Header Ads

Breaking News
recent

ذہنی زندگی پر قابو پانے کے طریقے!


آپ ہر روز بہت سے کام کرتے ہیں۔ یہ کام آپ کی مثبت سوچ کے اثر سے سرانجام پاتے ہیں۔ آپ کو مسلسل ذہن سے تجاویز ملتی رہتی ہیں اس طرح آپ نے ذہن میں اپنے بارے میں جو کچھ پروگرام بنا رکھا ہوتا ہے وہ عمل میں آنا شروع ہو جاتا ہے۔ اگر آپ انپے بارے میںعمومی طور پر سوچیں گے کہ آپ مستقبل میں کیا بننا چاہتے ہیں تو ویسی ہی صلاحیتیں اور خوبیاں آپ کے ذہن میں بننا شروع ہو جائیں گی۔ آپ نے اپنے ذہن میں اپنی زندگی کے متعلق جو تصور بنا رکھا ہے کہ آپ کا گھر کیسا ہوگا۔ آپ کا کام کیسا ہوگا، آپ کی صحت کیسی ہوگی اور آپ کا معیارِ زندگی کیسا ہوگا؟ یہ وہ خواب ہیں جو آپ دن میں بھی دیکھتے ہوں گے اور ایسے ہی احساسات آپ رکھتے ہوں گے یہ سارا کچھ آپ کی آئندہ زندگی کا لائحہ عمل آپ کے ذہن میں تیار ہوتا ہے اور پھر آپ کے لاشعور میں یہ سب کچھ جمع ہو جاتا ہے اور اس کے بعد عملی زندگی میں یہ سب کچھ آپ کے لیے حقیقت بن جاتا ہے:   

 آپ کے تخیل میں آپ کی آئندہ زندگی کی تصویر: سب سے پہلے آپ کے ذہن میں وہ تصویر ابھرتی ہے جو کچھ کہ آپ بننا چاہتے ہیں۔ انسان کو یہ سہولت حاصل ہے کہ وہ ذہنی تصور کے طاقت ور طریقے سے جیسا چاہے بن سکتا ہے۔ پھر یہ آپ کے ذہنی تصورات آپ کے لیے حقیقت بن جاتے ہیں آپ کی شدید خواہشات اور آپ کے پختہ یقین سے آپ اپنی قوت ارادی کو بڑھا سکتے ہیں اور اپنے مستقبل کو تعمیر کر سکتے ہیں۔ آپ کے ذہن میں بہت زیادہ طاقت ہے جس سے کام لے کر آپ زندگی کا لائحہ عمل تیار کر سکتے ہیں۔ آپ کے ذہنی تصور میں مستقبل کی تصویر کشی کے چار عناصر ہیں۔ ان عناصر میں پہلا عنصر فریکوئنسی ہے۔ یہ آپ کے ذہنی تصور کو مستقبل کی کامیابی اور رویے کو مثبت کرنے میں طاقتور کردار ادا کرتی ہے یہ فریکوئنسی آپ کی سوچ، آپ کے احساسات اور آپ کے عمل کو بھی مثاتر کرتی ہے۔ جو لوگ غیر معمولی کارنامے سرانجام دیتے ہیں وہ اسی فریکوئنسی کی طاقت سے اپنے ذہنی تصور میں مستقل مثبت نتائج حاصل کرتے ہیں کیونکہ وہ ہر وقت سوچتے رہتے ہیں کہ جو کچھ وہ چاہتے ہیں وہ کیسے ممکن ہو سکتا ہے۔ وہ اپنی ذہن کی تصویر پر اپنے مستقبل کے مناظر کو عموماً دیکھتے رہتے ہیں۔ دراصل اس فریکوئنسی کی مدد سے آپ اپنے ذہن کی تصویر کو ہی صاف نہیں دیکھ سکتے بلکہ اس سے آپ کے اندر خواہش بھی شدید ہو جاتی ہے اور آپ کا یقین بھی پختہ ہو جاتا ہے۔ دوسرا عنصر آپ کے ذہن کی تصویر کا واضح ہوتا ہے اگر آپ کے ذہن میں مستقبل کی کامیابیوں کی واضح تصویر ہوگی تو پھر بڑی تیزی سے آپ کی خواہش کے مطابق نتائج برآمد ہوں گے۔ 

