Header Ads

Breaking News
recent

برداشت ....Patience


بات بہت معمولی تھی‘ میں نے انھیں پانچ بجے کا وقت دیا تھا‘ نوجوان چھ بجے پہنچے‘ میرے پاس وقت کم تھا‘ میرے ایک دوست نے سوا چھ بجے آنا تھا اور سات بجے میں نے ریکارڈنگ پر جانا تھا‘ میں نے ان سے عرض کیا ’’آپ کے پاس پندرہ منٹ ہیں‘ آپ ان 15 منٹوں میں جو گفتگو کر سکتے ہیں‘ آپ کر لیجیے‘ میری بات انھیں پسند نہیں آئی‘ ان کے چہروں کا رنگ بدل گیا‘ وہ بولے ’’ ہم دور سے آئے ہیں‘ ہماری بات پندرہ منٹ میں پوری نہیں ہو سکے گی‘‘ میں نے عرض کیا ’’آپ کی بات سر آنکھوں پر مگر میری اپنی مصروفیت ہے‘ میں اس کو آگے پیچھے نہیں کر سکوں گا‘ آپ گفتگو اسٹارٹ کر لیجیے‘‘ ایک نوجوان بولا ’’میں سمجھتا ہوں‘ میں بے شمار کام کر سکتا ہوں‘ میں کیا کروں‘ آپ گائیڈ کریں‘‘۔

میں نے عرض کیا ’’بیٹا اس کا فیصلہ انسان خود کرتا ہے‘ دنیا میں کوئی ایسی مشین ایجاد نہیں ہوئی جس میں انسان کو ڈالا جائے اور وہ مشین بتا دے‘ یہ شخص یہ کر سکتا ہے اور یہ نہیں‘ آپ اپنی صلاحیتوں کا اندازہ خود کرتے ہیں اور اس کے بعد مشورے کی باری آتی ہے‘‘ وہ نوجوان خاموش ہو گیا۔ دوسرا بولا ’’مجھے لکھنے کا شوق ہے‘ میں اچھا لکھاری کیسے بن سکتا ہوں‘‘ میں نے پوچھا ’’کیا آپ کتابیں پڑھتے ہیں‘‘ اس نے فوراً جواب دیا ’’ہاں لیکن زیادہ نہیں‘‘ میں نے پوچھا ’’آپ کی عمر کتنی ہے؟‘‘ اس نے جواب دیا ’’22 سال‘‘ میں نے پوچھا آپ نے ان 22 برسوں میں کل کتنی کتابیں پڑھیں؟ اس نے جواب میں کتابیں گننا شروع کر دیں‘ نوجوان نے قرآنی قاعدے سمیت کل سات کتابیں پڑھی تھیں۔

میں نے جواب دیا ’’بیٹا پھر آپ اچھے لکھاری نہیں بن سکیں گے‘‘ اس نے پوچھا ’’کیوں؟‘‘ میں نے عرض کیا ’’لکھنے کے لیے پڑھنا ضروری ہے اور آپ مطالعہ نہیں کرتے‘‘ تیسرے نوجوان نے پوچھا ’’میں اپنی کمیونی کیشن سکل کیسے امپروو کر سکتا ہوں‘‘ میں نے عرض کیا ’’آپ کے پاس اگر کہنے کے لیے کچھ ہو گا تو آپ کو بولتے ہوئے کوئی پریشانی نہیں ہو گی‘ آپ اپنے ذہن میں مواد جمع کر لیں‘ آپ میں کمیونی کیشن سکل پیدا ہو جائے گی‘‘۔

یہ گفتگو جاری تھی کہ سوا چھ بج گئے‘ میرے دوست پہنچ گئے‘ میں نے ان تینوں نوجوانوں کو دروازے پر چھوڑا‘ ہاتھ ملایا اور اپنی اگلی مصروفیت میں پھنس گیا‘ مجھے دو گھنٹے بعد نوجوانوں نے موبائل پر میسیج بھجوانا شروع کر دیے‘ ان کا کہنا تھا‘ وہ میرے رویئے سے بہت مایوس ہوئے ہیں‘ وہ دور سے آئے تھے لیکن میں نے انھیں وقت نہیں دیا‘ میں نے ان کے سوالوں کے جواب بھی تفصیلی نہیں دیے اور میرا رد عمل بھی منفی تھا‘ میں نے ان سے معذرت کی اور اس کے بعد عرض کیا ’’آپ نے پانچ بجے آنا تھا لیکن آپ ایک گھنٹہ لیٹ آئے‘ میں نے سوا چھ بجے کسی اور کو وقت دے رکھا تھا اور سات بجے میری ریکارڈنگ تھی‘ آپ خود فیصلہ کیجیے‘ میں کیا کرتا‘‘۔ وہ میرے جواب سے مطمئن نہیں ہوئے‘ وہ آج بھی مجھے میسیج کرتے ہیں اور ان کے پیغام کا صرف ایک ہی مطلب ہوتا ہے ’’آپ بہت برے انسان ہیں‘‘ اور میں ان سے معذرت کرتا ہوں۔

