Header Ads

Breaking News
recent

مذاکرات..... بحران کا واحد حل......


پارلیمان کے دونوں ایوانوں کے مشترکہ اجلاس میں سیاسی جماعتوں کے قائدین نے جس تدبر، رواداری اور یقین کے ساتھ جمہوریت کے تحفظ کے لیے حکومت کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا ہے وہ سیاسی ڈیڈ لاک کے خاتمے اور بحران کے حل کے امکانات کی طرف ایک امید افزا اشارہ ہے، سیاست تو امکانات کا شفاف آرٹ ہے۔

سیاست میں رواداری ہوتی ہے مستقل دشمنی نہیں ہوتی۔ سیاسی قائدین نے کہا کہ تمام جماعتیں غیر مشروط طور پر جمہوریت اور آئین کے ساتھ ہیں، اگر لشکر کشی کامیاب ہو گئی تو آئین اور جمہوریت کی دھجیاں اڑ جائیں گی۔ اس کے ساتھ ہی سیاسی قائدین نے حکومت سے بھی اصلاح کا مطالبہ کرتے ہوئے یہ نصیحت کی کہ وہ بھی اپنے وزراء کے تکبر اور رعونت پر سنجیدگی سے سوچے۔ رعونت تو رومن ایمپائر کو بھی لے ڈوبی تھی۔

بلاشبہ منگل کو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے سیاسی رہنمائوں کی طرف سے جس جمہوری رویے کی قوم کو توقع تھی تقریباً ان ہی قومی امنگوں کی عکاسی کا فریضہ قائدین نے ادا کیا، ان کے خیالات کے اظہار میں مفاہمت، مصالحت اور تنازع کو بات چیت سے حل کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا اور دھرنے سے پیدا شدہ صورتحال کے حل کے لیے پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان اور پاکستان عوامی تحریک کے قائد ڈاکٹر طاہر القادری سے نتیجہ خیز مکالمہ کی اہمیت کو بھی واضح طور پر اجاگر کیا گیا، دو طرفہ تباہ کن شو ڈائون کے کسی بھی ڈرامائی مگر پر امن ڈراپ سین کے لیے ضروری ہے اسی قسم کے مدبرانہ انداز نظر، مثبت سیاسی سوچ، قومی یکجہتی، یگانگت اور افہام و تفہیم کی بھی ضرورت ہے۔

مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر بیرسٹر اعتزاز احسن نے بلیغ پیرائے میں کہا ہے کہ اپوزیشن کی تمام جماعتیں غیر مشروط طور پر جمہوریت اور آئین کے ساتھ ہیں۔ تاہم اس سے یہ سوال بھی اٹھتا ہے کہ ایسی نوبت ہی کیوں آنے دی گئی، کہ جمہوریت رسوا ہوئی، کہیں نہ کہیں تو طرز حکمرانی میں نقص تھا۔ گڈ گورننس ہوتی تو یہ طوفان کیسے اٹھتا۔ سابق صدر زرداری کا کہنا ہے کہ یہ فتح یا شکست کی جنگ نہیں، آئینی مطالبات حل ہونے چاہئیں۔ اسی طرح دیگر تمام سیاسی جماعتوں نے بھی انفرادی اور اجتماعی طور پر مسائل کے حل کے لیے مفید مشورے دیے، اس ضمن میں جمہوریت سے کمیٹڈ عسکری قیادت نے موجودہ بحران کے حوالے سے اپنی نیوٹرل پوزیشن واضح کی جو پاکستان کے سیاسی و عسکری تعلقات کی تاریخ میں ایک اہم پیش رفت ہے۔
وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ فوج کو سیاسی معاملات میں نہ لایا جائے۔ 

وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ فوج نے اپنے بیان میں جمہوریت کی حمایت کا 
اعادہ کیا ہے، ہمیں اپنے معاملات خود سیاسی بصیرت سے حل کرنے چاہئیں، جب کہ عدلیہ نے غیر آئینی اور ماورائے قانون اقدامات کے حوالہ سے پیش بندی کی اور سخت احکامات جاری کیے، جمہوری سطح پر سیاسی رہنمائوں نے مسلسل رابطے جاری رکھے تا کہ وقت ضایع کیے بغیر بحران اپنے منطقی نتیجہ پر پہنچے۔ اس ضمن میں اپوزیشن جماعتوں کے سیاسی جرگے نے جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق کی سربراہی میں پہلے عمران خان سے مختصر ملاقات کی اور بعد میں ڈاکٹر طاہر القادری سے رابطہ کیا، اور تفصیلی گفتگو کی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سراج الحق نے کہا کہ ملک بحران سے دوچار ہے، یہ ہم سب کا ملک ہے، ہم تماشائی نہیں بنیں گے۔