آپ نے اکثر تجربہ کیا ہوگا کہ آپ کو جس چیز کی شدید خواہش ہوتی ہے آپ اس کے بارے میں زیادہ شدت سے سوچتے ہیں اور پھر آپ کے ذہن میں اس چیز کے بارے میں زیادہ سے زیادہ خواہش پیدا ہونا شروع ہو جاتی ہے اور آپ کے ذہن میں اس کا واضح تصور ابھرنا شروع ہو جاتا ہے اس حالت میں اگر آپ اپنی آنکھیں بند کریں تو آپ اپنی اس خواہش کے مطابق اپنے مقصد کی تمام جزویات کو واضح طورپر دیکھ سکیں گے۔ یہ واضح تصور آپ کو ہر صورت میں کامیابی کے قریب لے جاتا ہے۔ کامیاب لوگ جو کچھ کرنا چاہتے ہیں اس کے متعلق واضح تصور رکھتے ہیں لیکن ناکام لوگ اپنے اس تصور میں واضح طور پر اپنی کامیابی کو دیکھ ہی نہیں سکتے اس طرح ان کی ذہنی صلاحیتیں ان کا ساتھ نہیں دیتیں لیکن اگر ہم اپنے مقصد کو ذہن کی تصویر میں واضح طور پر دیکھ لیں تو پھر بہت سے ذہنی قوانین حرکت میں آ جاتے ہیں اور آپ کی خواہش کو عملی جامہ پہنانا شروع کر دیتے ہیں۔ تیسرا عنصر آپ کے ذہنی تصور کی شدت ہے۔

 اس سے آپ کے جذبات میں اور آپ کے ذہنی تصور میں ایک خاص ربط پیدا ہو جاتا ہے۔ جس قدر آپ کی خواہش شدید ہوگی اس قدر آپ کی ذہنی صلاحیتیں آپ کے مقصد کے حصول میں تیزی سے عمل کرنا شروع کر دیں گی۔ اس سے آپ کی ذہنی طاقت سے زبردست لہریں پیدا ہوںگی جو آپ کی تمام ذہنی اور جسمانی صلاحیتوں کو مضبوط بنا دیں گی۔ والڈو ایمرسن کا کہنا ہے کہ کوئی بھی مقصد شدید جذبے کے بغیر حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ ناکام لوگ اپنے اندر خواہشات کی شدت کا فقدان ہونے کی وجہ سے ناکام رہتے ہیں کیونکہ جذبے کی شدت کی کمی ان میں بہت کم توانائی پیدا کرتی ہے جس سے ان کی صلاحیتیں متحرک نہیں ہوتیں۔ چوتھا عنصر آپ کی ذہنی تصویر کا دورانیہ ہے جس قدر آپ کے ذہن کی تصویر کا دورانیہ طویل ہوگا اس قدر آپ کی خواہش شدید ہوگی اور آپ کے لاشعور میں آپ کے حصول مقصد کی تصویر زیادہ گہری ہوتی چلی جائے گی اور اس سے آپ کا ذہنی تصور تیزی سے تبدیل ہونا شروع ہو جائے گا۔ کیا آپ ایک نئی کار چاہتے ہیں؟ اس کے لیے آپ کار ڈیلر کے پاس جائیں اور اس سے نئی کار لے کر چلائیں۔ اس کے بعد اس کار کا معلوماتی کتابچہ گھر لے آئیں اور اس کار کی تصویریں جگہ جگہ چپکا دیں جہاں آپ کی نظر پڑتی رہے۔