یہ ہمارا عمومی معاشرتی رویہ ہے‘ ہم بہت جلد برا منا جاتے ہیں اور دوسروں کو برا بھلا کہنا شروع کر دیتے ہیں‘ آپ پاکستان کے کسی حصے میں چلے جائیں‘ آپ کو لوگ ایک دوسرے سے الجھتے نظر آئیں گے‘ آپ کو لوگ گلیوں‘ بازاروں اور سڑکوں پر ایک دوسرے سے دست و گریبان بھی دکھائی دیں گے اور آپ کسی محفل میں چلے جائیں‘ آپ کو وہاں بھی لوگ لوگوں کے بارے میں برے ریمارکس دیتے نظر آئیں گے‘ ایسا کیوں ہے؟ اس کی واحد وجہ برداشت کی کمی ہے‘ ہمارا معاشرہ عدم برداشت کی انتہا کو چھو رہا ہے‘ ہم معمولی اور جائز بات بھی برداشت نہیں کرتے‘ ہم عدم برداشت کی وجوہات میں پڑنے کی بجائے اس کے حل کی طرف آتے ہیں کیونکہ ہمارے گرد آباد ہزاروں لاکھوں لوگ عدم برداشت کی نشاندہی تو کرتے ہیں لیکن کوئی اس کا حل نہیں بتاتا۔

میں بھی صرف نشاندہی کر کے آپ کا وقت ضایع نہیں کرنا چاہتا چنانچہ ہم حل کی طرف آتے ہیں۔ ہم اگر اپنی زندگی میں تین کام کر لیں تو ہماری برداشت میں اضافہ ہو جائے گا‘ ہم دوسروں سے الجھنا اور دوسروں کو برا بھلا کہنا بند کر دیں گے‘ ہم اگر اپنی کمیونی کیشن امپروو کر لیں‘ ہم اگر دوسروں سے مخاطب ہونے سے قبل پوری تیاری کر لیں تو ہماری برداشت میں اضافہ ہو جائے گا مثلاً ہم اگر اسٹوڈنٹ ہیں اور ہم استاد سے مخاطب ہو رہے ہیں تو ہم اپنا سوال تیار کر لیں‘ ہمارا سوال جامع‘ مختصر اور سیدھا ہونا چاہیے‘ یہ سیدھا‘ مختصر اور جامع سوال فضا کو بہتر بنا دے گا‘ سوال اگر گنجلک‘ لمبا اور بکھرا ہوا ہو گا تو استاد بھی پریشان ہو جائے گا‘ آپ کے کلاس فیلوز بھی آپ کا مذاق اڑائیں گے اور یوں آپ کی برداشت کا امتحان شروع ہو جائے گا‘ ہم میں سے زیادہ تر لوگ بولنے سے قبل یہ فیصلہ نہیں کرتے ’’ہم نے پوچھنا ہے یا بتانا ہے‘‘۔

ہم پوچھتے پوچھتے بتانا شروع کر دیتے ہیں اور بتاتے بتاتے پوچھنے لگتے ہیں اور کمیونی کیشن کا یہ کنفیوژن ہمیں بالآخر جھگڑے کی طرف لے جاتا ہے‘ آپ پوچھنا چاہتے ہیں تو صرف پوچھیں اور بتانا چاہتے ہیں تو صرف بتائیں‘ کمیونی کیشن میں سننے کے 80 نمبر ہوتے ہیں اور بولنے کے 20۔ آپ اگر اچھے سامع ہیں تو آپ کامیاب کمیونی کیٹر ہیں اور آپ اگر کانوں سے کم اور زبان سے زیادہ کام لیتے ہیں تو پھر آپ کی کمیونی کیشن ناقص ہے‘ اللہ تعالیٰ نے انسان کو کان دو اور زبان ایک دے رکھی ہے‘ اس کا کیا مطلب ہے؟ اس کا مطلب ہے آپ زبان کے مقابلے میں کانوں سے کم از کم دگنا کام لیں لیکن ہم کانوں کی بجائے زبان زیادہ استعمال کرتے ہیں اور یوں ہمارے لیے مسائل پیدا ہو جاتے ہیں اور زبان کے بارے میں کہا جاتا ہے۔

