Header Ads

Breaking News
recent

غزہ تاریخ کے تناظر میں.......


غزہ بحیرہ روم کے مشرقی کنارے پر ایک باریک لیکن انتہائی گنجان آباد پٹّی ہے۔ اس کے 365 مربع کلومیٹر میں 18 لاکھ افراد آباد ہیں جن کی اکثریت پناہ گزینوں کی ہے۔ غزہ کی تاریخ کے بڑے سنگ میل کچھ یوں ہیں۔
1967: عرب اسرائیلی چھ روزہ جنگ کے بعد اسرائیل غزہ پر قابض ہو جاتا ہے۔...

1993: چھبیس برس بعد ناروے کے دارالحکومت اوسلو میں اسرائیلی وزیر اعظم اسحاق رابن اور تنظیم آزادی فلسطین یا پی ایل او کے سربراہ یاسر عرفات کے درمیان امن معاہدہ ہوتا ہے جس کے تحت فلسطین کی نیشنل اتھارٹی یا پی این اے غزہ اور مغربی کنارے کے شہر جیریکو کا بطور آزاد علاقوں کے اختیار سنبھالتی ہے۔
1994: ستائیس برس کی جلاوطنی کے بعد یاسر عرفات غزہ واپس لوٹتے ہیں جہاں ان کا ایک ہیرو کی طرح استقبال کیا جاتا ہے۔
1995: اسحاق رابن ایک دائیں بازو انتہا پسند یگال امیر کے ہاتھوں قتل ہو جاتے ہیں۔
1996: یاسر عرفات پی این اے کے پہلے صدر چنے جاتے ہیں لیکن امن کے اس عمل کے مخالف حماس اور اسلامک جہاد مصر رہتے ہیں کہ ایک فلسطینی ریاست کا مقصد حاصل کرنے کا واحد راستہ مسلح جدوجہد ہی ہے۔ اس دوران کئی ممالک حماس اور اسلامک جہاد کو دہشتگرد تنظیمیں قرار دے دیتے ہیں۔
2000: پی این اے اپنے مغربی کنارے کے شہر رمّلہ سے کئی اور قصبوں کا کنٹرول حاصل کر لیتی ہے لیکن باقاعدہ امن مذاکرات تعطل کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اس دوران دائیں بازو کی جماعت لکخود کے سربراہ ایرئیل شیرون ماؤنٹ ٹیمپل کا دورہ کرتے ہیں جسے ایک انتہائی اشتعال انگیز قدم سمجھا جاتا ہے اور حماس اور اسلامک جہاد اسرائیل میں کئی حملے کرتے ہیں۔
2001: یہ بڑھتی ہوئی کشیدگی آخرکار مسلح جدوجہد کی شکل اختیار کرتی ہے جسے الاقصٰی انتفادہ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ حماس اور اسلامک جہاد اسرائیل میں راکٹ حملے کرتے ہیں جبکہ اسرائیل ان تنظیموں کے لیڈروں پر قاتلانہ حملوں کے علاوہ فوجی کاروائیاں شروع کرتا ہے۔
2001: ایرئیل شیرون عام انتخابات میں ایک بڑی اکثریت کے ساتھ کامیابی حاصل کر کے اسرائیل کے وزیر اعظم منتخب ہوتے ہیں۔
2004: یاسر عرفات انتقال کر جاتے ہیں اور محمود عباس ان کی جگہ لینے کے بعد اسرائیلی وزیر اعظم کے ساتھ مل کر غزہ سے اسرائیلی فوجی انخلا کے عمل کا آغاز کرتے ہیں۔
2005: اسرائیلی فوجی انخلاء مکمل ہوتا ہے لیکن اسرائیل غزہ میں آنے جانے والے زمینی، بحری اور ہوائی راستوں پر سخت کنٹرول رکھتا ہے۔ غزہ میں رہنے والے اس صورتحال کو ایک کھلے آسمان تلے جیل میں رہنے کے مترادف قرار دیتے ہیں۔
2006: حماس ایک بڑی اکثریت سے انتخابات جیت جاتی ہے۔
2007: اس کے کچھ ہی عرصے بعد محمود عباس کی فتح موومنٹ اور حماس کے بیچ اختلافات پیدا ہوتے ہیں اور فلسطینی علاقوں پر ان کا کنٹرول بٹ جاتا ہے۔ فتح موومنٹ کے ہاتھ مغربی کنارہ آتا ہے جبکہ حماس غزہ کا کنٹرول حاصل کر لیتی ہے۔ اسی دوران مصری اور اسرائیلی بندشوں سے نمٹنے کے لیے حماس اپنے زیرِ کنٹرول علاقوں میں سرنگیں بنانا شروع کرتی ہے۔
2008: امن مذاکرات کا عمل شروع کرنے کی کوششیں ناکام رہتی ہیں اور اگلے چھ برس میں فریقین میں کئی جھڑپیں ہوتی ہیں۔ اسرائیل حماس اور اسلامک جہاد کی عسکری قابلیت مٹانے کے لیے ایک بڑا حملہ کرتا ہے۔
2012: اسرائیل ایک بار پھر حماس پر ایک بڑا حملہ کرتا ہے لیکن پہلے کی طرح یہ بھی ناکام رہتا ہے۔

No comments:

Powered by Blogger.