 اس طرح سب عناصر اس وقت کام کرنا شروع کر دیں گے یعنی فریکوئنسی، ذہنی تصویر کا واضح تصور، شدید خواہش اور ذہنی تصویر کا دورانیہ۔ پھر آپ کے لیے ایسے حالات بننا شروع ہو جائیں گے کہ آپ کے اندر تمام چھپی ہوئی صلاحیتیں پیدا ہونا شروع ہو جائیں گی اور آپ اپنے اندر اس قدر مثبت جذبہ محسوس کریں گے کہ مطلوبہ کار کے آپ مالک بن جائیں گے۔ بہت زیادہ کامیاب لوگ اپنے اندر اس صلاحیت کو پیدا کر لیتے ہیں اور بار بار ایسی کامیابیوں سے گزرنے کے بعد وہ واضح طور پر اپنے مستقبل کے منصوبوں کو دیکھ لیتے ہیں اور پھر یقین کی قوت سے وہ اپنے اس ذہنی تصور کو حقیقت کا روپ دے لیتے ہیں۔ مثال کے طور پر بہت سے لوگ عام پبلک میں تقریر کرنے سے گھبراتے ہیں۔ وہ بہت سے ناظرین کے سامنے کھڑے ہی نہیں ہو سکتے دراصل یہ ان کے اندر کا خوف ہوتا ہے لیکن اس خوف پرذہنی پروگرامنگ کی تکنیک سے قابو پایا جا سکتا ہے۔ پہلی بات تو یہ کہ آپ اپنے متعلق سوچیں کہ آپ بھی عام انسانوں کی طرح ایک باصلاحیت انسان ہیں۔ پھر خیال کریں کہ اگر آپ نے بہت اچھی گفتگو کی تو لوگ آپ کی تعریف کریں گے۔ اس کے لیے عملی طور پر پہلے تو آپ اپنے دوستوں یا خاندان کے افراد کے سامنے تقریر کرنے کی مشق کریں۔ اپنے جذبات کو پُرسکون رکھیں، اپنے اندر عتماد پیدا کریں اور یہ تصور کریں کہ آپ دوسرے لوگوں سے زیادہ معلومات رکھتے ہیں اور دوسرے لوگ آپ سے کم معلومات رکھتے ہیں یہ حقیقت آپ کو زیادہ اعتماد دے گی اور آپ اپنے آپ پر فخر کریں گے۔

 اس بات کو ذہن میں رکھیں کہ جو لوگ بھی کسی مقرر کی تقریر سننے آتے ہیں وہ اپنی معلومات میں اضافہ کرنا چاہتے ہیں اس لیے آپ کو یقین ہونا چاہیے کہ آپ کے پاس بہت زیادہ معلومات ہیں، علم ہے، تجربہ ہے اور آپ یہ سب کچھ دوسروں کو منتقل کرنا چاہتے ہیں۔ جب یہ سب کچھ آپ کے تصور میں ہوگا تو آپ کو سامعین سے زیادہ داد ملے گی۔ جس سے آپ کا مورال بلند ہوگا اور آپ کا اعتماد بڑھے گا۔ آپ اپنے ذہن سے ناکامی کے تمام منفی خیالات جھٹک دیں تو پھر آپ اپنے آپ کو پرسکون، پر اعتماد محسوس کریں گے۔ آپ اپنے ذہن کی مثبت صلاحیتوں کو بروئے کار لائیں گے تو تمام حالات آپ کے حق میں ہوتے جائیں گے۔ آپ کا خوب آہستہ آہستہ ختم ہو جائے گا اور آپ اعتماد سے دوسرے لوگوں کو اپنے علم اور معلومات سے مستفید کرتے جائیں گے۔ -2 مثبت گفتگو: ذہنی پروگرام کی دوسری تکنیک مثبت گفتگو کا استعمال ہے۔ یہ مثبت گفتگو تین بنیادی حوالوں سے ہونی چاہیے۔

 مثبت گفتگو میں طاقتور الفاظ کا استعمال ضروری ہے اس سے آپ کے لاشعور اور تحت الشعور میں تبدیلی پیدا ہوگی۔ گھٹیا اور فرسودہ گفتگو سے پرہیز کریں۔ مثبت عادات، مثبت خیالات اور مثبت رویے کو اپنانا ضروری ہے۔ ’’ میں اپنے آپ کو پسند کرتا ہوں‘‘ یہ فقرہ مثبت فعل حال اور اپنی ذات کے متعلق ہے۔ جب اس فقرے کو بار بار دہرائیں گے تو آپ اپنے متعلق بہتر محسوس کریں گے۔ آپ جو کوئی بھی کام کریں گے بہتر ہوگا۔ اس سے آپ کا ذاتی وقار بڑھے گا۔ آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ آپ کے ذہن میں بہت زیادہ طاقت ہے۔

