Header Ads

Breaking News
recent

’جب پانی ہمارا تعاقب کر رہا تھا‘......


سات ستمبر اتوار کی دوپہر کو جنوبی سرینگر کے علاقے آلوچہ باغ میں خوف اور بےیقینی کا ماحول تھا۔
میں گھر کے باہر بچاؤ کی سبیل سوچ ہی رہا تھا کہ پانی کا ایک ریلا ہماری کالونی میں برق رفتاری کے ساتھ چلا آیا۔ میرے چیخنے پر میری اہلیہ اور بیٹی باہر نکلے تو میں نے کہا، ’بھاگو!‘ پانی گویا ہمارا تعاقب کر رہا تھا۔
 
دروازے تک پہنچنے کی دیر تھی کہ صحن میں گھٹنوں تک پانی بھر گیا۔ کچھ لوگ گاڑیوں میں بال بچوں سمیت بھاگنے لگے مگر انھیں اُلٹے پاؤں لوٹنا پڑا کیونکہ دوسری جانب سے بھی سیلابی ریلا آلوچہ باغ کی طرف آ رہا تھا۔
 
اس بستی میں مسلمانوں کے علاوہ سکھوں کی بڑی تعداد آباد ہے۔ پڑوسی علاقے مہجور نگر میں گگلن کوہلی نامی ایک تاجر طغیانی کی نذر ہو چکا تھا۔ اس کی لاش آخری رسوم کے لیے آلوچہ باغ لائی گئی لیکن پانی لاش کو چتا سمیت بہا لے گیا۔ بچوں کی چیخ پکار اور افراتفری کے عالم میں ہم سب نے قریب ہی واقع پانچ منزلہ سکول میں پناہ لینے کا فیصلہ کیا۔
پانچ منزلہ منٹوسرکل سکول کی آخری منزل پر ایک بڑے ہال میں ہم نے چار راتیں گزاریں۔ مسلمانوں کے 11 اور سکھ فرقے کے دس خاندان اپنے گھروں کے قریب ہی واقع اس اونچی عمارت میں محصور ہو کر رہ گئے۔ ان میں بچے، عورتیں اور عمررسیدہ افراد بھی تھے۔ سب لوگ خالی ہاتھ آئے تھے، ظاہر ہے طغیانی سے فرار کے وقت جان بچانا سب لوگوں کی اولین ترجیح رہی تھی۔ جان تو بچی لیکن مسئلہ یہ تھا کہ اب کھائیں گے کیا؟
پہلی رات تو باتوں باتوں میں بیت گئی۔ صبح ہوئی تو سب کے چہرے فق پڑے تھے۔ جو بھی باہر جھانک کر دیکھتا رو پڑتا۔ کالونی آب آب تھی۔ پانی کی سطح سکول کی دیوار پار کر چکی تھی۔ لیکن اب پانی میں وہ بلا کی طغیانی کا زور نہیں تھا بلکہ ایک خاموش مگر خوفناک ٹھہراؤ تھا۔
میری 13 سالہ بیٹی تابندہ انجم کئی بار پوچھ چکی تھی: ’پاپا پانی کب اُترے گا؟‘ اس روز فضا میں فوج کے ہیلی کاپٹروں کی گونج تھی۔ ہم نے سُرخ کپڑے لہرائے لیکن ہیلی کاپٹر پاس میں ہی واقع فوجی کیمپ میں کھانے کے پیکٹ گرا کر چلے جاتے تھے۔
ایک سکھ ساتھی نے کہا: ’ہمارا مسئلہ نہیں ہے، مسئلہ بچوں کا ہے۔‘ میں نے اثبات میں سر تو ہلایا، لیکن اندر سے گویا میں کہہ رہا تھا کہ’جناب مسئلہ سب کا ہے۔‘

دوسری رات کو پہلی رات کے مقابلے ہال میں خاموشی تھی۔ بچے اب شرارتیں نہیں کر رہے تھے بلکہ غیر متوقع طور پر دیواروں کے ساتھ ٹیک لگائے اپنی اپنی سوچوں میں گُم تھے۔ بڑے بھی نڈھال تھے۔ بے بسی کے لہجے میں تابندہ نے اپنی بھوک کی نمائندگی یوں کی: ’اب تو مچھر بھی نہیں کاٹتے۔‘
تیسری صبح باہر جھانکا تو پانی کی سطح کچھ کم ہوئی تھی لیکن خوراک کا مسئلہ اپنی جگہ پر برقرار تھا۔ اب بچے اور بڑے دونوں اس کوشش میں تھے کہ کچھ نہ کچھ کرنا ہے۔ ہیلی کاپٹروں کو لال رومال دکھانے اور سیٹیاں بجانے کی تمام ترکیبیں ناکام ہوچکی تھیں۔
اسی اثنا میں دوپہر کو حکومت ہند کی نیشنل ڈزاسٹر ریسپانس فورس یا این ڈی آر ایف کی ایک مخصوص کشتی سکول کے صحن میں نمودار ہوئی۔ اس میں لائف جیکٹس پہنے کچھ افسر اور ایک ادھیڑ عمر کشمیری شہری بھی تھا۔
کشتی ابھی داخل ہی ہو رہی تھی کہ ہمارے ایک ساتھی فاروق احمد نے خوش امید لہجے میں کہا: ’میں تو کہہ رہا تھا کہ حکومت ہم کو تنہا نہیں چھوڑے گی، دیکھا آ گئی نا کشتی۔‘
کشتی سے جب یہ کشمیری شخص اُترا تو اس نے ہمارے درمیان موجود ایک نوجوان کو گلے لگایا اور زار و قطار رونے لگا۔