اس میں ہڈی نہیں ہوتی لیکن یہ آپ کی تمام ہڈیا تڑوا سکتی ہے اور یہ کام ہمارے ساتھ روز ہوتا ہے‘ دنیا کی بڑی سے بڑی بات ایک منٹ میں مکمل ہو سکتی ہے اور آپ گیارہ لفظوں میں اپنا پورا مافی الضمیر بیان کر سکتے ہیں‘ آپ گیارہ لفظوں اور ایک منٹ کا استعمال سیکھ جائیں‘ آپ کا مسئلہ حل ہو جائے گا‘ آپ کو اگر کسی سے کوئی کام ہو تو آپ وہ کام کاغذ پر لکھ کر لے جائیں‘ آپ متعلقہ شخص کا ٹیلی فون نمبر‘ ایڈریس اور عہدہ بھی لکھ کر لے جائیں اور یہ کاغذ اس صاحب کے سامنے رکھ دیں جس سے آپ کام کروانا چاہتے ہیں‘ آپ کے کام کے امکانات نوے فیصد ہو جائیں گے۔

موبائل پر جب بھی پیغام بھجوائیں‘ اپنا نام ضرور لکھیں‘ وائس میل میں بھی اپنا نام ریکارڈ کروائیں کیونکہ بعض اوقات ریکارڈنگ میں خرابی کی وجہ سے دوسرا شخص آپ کی آواز شناخت نہیں کر پاتا اور موبائل سیٹ میں خرابی یا سیٹ تبدیل ہونے کی وجہ سے اکثر اوقات دوسرے شخص کی کانٹیکٹ لسٹ کام نہیں کرتی اور یوں کمیونی کیشن گیپ پیدا ہو جاتا ہے اور آخری ٹپ مطالعے اور مشاہدے کے بغیر اچھی کمیونی کیشن ممکن نہیں‘ آپ کے پاس معلومات نہیں ہوں گی تو آپ کی گفتگو بے ہنگم لفظوں کے سوا کچھ نہیں ہو گی‘ آپ مطالعہ بڑھائیں آپ کی کمیونیکیشن اچھی ہو جائے گی۔

دنیا بھر کے سماجی‘ نفسیاتی اور دماغی ماہرین متفق ہیں جو انسان جسمانی مشقت نہیں کرتا اس کے جسم میں ایسے کیمیکل پیدا ہو جاتے ہیں جو اس میں ٹینشن‘ انیگزائیٹی اور ڈپریشن پیدا کر دیتے ہیں اور یہ تینوں بیماریاں آپ میں عدم برداشت کا باعث بنتی ہیں‘ دنیا میں سب سے کم لڑائیاں جم‘ سوئمنگ پولز اور کھیل کے میدانوں میں ہوتی ہیں‘ آپ اگر اپنی برداشت کو بڑھانا چاہتے ہیں تو آپ ایکسرسائز کو اپنا معمولی بنا لیں‘ آپ کی عمر اگر 45 سال سے کم ہے تو آپ روزانہ کم از کم 45 منٹ دوڑ لگائیں‘ آپ جم میں مسل ایکسرسائز کریں‘ وزن اٹھائیں‘ ٹریڈ مل پر واک کریں‘ فٹ بال‘ ہاکی‘ اسکواش‘ بیڈمنٹن یا پھر ٹینس کھیلیں اور آپ اگر 45 سال سے زیادہ ہیں تو آپ واک کریں‘ سوئمنگ کریں۔

ہفتے میں ایک بار مساج کروائیں‘ یوگا کریں اور بیڈ منٹن یا سکوائش کھیلیں‘ چائے خانوں‘ کافی شاپس یا پارکس میں بیٹھنا‘ سورج غروب ہوتے یا طلوع ہوتے دیکھنا‘ مہینے میں دو تین لمبی چھٹیاں کرنا‘ پہاڑوں پر چلے جانا‘ سمندر‘ دریا یا جھیل کے کنارے سیر کرنا یا جنگلوں میں چلے جانا بھی ایکسرسائز کا حصہ ہے‘ آپ مہینے میں ایک دو دن یہ بھی کریں‘ آپ اگر زیادہ مذہبی نہیں ہیں تو آپ معیاری فلمیں بھی دیکھیں اور میوزک بھی سنیں‘ یہ دونوں چیزیں اعصاب پر اچھا اثر ڈالتی ہیں‘ آپ روزانہ پانچ چھ کپ گرین ٹی بھی پیئیں‘ یہ بھی برداشت میں اضافہ کرتی ہے‘ گوشت ہفتے میں ایک بار کھائیں‘ سبزیاں‘ دالیں اور برائون بریڈ بھی آپ کا موڈ اچھا رکھتی ہے۔