 اس فقرے کو بار بار دہرانے سے یہ آپ کے لاشعور کا حصہ بن جائے گا اور اس سے آپ کی ذات اور شخصیت میں فوراً تبدیلیاں رونما ہونا شروع ہو جائیں گی اس سے آپ کا جذبہ اور حوصلہ بڑھے گا۔ آپ خودپر قابو پانے کی صلاحیت کو بڑھا سکیں گے۔ آپ کے لاشعوری ذہن پر بہت طاقتور اثر پڑے گاوہ اثر آپ کے یقین کی طاقت کا ہوگا جوکہ آپ اپنی ذات کے متعلق رکھتے ہیں۔ اگر آپ کہیں گے کہ میں یہ کام نہیں کر سکتا یا میں سال میں تین سو ڈالر سے زیادہ نہیں کما سکتا تو یہی چیز آپ کا ذاتی تصور بن جائے گا اور اسی کے مطابق آپ کو نتائج ملیں گے۔ آپ کے ذاتی تصور سے بھی آپ کی ذات کے اندر تبدیلی پیدا ہوتی ہے اور وہی کچھ آپ کو خارجی ماحول میں ملتا ہے۔ آپ کا لاشعوری ذہن بہت ہی سادہ ہے۔ آپ اس میں جو بھی بات رکھنا چاہتے ہیں وہ اپنی سوچ کے ذریعے رکھ سکتے ہیں۔ آپ جو مثبت گفتگو کرتے ہیں اس سے آپ سکون محسوس کرتے ہیں۔ آپ کا لاشعوری ذہن سادہ اور مثبت الفاظ کو بہت جلدی قبول کر لیتا ہے۔ 

مثال کے طور پر اگر میں کہوں کہ اب میں مزید سگریٹ نوشی نہیں کروں گا تو یہ ایک منفی فقرہ ہوگا اور اس کا تعلق مستقبل سے ہوگا لیکن اگر آپ بہت ہی سادہ فقرہ کہیں کہ میں اب سگریٹ نوشی نہیں کرتا تو یہ فقرہ سادہ مثبت اور فعل حال سے تعلق رکھتا ہے اور پہلے فقرے کی نسبت بہت زیادہ طاقتور ہے تو ایسے ہی سادہ اور مثبت فقرات سے آپ اپنے ذہنی لاشعور میں زبردست تبدیلی پیدا کر سکتے ہیں۔ ہم سگریٹ نوش حضرات کے ساتھ عموماً کئی قسم کے دلچسپ تجربات کرتے رہتے ہیں لیکن سگریٹ نوش حضرات سگریٹ نوشی کو چند دن کے لیے ترک کرکے پھر شروع کر دیتے ہیں۔ 

مجھ سے ایک گریجویٹ لڑکا ملنے آیا اس نے کہا کہ میں سگریٹ چھوڑنا چاہتا ہوں۔ میں نے اس سے کہا کہ آپ سادہ سے الفاظ ہر روز دہرایا کریں کہ میں سگریٹ نہیں پیتا۔ وہ روزانہ دو ماہ تک یہ الفاظ دہراتا رہا اور دو ماہ کے بعد اس کی یہ عادت چھوٹ گئی۔ آپ کسی بھی عادت کو ایک دو دن میں تبدیل نہیں کر سکتے اس کے لیے آپ کو صبر، مثبت گفتگو اور مثبت رویہ کی ضرورت ہوگی۔ -3اونچی آواز میں پکارنا: اپنے ذہن کو قابو میں رکھنے کے لیے اور اس سے طاقتور نتائج حاصل کرنے کے لیے تیسری، تکنیک اونچی آواز سے پکارنا ہے یعنی آپ دوسروں کے ساتھ اونچی آواز میں بات کریں یا آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر بہت ہی صاف اور جذباتی آواز میں کہیں ’’میں یہ کام کر سکتا ہوں! میں یہ کام کر سکتا ہوں! میں یہ کام کر سکتا ہوں! ‘‘یہ بہت ہی طاقتور الفاظ ہیں جو آپ کے اندر اعتماد پیدا کریں گے اور آپ مستقبل میں پیش آنے والی مشکلات کا مقابلہ کر سکیں گے۔ جب آپ دوسروں سے بار بار کہیں گے کہ آپ یہ کام کر سکتے ہیں یا آپ یہ کام کر سکیں گے اس سے آپ کے ذہن پر ایک طاقتور اثر پڑے گا اور آپ کے لاشعور میں یہ بات بیٹھ جائے گی کہ آپ ہر کام کر سکتے ہیں۔ کئی کھلاڑی کھیل سے پہلے آپس میں اونچی آواز میں یک آواز ہو کر کہتے ہیں ہم جیتیں گے، ہم جیتیں گے۔

