Header Ads

Breaking News
recent

گلو بٹ اوکسفرڈ ڈکشنری میں......


لاہور میں پولیس کے ہمراہ پاکستان عوامی تحریک (پی اے ٹی) کے کارکنان پر تشدد کرنے اور عام افراد کی گاڑیاں توڑنے والے گلو بٹ کو ایک اور ’’اعزاز‘‘ حاصل ہونے کا امکان ہے۔

ڈان نیوز کی رپورٹ کے مطابق لفظ گلو اوکسفرڈ ڈکشنری میں شامل کیے جانے کا عندیہ دیا گیا ہے جس کے لیے کہا گیا ہے کہ اگر ’’گلو‘‘ نام مشہور ہوا تو اس کو ڈکشنری کے نئے ایڈیشن میں شامل کر لیا جائے گا۔
واضح رہے کہ اس حوالے سے پاکستانی شہری اور زبانوں کے ماہر، سید شمیم اعظم نے اوکسفرڈ ڈکشنری کی انتظامیہ سے رابطہ کیا تھا کہ پاکستان میں 17 جون کے بعد پے درپے ہونے والے واقعات کو مدنظر رکھتے ہوئے لفظ "گلو" کو ڈکشنری کے اگلے ایڈیشن میں شامل کیا جائے۔
جواباً اوکسفورڈ ڈکشنری کے پبلشرز نے کہا ہے، کہ اگر کوئی بھی لفظ عوام میں وسیع پیمانے پر پذیرائی حاصل کر لے، اور لوگ چاہیں کہ یہ نیا لفظ ان کی ڈکشنری میں شامل ہو، تو اسے ضرور شامل کیا جائے گا۔

شمیم اعظم کے مطابق لفظ گلو کو اسم عام کے طور پر ڈکشنری میں شامل کیا جاسکتا ہے، کیونکہ اب اس لفظ کو پاکستانی معاشرے میں رائج ایک عام رویے کے طرف اشارہ کرنے کے لیے استعمال کیا جانے لگا ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ جب کبھی بھی کوئی شخص یا کوئی چیز طاقتور لوگوں کے کارندوں سے خطرے میں ہو، تو ان پرتشدد عناصر کو گلو کہا جاتا ہے، اور اس کے بعد کسی مزید تشریح کے بغیر دوسرا شخص سمجھ جاتا ہے کہ اشارہ کس جانب ہے۔

گلو بٹ کے رویئے سے دنیا بھر کے لیے ایک مثال قائم ہو گئی ہے جب کہ اسے عبرت کا نشان بھی بنا دیا گیا ہے اس لیے آئندہ جب بھی کوئی ایسی حرکت کرے گا تو اس کے اس فعل کو ’گلو ازم‘ کے نام سے پہچانا جائے گا۔
یاد رہے کہ گوگل پلے اسٹور پر پہلے ہی گلو بٹ کی توڑ پھوڑ پر مبنی 20 سے زائد گیم سامنے آئے تھے، ان گیمز کو 10ہزار بار سے زائد دفعہ ڈاؤن لوڈ کیا گیا تھا جس کے بعد ان گیمز نے نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں شہرت حاصل کی تھی۔

یاد رہے کہ 17 جون 2014 کو لاہور میں پولیس نے پاکستان عوامی تحریک اور تحریک منہاج القرآن کے سیکریٹریٹ سے رکاوٹیں ہٹانے کی کوشش کی تھی اس دوران اہلکاروں اور پی اے ٹی کے کارکنوں میں تصادم ہوا تھا۔

گلو بٹ اسی دوران نے وہاں کھڑی گاڑیوں کے شیشے توڑنے شروع کر دئیے تھے جبکہ وہاں موجود پولیس اہلکاروں نے اس کو روکنے کی کوشش نہیں کی تھی اور یہ تمام مناظر کیمروں کے ذریعے عوام تک پہنچتے رہے۔
بعد ازاں گلوبٹ پر اس حوالے سے مقدمہ بھی درج ہوا اور اس کی سماعت عدالت میں جا ری ہے۔


No comments:

Powered by Blogger.