ہمارے معاشرے میں پاگل پن بڑھتا جا رہا ہے چنانچہ آپ لوگوں سے جتنا کم ملیں گے آپ کا موڈ اتنا اچھا رہے گا‘ آپ کم سے کم لوگوں سے ملیں‘ کنجوس‘ دھوکے باز اور جھوٹے لوگوں سے پرہیز کریں‘ یہ لوگ اگر دکاندار ہیں تو آپ ان سے سودا نہ خریدیں کیونکہ یہ آپ کا موڈ خراب کر دیں گے‘ آپ صبح اسکولوں اور دفتروں کا وقت شروع ہونے سے قبل سڑک سے گزر جائیں اور شام کو چھٹی کے وقت سڑک پر نہ آئیں کیونکہ ’’رش آورز‘‘ کے دوران ڈرائیونگ بھی آپ کے اعصاب کو متاثر کرتی ہے‘ آپ کے دوست بہت محدود ہونے چاہئیں اور یہ دوست بھی خوش اخلاق اور قہقہے باز ہوں تو اللہ کا شکر ادا کریں کیونکہ ہمارے دوست بھی اکثر اوقات ہمارے چڑچڑے پن کی وجہ ہوتے ہیں۔

ہم میں سے نوے فیصد لوگ عدم تحفظ کا شکار ہیں‘ کل کیا ہو گا؟ یہ نوکری چلی گئی تو ہمارا کیا بنے گا؟ میرا بچہ فیل نہ ہو جائے‘ میرے نمبر اچھے نہ آئے تو کیا ہو گا؟ بم نہ پھٹ جائے‘ چھت نہ گر جائے‘ گاڑی میں پٹرول ختم نہ ہو جائے‘ میرا ویزہ منسوخ نہ ہو جائے‘ باس ناراض نہ ہو جائے‘ چوری نہ ہو جائے‘ ڈاکہ نہ پڑ جائے‘ ٹیکس والے نہ آ جائیں‘ تربوز کھا کر پانی پی لیا مجھے ہیضہ تو نہیں ہو جائے گا‘ بیگم ناراض نہ ہو جائے‘ لوگ میرے کپڑوں کا مذاق تو نہیں اڑائیں گے اور پتہ نہیں میری نمازیں قبول بھی ہوں گی یا نہیں! یہ سارے شک‘ یہ سارے اعتراضات احساس عدم تحفظ کا ثبوت ہیں‘ ہم جب عدم تحفظ کا شکار ہوتے ہیں تو ہم چڑچڑے ہو جاتے ہیں اور یہ چڑچڑا پن ہماری برداشت کو کھا جاتا ہے۔

عدم تحفظ سے نکلنے کے بھی دو طریقے ہیں‘ پہلا طریقہ آپ اللہ تعالیٰ پر اپنا ایمان پختہ کر لیں‘ یہ بات پلے باندھ لیں دنیا میں ہر کام اللہ تعالیٰ کی مرضی سے ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ کسی انسان کے لیے کبھی برا نہیں کرتا‘ یہ ایمان آپ کو اندیشوں کے سیاہ جنگل سے نکال لے گا۔ دو‘ ہمارے عدم تحفظ کا 80 فیصد حصہ معیشت‘ دس فیصد صحت اور دس فیصد رشتوں سے وابستہ ہوتا ہے‘ آپ اپنے کام کو 80 فیصد اہمیت دیں اور صحت اور رشتوں کو دس فیصد وقت دیں آپ عدم تحفظ سے نکل آئیں گے۔ اپنی آمدنی کو چار حصوں میں تقسیم کریں‘ دو حصے خاندان پر خرچ کریں۔

ایک حصہ اپنی ذات پر لگائیں اور ایک حصہ بچت کریں‘ بچت کو سرمایہ کاری میں تبدیل کرتے رہا کریں‘ آپ کے پاس دس روپے بچے ہیں تو آپ انھیں کسی ایسی جگہ لگا دیں جہاں اس کی ویلیو میں اضافہ ہوتا رہے یا پھر یہ آپ کو کما کر دینے لگیں‘ اپنی ذات پر خرچ کرنے والے حصے کو سیکھنے پر استعمال کریں‘ نئے کورس کریں‘ اپنی صلاحیت میں اضافہ کریں‘ صحت پر خرچ کریں‘ کپڑے‘ جوتے اور پرفیوم خریدیں اور دو حصوں سے خاندان کو خوش حال بنائیں‘ آپ کا موڈ اچھا رہے گا‘ آپ عدم تحفظ سے نکل آئیں گے اور یوں آپ کی برداشت میں اضافہ ہو جائے گا۔

آپ اگر عدم برداشت کا شکار ہیں تو بے مزہ زندگی آپ کا کم سے کم نقصان ہوتی ہے‘ آپ عدم برداشت کے ساتھ زندگی کو انجوائے نہیں کر سکتے اور اگر زندگی میں مزہ نہ ہو تو زندگی موت سے بدتر ہو جاتی ہے۔

Patience by Javed Chaudhry

Enhanced by Zemanta

No comments:

Powered by Blogger.