پیدا کیے ہوئے ہے۔ ان حالات میں 1967 سے فلسطین سے بے دخل کیے گئے فلسطینیوں کو ان کا حق واپسی ملنا چاہیے۔

لیکن سوال یہ ہے کہ یورپ اورپوری دنیا کو کیا کرنا چاہیے ، کیا اقوام متحدہ کی قرار داد نمبر 242 اور 338 کی عملداری دیکھنی چاہیے۔ اسرائیل کو شاہ عبدللہ کی طرف سے 2002 میں پیش کیے گئے امن منصوبے کا جائزہ لینا چاہیے۔ حقیقت یہ ہے کہ اسرائیل خطے ہی نہیں پوری دنیا کے امن کے لیے خطرہ ہے۔ فلسطینیوں کے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں نے دنیا بھر میں بہت سے نوجوانوں کو رد عمل کا شکار کر دیا ہے۔ اس لیے وقت ہے کہ ان مظالم کو بند کیا جائے اور امن کو موقع دیا جائے۔

سمر فتانی

No comments:

Powered by Blogger.