 اس طرح ان کے لاشعور میں یہ بات بیٹھ جاتی ہے کہ انہیں جیتنا ہے اور پھر وہ جیت جاتے ہیں۔ آپ روز مرہ کی گفتگو میں ایسے الفاظ مت استعمال کریں جو ڈر اور خوف پیدا کریں بلکہ ایسے الفاظ استعمال کریں جو مثبت ہوں۔ ہمیشہ محتاط رہیں کہ آپ کو منفی الفاظ کا استعمال نہیں کرنا تو پھر آپ ایسی کامیابیوں سے ہمکنار ہوں گے جوکہ لامحدود ہوں گی۔

  عمل کرنا: ذہنی پروگرامنگ کی چوتھی تکنیک ایسا ہی عمل کرنا ہے جیسا کہ آپ اپنی خواہش کے مطابق بننا چاہتے ہیں۔ آپ اپنے ذہن میں تصور کریں کہ آپ ایسا ہی شخص بن چکے ہیں جیسا بننا چاہتے ہیں اپنی چال ڈھال کو ایسا بنا لیں۔ اپنے رویے کو بھی ایسا ہی بنالیں۔ آپ ایسا عمل کریں کہ جیسے آپ کی ہر کوئی عزت کرتا ہے احترام کرتا ہے۔ آپ اپنے ذہن میں ایسا ہی محسوس کریں کہ بنک میں آپ کی بہت بڑی رقم ہے۔ اس تکنیک سے آپ بہت ہی طاقتور نتائج حاصل کریں گے۔ اس قانون کا کہنا ہے کہ جب آپ مثبت اور پرامید محسوس کرتے ہیں تو آپ کے احساسات ایسے عمل اور رویوں کو پیدا کرتے ہیں جوکہ پرامید اور مثبت ہوتے ہیں۔ اس تکنیک سے آپ اپنے عمل کو اپنی خواہش کے مطابق بننے والے فرد کے حوالے سے بنالیں گے تو یہ آپ کی ذات کے اندر ویسی ہی خصوصیات پیدا کرنا شروع کر دے گا۔ اس سے آپ کے حوصلے، اعتماد اور ذہانت میں بے پناہ اضافہ ہوگا اور آپ کے اندر ویسی ہی صلاحیتیں پیدا ہونا شروع ہو جائیں گی۔ ان چاروں تکنیکوں کے استعمال سے آپ اپنے ذاتی تصور کو مکمل طور پر تبدیل کرلیں گے اس سے آپ کی شخصیت میں بھی تبدیلی پیدا ہو جائے گی۔

 ذہنی غذا: اس تکنیک کے حوالے سے آپ الفاظ، تصورات اور خیالات سے مسلسل اپنے ذہن کو خوراک دیتے رہتے ہیں۔ آپ جو کتابیں اور رسالے پڑھتے ہیں، جو کچھ ذاتی اور پیشہ ورانہ لحاظ سے سیکھتے ہیں، اس سے آپ کی ذات کی نشونما ہوتی ہے۔ اس طرح آپ جو بھی ہنر، فن یا علم سیکھتے ہیں یہ سب کچھ آپ کی ذہنی غذا کا حصہ ہے۔ اس لیے آپ کو زیادہ سے زیادہ پڑھنا چاہیے۔ زیادہ سے زیادہ سننا چاہیے۔ اپنے مشاہدے اور تجربے کو وسیع کرنا چاہیے۔ اپنے مخصوص دلچسپی کے موضوع کو زیادہ سے زیادہ معلومات کے ذریعے بہتر کرنا چاہیے۔ اس سے آپ کا اعتماد بڑھے گا اور آپ کی صلاحیتیں زیادہ سے زیادہ موثر ہوں گی۔ اس لیے اپنے ذہن کی خوراک کے لیے ہمیشہ کچھ نہ کچھ کرتے رہنا چاہیے اس سے آپ کی زندگی میں مثبت تبدیلیاں پیدا ہو کر آپ کو مثبت نتائج دیں گی۔

