Header Ads

Breaking News
recent

South Asia is World's Most Corrupt Region: Transparency


دنیا بھر میں حکومتوں کی کارکردگی میں شفافیت اور کرپشن کا جائزہ لینے والی عالمی تنظیم ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل (ٹی آئی) نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ جنوبی ایشیا کا خطہ سب سے زیادہ بدعنوانی کا شکار ہے جس میں حکومتوں کی ذمے داری ہے کہ وہ کرپشن اور بدعنوانی کو روکنے والے اپنے اداروں کو مضبوط کریں اور ان اداروں کی کارکردگی میں سیاسی مداخلت کی دخل اندازی کو سختی سے روکنے کی کوشش کریں۔

ٹی آئی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان‘ بھارت‘ بنگلہ دیش‘ مالدیپ‘ نیپال اور سری لنکا میں انسداد بدعنوانی کی کوششوں کی راہ میں بڑی سنگین رکاوٹیں حائل ہیں۔ ایشیا بحر الکاہل کے خطے کے لیے ٹی آئی کے گروپ ریجنل ڈائریکٹر ’’سریریک پلی پیٹ‘‘ نے رپورٹ کی تفصیلات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا ہے کہ کرپشن کے اعتبار سے یہ دنیا کا بدترین خطہ ہے۔ رپورٹ کے مطابق متذکرہ چھ ممالک میں اگرچہ انسداد کرپشن کے لیے باقاعدہ سرکاری ادارے قائم ہیں مگر ان اداروں کے اندر بھی کرپشن داخل ہو چکی ہے جس کی بڑی وجہ ان اداروں میں سیاسی مداخلت ہے نیز بااثر افراد بھی اپنی بدعنوانی کی بنا پر گرفت میں نہیں آتے۔

انسداد بدعنوانی کے افسروں کو بھی اپنی کارکردگی دکھانے کی پوری طرح آزادی حاصل نہیں ہے نیز ان اداروں میں تقرریاں بھی سیاسی بنیادوں پر ہونے کے باعث بدعنوانی پر پوری طرح گرفت نہیں کی جا سکتی۔ رپورٹ کے مطابق متذکرہ ممالک کی حکومتوں میں اس عزم اور ہمت کا بھی فقدان ہے جو کرپشن پر قابو پانے کے لیے ضروری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کرپشن کے انسداد کے لیے جو نیم دلی سے کوششیں کی جاتی ہیں وہ موثر ثابت نہیں ہوتیں۔ ٹی آئی رپورٹ کے مطابق انسداد کرپشن کے اداروں کا بجٹ بھی بہت کم رکھا جاتا ہے کیونکہ عمومی رواج کے مطابق یہ ادارے ملزموں سے ’’مک مکا‘‘ کر کے اپنا خرچہ پانی نکالتے رہتے ہیں۔

ٹی آئی نے تجویز کیا ہے کہ حکومتی کارکردگی میں شفافیت پیدا کرنے اور کرپشن کو صحیح معنوں میں روکنے کے لیے عدالتی نظام کو بھی مضبوط بنانا ضروری ہے۔ علاوہ ازیں انسداد بدعنوانی کے اداروں میں بھرتیوں کے لیے بھی شفاف طریق کار اختیار کیا جانا چاہیے اور سفارش کی بنیاد پر کسی اہلکار کو ایسے اداروں میں ہر گز شامل نہیں کیا جانا چاہیے۔ مزید برآں ان اداروں کے سربراہوں کو بھی وقتاً فوقتاً تبدیل کیا جانا چاہیے تا کہ ان کے کرپشن میں ملوث ہونے کا احتمال نہ رہے۔ متذکرہ اداروں میں سیاسی مداخلت کی وجہ سے اصل مجرموں کے بچائو کے مواقع نکل آتے ہیں جب کہ اپنی کارروائی پوری کرنے کے لیے وہ غیر متعلقہ افراد کو دھر لیتے ہیں جس سے ان اداروں کی ساکھ اور زیادہ خراب ہو جاتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق ان اداروں کو مطلوبہ افراد کے خلاف کارروائی کرنے کے لیے حکومتوں سے باقاعدہ اجازت لینا پڑتی ہے اور اگر معاملہ سیاسی ہو تو پھر ملزموں کے خلاف تفتیش کی اجازت ہی نہیں ملتی۔ رپورٹ میں مثال دی گئی ہے کہ نیپال میں 2013ء میں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کو ملک کا وزیر اعظم مقرر کر دیا گیا جس کے بعد عدلیہ اور انتظامیہ میں ایک خاص قسم کا تنائو پیدا ہو گیا اس صورت میں بھی کرپشن کے مقدمات بیچ میں ہی لٹک کر رہ گئے کیونکہ چیف جسٹس راج رگمی نے وزارت عظمیٰ سنبھالنے کے باوجود اپنے عدالتی منصب سے استعفیٰ نہیں دیا تھا۔ یہ الگ بات ہے کہ انھوں نے اس دوران چیف جسٹس کی حیثیت سے مقدمات کے فیصلے نہیں کیے۔

ایک اور مثال بنگلہ دیش کی ہے جس میں حکومت نے 2009ء سے تاحال 48 ججوں کا تقرر کیا ہے اور ظاہر ہے کہ یہ تقرریاں زیادہ تر سیاسی بنیادوں پر کی گئی ہیں۔ پاکستان میں معلومات تک رسائی کے حق کے قانون پر بحث ہو رہی ہے لیکن ابھی تک یہ کسی واضح نتیجہ پر نہیں پہنچ سکی جب کہ سری لنکا میں اس قسم کی کسی پیش رفت کا دور دور تک کوئی امکان نہیں ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ بھارت معلومات تک رسائی کے حق کے قانون کو اب واپس لینے کی کوشش کر رہا ہے حالانکہ اس قانون کو دنیا میں خاصا مضبوط تصور کیا جا رہا ہے۔ مسٹر پیلی پیٹ کا کہنا ہے کہ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل (ٹی آئی) بھارت میں نئی تشکیل پانے والی حکومت کا شروع ہی سے جائزہ لینے کا ارادہ رکھتی ہے تا کہ دیکھا جا سکے کہ آیا وہ بدعنوانی کے خلاف کارروائی کرنے کے اپنے وعدے پر قائم رہتی ہے یا نہیں۔

انھوں نے مزید کہا کہ نئی بھارتی حکومت کو لوک پال یعنی محتسب کے ادارے کے قیام میں آنے والی رکاوٹوں کو دور کرنا چاہیے کیونکہ اس حوالے سے ایک مسودہ قانون کئی سال سے بھارتی لوک سبھا میں زیر التوا ہے جب کہ بھارت کی سابق حکومت اپوزیشن کی طرف سے دبائو کے باوجود اس بل کو منظور کرنے سے پہلو تہی کرتی رہی ہے۔ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی یہ رپورٹ جنوبی ایشیاء کے تمام ممالک کی حکومتوں کی آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہونی چاہیے‘ اس خطے کی تمام حکومتوںکو اپنی کارکردگی سے یہ ثابت کرنا چاہیے کہ اس خطے میں بھی اچھی حکمرانی کے ذریعے کرپشن کا خاتمہ کیا جا سکتا ہے۔

South Asia is World's Most Corrupt Region: Transparency

Enhanced by Zemanta

No comments:

Powered by Blogger.