۔۔کشتی پر گھروں سے کھانے کا سامان اور گیس کے سیلنڈر لائے گئے
اس نوجوان کا نام عادل ہے اور وہ سکول کی نجی سکیورٹی ٹیم کا رکن ہے اور یہاں اس کشتی میں پہنچنے والا شخص فاروق احمد اس کا باپ۔ دراصل فاروق وسطی کشمیر کے بیرواہ گاوں سے فوج کی مدد لے کر اپنے بیٹے کی تلاش میں آیا تھا۔

سب لوگ باپ بیٹے کے ملنے پر خوش تھے۔ عادل کو اسی کشتی میں واپس جانا تھا۔ ایک سکھ ساتھی نے ’این ڈی آر ایف‘ اہلکاروں سے منت سماجت کی کہ فاروق اور اس کے بیٹے کو واپس لے جانے سے پہلے وہ کشتی میں گھروں سے خوراک لانے میں ہماری مدد کریں۔ درخواست قبول ہوئی تو 50 منٹ کے عرصے میں ہی تالیوں اور سیٹیوں کے بیچ اسی کشتی میں گیس سیلنڈز، ستو اور ہر طرح کی غذائی اجناس سکول پہنچ گئیں۔
خواتین نے سبزی صاف کی، ایک سکھ ساتھی بلجندر سنگھ نے کھانا پکانے کی ذمہ داری لی۔ جاوید اور میں نے تین دیواروں سے ہوتے ہوئے ایک مکان کی چھت پر لگے ٹینک سے پانی لانے کا ذمہ لے لیا۔ بھوک تو گویا صرف اس احساس سے مٹ گئی کہ اب کھانا ممکن ہے۔

دو راتیں ہم اندھیرے میں گزار چکے تھے، لیکن اس بار عشائیے کی محفل طے تھی۔ موبائل فونز کی روشنیوں سے جیسے تیسے گزارا ہوا۔ ایک ہی دستر خوان پر سکھ اور مسلم خاندانوں کے بچوں اور بڑوں نے جس بھائی چارے اور رواداری سے کھانا کھایا، اس نے پل بھر کے لیے سیلاب زدگی کے احساس کو ہی مٹا دیا۔
اگلے دو روز تک میں صرف افواہوں کی تردید کرتا رہا۔ ہمارے پاس باہر کی خبریں جاننے کا کوئی ذریعہ نہیں تھا۔ ریڈیو نشریات اور ٹیلی فون کی سہولت پورے کشمیر میں ٹھپ تھی۔ اسی دوران جنوبی کشمیر کے بجبہاڑہ قصبہ سے دیوندر سنگھ نامی ایک پولیس اہلکار آٹھ گھنٹے کا پیدل سفر کرتے ہوئے سکول آن پہنچا۔
ان کا کہنا تھا کہ پورے کشمیر میں مکان تاش کے پتوں کی طرح گر رہے ہیں: ’میں نے راستے میں درختوں کے ساتھ لاشیں دیکھیں۔‘

تباہی اور بربادی کی چشم دید داستان سن کر سب لوگ مایوس ہوگئے۔ پھر ہماری پناہ گاہ میں کئی لوگ آئے۔ ایک صاحب نے آ کر دلاسہ دیا کہ ہلاکتوں کی تعداد کسی کو نہیں معلوم، البتہ تباہی اس قدر وسیع ہے کہ کشمیر اگلے 50 برس تک ہوش میں نہیں آئے گا۔
بہرحال پانی جب کمر کی سطح تک نیچے آ گیا تو ہم لوگوں نے گھروں کی خبر لینے پر اتفاق کیا۔ اس کے بعد سب لوگ زندگی کے بکھرے تار سمیٹنے میں جُٹ گئے اور یہ کوشش ہزارہا دشواریوں کے باوجود جاری ہے۔

ریاض مسرور

No comments:

Powered by Blogger.