فریقین کو ایک دوسرے پر اعتماد نہیں، سیاسی جماعتیں ضامن بننے کے لیے تیار ہیں، ڈیڈ لاک کے خاتمہ کے لیے بہت کچھ کرنا ہے۔ جرگے نے حکومت پر دھرنے میں شامل کارکنوں کی فوری رہائی کی بھی اپیل کی۔ حقیقت یہ ہے ملک کی سب سے بڑی عدالت نے بھی بحران کے حل میں ثالثی کی پیشکش کی ہے، جب کہ تمام محب وطن شہری اس گمبھیر صورتحال سے نکلنے کی دعائیں کر رہے ہیں۔

داخلی حالات کا تقاضہ ہے کہ سیاست دان جرات اور اخلاص سے معاملات کے سدھار کے لیے فیصلہ کن مذاکرات کی راہ ہموار کرنے میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں، خوش آیند امر یہ ہے کہ تمام سیاسی، مذہبی جماعتوں اور اپوزیشن رہنمائوں نے تصادم روکنے کے لیے اپنی طرف سے بات چیت کے تسلسل کو یقینی بنانے میں پر جوش معاونت کی۔ قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے کہا کہ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس نے اپنا کردار ادا کرتے ہوئے تاریخ کے دھارے کو بدل دیا ہے، حکومت نے طاہر القادری اور عمران خان سے آخری دفعہ مذاکرات کا فیصلہ کیا ہے۔ ایک متوقع قرارداد پر قومی اسمبلی میں اپوزیشن پارلیمانی رہنماؤں سے بھی مشاورت کی جائے گی۔

قرارداد میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ریڈ زون خالی کرانے کا کہا جائے گا۔ امیر جماعت اسلامی سراج الحق کی سربراہی میں قائم پارلیمانی کمیٹی (جرگہ ) کی طاہر القادری اور عمران خان سے مذاکرات سے قبل اسحاق ڈار اور چوہدری نثار علی خان سے تفصیلی مشاورت ہوئی ہے اور سراج الحق نے مذاکرات سے قبل وزیر اعظم سے مکمل مینڈیٹ لیا ہے جب کہ وزیر اعظم نے ان کو مکمل یقین دہانی کرائی ہے کہ سپریم کورٹ کے کمیشن نے الیکشن 2013ء کے حوالے سے دھاندلی کے حوالے سے جو رپورٹ جاری کی اور جس کو ملوث قرار دیا گیا، اس حوالے سے اس کمیشن کے فیصلے پر مکمل عمل درآمد کیا جائے گا۔

انتخابی اصلاحات اور موجودہ الیکشن کمیشن کی تشکیل نو کے حوالے سے پارلیمنٹ میں مشاورت سے قانون سازی بھی 30 سے 45 روز میں کی جائے گی، سانحہ ماڈل ٹاؤن کی تحقیقات کے لیے حکومت سپریم کورٹ کا کمیشن تشکیل دینے کے لیے بھی تیار ہے اور اگر مذاکرات کامیاب ہوتے ہیں تو دونوں جماعتوں پر قائم مقدمات واپس لینے پر بھی غور ہو سکتا ہے۔ یہ سب نازک معاملات آیندہ چند دنوں میں اہم پیش رفت کا باعث بن سکتے ہیں، اور دیکھنا یہ بھی ہے کہ چینی صدر پاکستان کے دورے پر آ رہے ہیں، چینی وزارت خارجہ کے ترجمان چن گینگ نے کہا ہے کہ چین کو توقع ہے کہ پاکستان کی متعلقہ جماعتیں ریاست اور عوام کے بنیادی مفادات کو ترجیح دیتے ہوئے مشاورت اور بات چیت کے ذریعے مسائل حل کر لیں گی اور مل جل کر قومی استحکام کو سربلند رکھیں گی۔
قریبی دوست ہونے کے ناطے چین پاکستان کی صورتحال کا قریبی جائزہ لے رہا ہے۔ ایران نے پاکستان میں جمہوریت کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے توقع ظاہر کی ہے کہ موجودہ اختلافات تشدد کے بغیر اور ملک کے عوام کے مفاد میں دور کر دیے جائیں گے ۔

 امید کی جانی چاہیے کہ مدبران سیاست جاری بحران کے باعث ملکی معیشت کی زبوں حالی، خطے میں مذموم بھارتی عزائم، اس کی طرف سے سرحدی خلاف ورزیوں کے سدباب اور فاٹا میں ضرب عضب آپریشن سے حاصل ہونے والے فوائد کا ادراک کرتے ہوئے ملک کو سنگین صورتحال سے نکالنے کے لیے کوئی کسرنہیں چھوڑیں گے کیونکہ مذاکرات ہی آخری حل ہیں۔

No comments:

Powered by Blogger.