Header Ads

Breaking News
recent

عالم باعمل ... مو لا نا مفتی محمود.....


مفکر اسلام مولانا مفتی محمود کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ علمی حلقے ہوں یا سیاست کی پرخاروادیاں ،درس و تدریس کا میدان ہو یا انتظامی و ملی امور، اتحاد امت کا سٹیج ہو یا ختم نبوت کا گراں قدر محاذ آپ کا نام روز روشن کی طرح عیاں ہے اور تا ابد رہیگا ۔ مفتی محمودصاحب ایک ہمہ جہت شخصیت کے مالک تھے اور ایسی شخصیت تھے، جو اپنی ذات میں کی انجمنوں اور تحاریک کو سموے ہوے تھی۔ آپ واقعی اسم بامسمیٰ تھے۔ مفتی صاحب بیک وقت ایک محقق عالم دین ،بہترین استاد ، مدبر سیاستدان، بیدار مغزعالم مفتی، حق گوخطیب اور شب زندہ دارعارف باللہ تھے اور یہ القاب صرف فصاحت و بلاغت کی نظیر نہیں بلکہ حقیقت ہیں۔ 

علم کا یہ عالم تھا کہ بخاری شریف کی مشکل مباحث کو منٹوں میں حل کرنا آپ کا خاصہ تھا،فخرالسادات ،مجاہد ختم نبوت مولانامحمد انورشاہ کشمیری ؒکے مایہ ناز شاگرد حضرت مولانا محمد یوسف بنوری فرماتے ہیں کہ ایک بار مفتی صاحب جامعہ بنوری ٹاؤن تشریف لائے، اتفاقاً درس بخاری کا پیریڈ تھا ،میں نے حضرت مفتی صاحب سے درخواست کی کہ آج آپ نے بخاری شریف کا درس دینا ہے ۔ مفتی صاحب نے بخاری شریف جا کر کھولی اور یوں حدیث شریف کی تشریح کی اور علمی تقریر فرمائی کہ میں حیران رہ گیا۔ ایسا محسوس ہوتا تھا ،جیسے وقت کے ابن حجر عسقلانی تشریف فرما ہیں اور ایسی باتیں مجھے سننے کو ملیں کہ جو اس سے پہلے کبھی نہ سنیں جبکہ یہ بخاری شریف کا ایک مشکل مقام تھااور دلچسپ بات یہ کہ آپ ایک جلسے سے فارغ ہوکر تشریف لائے تھے۔ 

تیاری کا موقع بھی نہ مل سکا۔ بس اس واقعہ نے مفتی صاحب کا علمی مقام جو کہ میری نگاہ میں پہلے کا بلند تھااور بلند کر دیا جوں حضرت مفتی صاحب کی تقریر بخاری میںاضافہ ہوتا جاتا ساتھ ہی مفتی صاحب کا قد کاٹھ بھی علمی میدان میں بلند ہوتاجاتا،درس و تدریس کا یہ عالم تھاکہ بیک وقت موضوع کے متعلق تفسیر و حدیث ،فقہ و لطائف ومعانی،فصاحت و بلاغت ،فلسفہ و کلام سے مثالیں دے کر دلائل کے انبار لگا دیتے۔ مولانا منظور احمد فرماتے ہیں کہ حضرت مفتی صاحب کو ویسے تو تمام علوم پر عبور تھا،مگر حدیث اور فقہ پر بھی گہری نظر تھی ۔

قاسم العلوم ملتان میں انہوں نے تقریبا 25 برس تک بخاری و ترمذی شریف کا درس دیا۔دوران درس پیجیدہ اور مشکل ترین مباحث کو آسان انداز میں پیش فرماتے تھے۔ مدبر سیاستدان ہونے کی یہ حیثیت تھی کہ ملک پاکستان جو خالصتا لا الہ الااللہ محمدرسول اللہ کی بنیاد پر معرض وجود میں آیا، تو سیکولر ذہنیت کے حاملین نے شروع سے ہی آئین میں اپنا ایجنڈا نافذ کرنے کی کوشش کی ،تو علامہ شبیر احمد عثمانی کے بعد جس شخصیت نے آئین ِ پاکستان کو اسلامی آئین کے قالب میں ڈھالنے کا کردارادا کیا، وہ شخصیت مفتی صاحبؒ کی ہی تھی۔ 1973ء کا آئین آپ کی ہی جہد و مساعی کا ثمر ہے جب کہ دیگر اہل علم حضرات آپ کے شانہ بشانہ رہے اوراس آئین نے اسلام کا لبادہ اوڑھ کر چور دروازے کے ذریعے آنے والوں کے سارے راستے بند کردیئے ہیںاور پھر نو ماہ سرحد کی وزارت اعلیٰ کے منصب پر فائز رہ کر دنیا کو دکھا دیا کہ ایک عالم دین تم سے بہتر نظام چلانا جانتا ہے اور درویشی کا یہ عالم ہے کہ وزیراعلیٰ ہونے کے باوجود دال اور ساگ کے ذریعے زندگی گزاری جا رہی ہے۔ حالانکہ چاہتے تو عمدہ قسم کے کھانوں سے دسترخواںسج سکتا تھا ،لیکن آپ کے سامنے عمرثانی حضرت عمر بن عبدالعزیز کا اسوہ تھا کہ ہزاروں مربع میل کے حکمران ہیں، لیکن عید کے دن اپنی بیوی اور بیٹی کے ساتھ کچے پیاز سے روٹی کھائی جارہی ہے۔ 