  مثبت قسم کے لوگوں سے تعلق رکھنا: چھٹی تکنیک بہت ہی سادہ ہے کہ آپ اپنے اردگرد رہنے والے ان لوگوں سے تعلق رکھیں جو مثبت سوچ رکھتے ہوں اور کامیاب لوگ ہوں۔ انگریزی میں کہاوت ہے۔ "Fly with the eagles rather than scratching with the turkeys" اچھے، مثبت، نیک اور کامیاب لوگوں کا آپ پر اثر بہت گہرا پڑتا ہے۔ اس لیے آپ کو محتاط رہنا چاہیے کہ آپ ایسے لوگوں سے تعلق نہ رکھیں جو منفی سوچ رکھتے ہوں، اپنا وقت ضائع کرتے ہوں اور زندگی میں ناکام ہوں۔ ڈاکٹر ڈیوڈ نے پچیس سالہ تحقیق کے بعد نتائج اخذ کئے کہ برے لوگوں کے ساتھ رہنے سے ذلت کا سامنا کرنا پڑتا ہے جوکہ ناکامی کی طرف لے جاتی ہے یعنی آپ کہہ سکتے ہیں کہ ہر شخص اپنے دوستوں کی محفل کی وجہ سے پہچانا جاتا ہے۔ آپ کے رویے، آپ کے تصورات اور آپ کاکردار معاشرے کا مرہون منت ہوتا ہے۔

 جیسا آپ کا معاشرہ اور آپ کے دوست ہوں گے ویسے ہی اثرات آپ کی ذات میں نمودار ہوں گے۔ اس لیے آپ کو اچھے، مخلص، کامیاب اور مثبت لوگوں کا انتخاب کرنا چاہیے جن کے ساتھ آپ وقت گزار سکیں۔ آپ کے دوست، احباب آپ کی کامیابی کے لیے بہت اہم کردار ادا کرتے ہیں اور ان کی معیت سے آپ طاقتور اثرات حاصل کرتے ہیں۔

   دوسروں کو سکھانا: آپ نے جو کچھ سیکھا ہے اگر وہ آپ دوسروں کو سکھائیں گے تو اس سے آپ کی ذہنی استعداد بڑھے گی۔ آپ کو اس سکھانے کے عمل میں اپنی ذات کو بھی شامل کرنا پڑتا ہے جس سے آپ بلا ارادہ اور لاشعوری طور پر اپنے ذہن میں بہت سے مثبت خیالات کو محفوظ کر لیتے ہیں۔ کیونکہ جب آپ دوسروں کو کوئی بات سمجھاتے ہیں تو پہلے اس بات کو خود سمجھتے ہیں اور اس طرح دوسروں کو سکھانے سے آپ کے اعتماد میں زیادہ اضافہ ہوتا ہے۔ آپ کے اندر نئی عادات، نئے تصورات، نئے خیالات ابھرتے ہیں جو آپ کی ذات کی نشوونما کے لیے بہت ضروری ہیں۔ اس سے آپ نئی عادات اپنا سکتے ہیں اور پرانی عادات سے پیچھا چھڑا سکتے ہیں۔ آپ اپنے ماضی کو بھلا کر نیا مستقبل تعمیر کر سکتے ہیں۔

 (برائن ٹریسی کی کتاب ’’اعلیٰ کامیابی کا حصول‘‘ سے ماخوذ)

How to Improve Your Life

No comments:

Powered by Blogger.