مفتی محمود صاحب نے بھی بیت المال کو اپنی ذاتی جاگیر نہ سمجھا بلکہ عوام کا حق سمجھ کر انہی پر لٹایا اور خود ایک پائی تک نہ لی اور فقط تنخواہ پر گزارہ کیا اور پھر وہ تنخواہ بھی آنے والے مہمانوں کی ضیافت پر صرف ہو جاتی اور جب وقت آیا ،تو وزرات کو بھی اصولوں کی خاطر لات ماردی اور بتادیا حقیقی بادشاہ اللہ کے غلام اور بندے دنیوی مناصب اور عہدوں کے محتاج نہیں ہوتے۔آپ بیدار مغز مفتی تھے۔ مسئلہ پر بیک وقت گرفت کرنا گویا آپ کی خاص پہچان تھی۔ مولانا مفتی محمد شفیع اور دیگر اہل علم حضرات سے فقہی مباحث پر ایسی مدلل و مفصل گفتگو ہوتی کہ بعض حضرات کوتو اپنے فتاویٰ سے رجوع کرنا بھی پڑ جاتاتھا،مناظرہ پر قدرت نے آپ کو ملکہ دیا ہوا تھا۔ عائلی قوانین کے سلسلے میں آپ کی گفتگو پاکستان کی تاریخ کا ایک لازوال حصہ ہے۔ 1947ء میں کذاب اکبر مرزا غلام احمد قادیانی کا وارث مرزا ناصر اسلامی لباس کا لبادہ اوڑھ کر اسمبلی میں آیا، تو اسمبلی کی اکثریت اس سے متاثر ہوگئی، لیکن جب مفتی محمود نے لگاتار گیارہ دن مرزا ناصر سے جرح کی ،تو اس جرح نے مرزا ناصر کو تارے دکھائے، وہیں ممبران اسمبلی کی آنکھیں کھول دیں اوروہ کہنے لگے کہ مفتی صاحب آپ کی وجہ سے ہمارا عقیدہ مضبوط ہوگیا،دیگر علماء کرام کے ساتھ مفتی صاحب کی ہی یہ مناظرانہ جدوجہد تھی کہ مرزائی غیر مسلم قرار پائے اور7 ستمبر1974ء پاکستان کی تاریخ میں وہ تاریخ ساز دن کہلایا جب سچے نبی ﷺ کی ختم نبوت کا پرچم قومی اسمبلی میں بھی لہرایا گیا اور حضور ﷺ کے بعد ہر شحض کو جو دعوی نبوت کرے یا اس جھوٹے مدعی نبوت کی تائید کرے اسکو کافر قرار دیا گیا۔ شب زندہ داری کا یہ عالم تھا کہ سیاست کی پر خارواری اور جاہ و منصب کا رنگ بڑوں بڑوں کو ڈگمگا دیتا ہے، لیکن وزیراعلیٰ کی زبان سبحان ربی الاعلیٰ کے ترانے سے ہمیشہ معطر رہی ،دن کو ممبران اسمبلی اور دیگر شخصیات کو نماز کی امامت کروائی تو رات کو تہجد کے وقت مصلے پر آنسو بہاکر اپنے رب کو راضی کیا،ایسے عظیم لوگ مائیں کم ہی جنم دیا کرتی ہیں۔ 

چنانچہ اس تقوی و للہیت اور دینی خدمات کا اللہ تعالی نے ثمر یہ دیا کہ علمی مرکز جامعہ بنوریہ میںمسئلہ دین پر گفتگو کرتے ہوئے اپنے پاس بلالیا، وہ شخصیت جن کی ساری زندگی قال اللہ وقال الرسول میںگزری آخری وقت بھی ان کی زبان پر اللہ تعالی اور اس کے رسولﷺ کا مبارک نام ہی تھا۔

حافظ حسین احمد

Mufti Mahmood - Father of Maulana Fazalur Rehman

No comments:

Powered by Blogger.